← Nashri-TaqreerenNashri-Taqreeren
رسول اللہ کا حسن سلوک
Urdu · 11 min
مذہب کی اصل محبت ہے، خدا کے ساتھ بھی اور بندوں کے ساتھ بھی۔ انسان کے اندر سب سے اعلیٰ جذبہ محبت کا جذبہ ہے۔ اس جذ بہ کو ایک آدمی ایک طرف خداکے ساتھ اور دوسری طرف بندوں کے ساتھ خاص کر دے تو اسی کا نام مذ ہب ہوتا ہے۔ خدا کے ساتھ انسان کی محبت عبادت کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے ۔ اور بندوں کے ساتھ اس کی محبت اخلاق اور حسن سلوک کی صورت میں ۔
اسلام میں اخلاقیات کو اتنی زیادہ اہمیت دی گئی ہے کہ حکم ہوا ہے کہ تم بر تر اخلاق کو اختیار کرو قرآن میں اس کو خلق عظیم (68:4) کہا گیا ہے۔ یعنی تم ایسے نہ بنو کہ دوسرا آدمی جب تمہارے ساتھ اچھا سلوک کرے اس وقت تم اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو بلکہ تمہارا طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ دوسرا آدمی بر اسلوک کرے تب بھی تم اوپر اٹھ کر اس کے ساتھ اپنے اچھے سلوک جاری رکھو۔ آپ نے فرمایاکہ تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اخلاق کے اعتبار سے اچھا ہے إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا(صحیح البخاری، حدیث نمبر 6035)۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق کے ساتھ رہو خَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 1987)۔ ایک قبیلہ نے اپنا آدمی مدینہ بھیجا کہ جا کر دیکھو کہ جو نئے پیغمبر ظا ہر ہوئے ہیں وہ لوگوں کو کس بات کی تعلیم دیتے ہیں۔ وہ آدمی آیا اور آپ کے ساتھ کچھ دن رہ کہ آپ کو دیکھا۔ پھر اپنے قبیلہ میں واپس جا کر لوگوں سے کہا کہ میں نے دیکھا کہ وہ لوگوں کو اچھے اخلاق کی نصیحت کرتے ہیں رَأَيْتُهُ يَأْمُرُ بِمَكَارِمِ الأَخْلَاقِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3861)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیغمبر اسلام پر غار حرا میں پہلی وحی آئی ۔ آپ وہاں سے گھر آئے تو اس نئے تجربہ کی وجہ سے آپ کے اوپر دہشت طاری تھی ۔ آپ چادر اوڑھ کر لیٹ گئے۔ اس وقت آپ کی اہلیہ خدیجہ نے آپ سے کہا کہ آپ کو خدا ضائع نہیں کرے گا۔ اس لیے کہ آپ غریبوں کی مدد کرتے ہیں اور یتیموں اور بیواؤں کے کام آتے ہیں (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3)۔ اس سے معلوم ہو ا کہ کمزوروں کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرنا آپ کی ایسی صفت ہے جو پیغمبر بننے سے پہلے آپ کی شخصیت کا امتیازی نشان بن چکی تھی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم غریبوں اور یتیموں کا اتنازیادہ خیال کرتے تھے کہ آپ کی پوری زندگی میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی غریب اور کمزور فرد آپ سے کسی قسم کی مدد چاہے اور آپ اس کی مددنہ کریں۔ ایسے لوگوں کی عزت افزائی کے لیے آپ ہمیشہ ان کو اپنے قریب بٹھاتے تھے۔ بعض اوقات ایسا ہوا کہ مسجد میں نماز کھڑی ہو رہی ہے ۔ لوگ صف باندھ کر کھڑے ہو چکے ہیں۔ اتنے میں ایک غریب آدمی نے صف سے نکل کر کہا کہ میرا ایک کام تھا۔ کہیں میں اسے بھول جاؤں ۔ اس لیے اگر آپ اجازت دیں تو میں جاؤں اور کام کر آؤں۔ آپ نے نماز روک دی ۔ اس آدمی سے کہا کہ جاؤ۔ اپنا کام پورا کر کے آؤ ۔ وہ آدمی جب کام پورا کر کے دوبارہ واپس آیا اس کے بعد آپ نےنماز شروع فرمائی، آپ کے اس مزاج کو مسدس حالی میں اس طرح نظم کیا گیا ہے
unverifiedAttribution could not be verified automatically
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
کمزور طبقات کے لیے آپ اتنا زیادہ نرم تھے کہ ان کی گستاخی کو نظر اندازکر کے ان کے ساتھ بہتر سلوک کرتے تھے ۔ آپ کے رفیق انس بن مالک بتاتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم راستہ پر چل رہے تھے۔ میں بھی ساتھ تھا۔ آپ اس وقت ایک نجرانی چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ راستہ میں ایک غریب آدمی آیا۔ اس نے آپ کی چادر کا ایک سرا پکڑا ۔ اس کو زور سے جھٹکا دیا اور کہا کہ تمہارے پاس جو مال ہے وہ تمہارا نہیں ہے۔ اس میں سے مجھے دو ۔ اس غریب آدمی نے کھلی ہوئی گستاخی کی تھی۔ مگر آپ نے اس کو کچھ نہیں کہا بلکہ آپ مسکرا دئے اور حکم دیا کہ اس شخص کی ضرورت پوری کی جائے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3149)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ہمدردی اور محبت کے جذ بہ کا سب سے بڑا امتحان اس وقت ہوتا ہے جبکہ دوسروں کی طرف سے دشمنی اور ایذارسانی کا معاملہ کیا گیا ہو ۔ مگر اسلام میں ایسے لوگوں کے ساتھ رد عمل کا سلوک کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ چنانچہ قرآن میں حکم دیا گیا کہ دشمن کے ساتھ بھی اچھاسلوک کرو (فصلت، 41:34)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیغمبر اسلام کا وطن مکہ تھا۔ مکہ کے لوگوں نے آپ کے ساتھ اتنی دشمنی کی کہ آپ کو مکہ سے نکال دیا۔ اس کے بعد آپ تین سو میل دور جا کر مدینہ میں آباد ہو گئے ۔ مگر مکہ والوں نے پھر بھی آپ کو نہیں چھوڑا ۔ انھوں نے آپ کے اوپر چڑھائی کی اور آپ پر مسلح حملہ کر کے آپ کو اور آپ کے مشن کو ختم کر دینا چاہا۔ مگر اللہ نے آپ کی مدد کی۔ اور آپ اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں کامیاب ہوئے۔
اس کے بعد وہ وقت آیا کہ جس مکہ سے آپ کو نکالا گیا تھا وہاں دوبارہ آپ فاتحانہ انداز سے داخل ہوئے ۔ اس وقت مکہ والے آپ کے سامنے لائے گئے۔ وہ لوگ نہ صرف دشمن تھے بلکہ جنگی مجرم کی حیثیت رکھتے تھے۔ عام رواج کے مطابق وہ اس قابل تھے کہ انھیں قتل کر دیا جائے ۔ مگر آپ نے نہ ان کو گرفتار کیا۔ نہ کوئی سزا دی ۔ حتی کہ زبان سے بھی ان کو برا بھلا نہیں کہا۔ بلکہ سادہ طور پر اعلان کر دیا کہ آج رحمت کا دن ہے۔ آج سب لوگوں کوآزاد کیا جاتا ہے (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 412)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسلام کی تاریخ میں ایک جنگ کو حنین کی جنگ کہا جاتا ہے۔ وہ اس طرح ہوئی کہ پیغمبر اسلام اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ سے طائف جارہے تھے۔ درمیان میں ایک قبیلہ کے لوگوں نے اچانک آپ پر حملہ کر دیا۔ آپ نے اپنے بچاؤ کے لیے جنگ کی ۔ آخر کار آپ کو فتح حاصل ہوئی ۔ جارح قبیلہ کے چھ ہزار آدمی گرفتار ہو کر آپ کے سامنے لائے گئے۔ ان سے بھی آپ نے کوئی انتقام نہیں لیا۔ بلکہ سب کو خوش اسلوبی کے ساتھ آزاد کر دیا ۔
اسلام میں اخلاقی اصول سادہ طور پر محض ایک فلسفیانہ اصول نہیں ہے، بلکہ اس کی نہایت گہری بنیادیں ہیں ۔ اس کی بنا پر اسلام میں اخلاقی سلوک صرف دوسروں کے ساتھ رعایت کا معاملہ نہیں رہتا۔ بلکہ وہ خود صاحب معاملہ کی اپنی ضرورت بن جاتا ہے۔ اسلام کے مطابق، موجودہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں آدمی کی پوری زندگی امتحان اور آزمائش کی زندگی ہے ، یہ امتحان سب سے زیادہ جس چیز میں لیا جاتا ہے وہ معاملات ہیں۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ دین معاملہ کا نام ہے (الدِّينُ الْمُعَامَلَةُ)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ہر آدمی کے اوپر خدا کی نگرانی قائم ہے۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ کوئی شخص دوسرے انسانوں کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے، اس اعتبار سے غریبوں اور یتیموں اور کمزور لوگوں کی خاص اہمیت ہے۔ غریب آدمی اپنی غربت کی وجہ سے لوگوں کی نظر میں غیر اہم بن جاتا ہے۔ لوگ ایسے آدمی کو نظر انداز کرنے لگتے ہیں۔ اس لیے غریبوں اور کمزوروں کے ساتھ اچھا اخلاق برتنے کے لیے خصوصی کوشش درکار ہوتی ہے۔ اسی لیے ایسے لوگوں کے ساتھ اچھا اخلاق برتنے کا ثواب بھی بہت بڑھ جاتا ہے ۔
اسلام کے مطابق کسی آدمی کی اصل جانچ غریبوں اور کمزوروں ہی کے ساتھ حسن سلوک کرنے میں ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملہ میں اپنی زندگی سے نہایت اعلیٰ نمونہ پیش کیا ۔ جو شخص جتنا زیادہ غریب اور کمزور ہوتا ، آپ ہمیشہ اتنا ہی زیادہ اس کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ فرماتے۔ اسی طرح دشمن کے معاملہ میں لوگوں کے اندر انتقام کا جذبہ آجاتا ہے اور اس بنا پر اس کے ساتھ حسن سلوک کر نا سخت مشکل ہو جاتا ہے ۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول اور اپنے عمل سے بتایا کہ دشمن سے بھی دوست جیسا سلوک کرو ۔ دوست سے دوست جیسا سلوک کرنے میں اگر ایک درجہ کا ثواب ہے ، تو دشمن سے دوست جیسا سلوک کرنے میں سو درجہ کا ثواب۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
نوٹ یہ تقریر 28 جولائی 1996 کو آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے نشر کی گئی۔
باب دوم