Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Nashri-Taqreeren
Nashri-Taqreeren

نبی رحمت

Urdu · 10 min

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن میں رحمتہ للعالمین (21:107) کہا گیا ہے۔ دوسری جگہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے رسول میں تمہارے لیے اسوہ حسنہ (33:21) موجود ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف اپنی ذات میں رحمت ہیں۔ بلکہ وہ رحمت یا رحم دلانہ سلوک کے لیے بہترین نمونہ بھی ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آپ نے قرآن اور حدیث کی صورت میں ہمارے لیے رحمت کا ہدایت نامہ بھی دیا ۔ اسی کے ساتھ آپ نے رحمت والے طریقوں پر چل کر اس کا بہترین عملی نمونہ بھی قائم فرمایا۔ آپ قول کے اعتبار سے بھی نبی رحمت تھے اور عمل کے اعتبار سے بھی نبی رحمت۔

رحمت یارحم دلا نہ سلوک کے دو درجے ہیں۔ ایک ہے معتدل حالات میں لوگوں کے ساتھ رحم دلا نہ سلوک کرنا۔ دوسرا ہے غیر معتدل حالات میں رحم دلانہ سلوک پر قائم رہنا۔ غیر معتدل حالات میں رحمدلی کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کی طرف سے مخالفانہ سلوک کا تجربہ ہو تب بھی آپ ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ رد عمل کی نفسیات سے بچ کر آپ اپنے مثبت رویہ پر قائم رہیں۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں دونوں قسم کے رحیمانہ اخلاق کی مثالیں کمال درجہ میں پائی جاتی ہیں۔ آپ سے عام حالات میں بھی لوگوں کو رحمت و شفقت کا تجربہ ہوا اور غیر معمولی حالات میں بھی۔ یہاں ہم دونوں قسم کے اخلاق کی کچھ مثالیں بیان کریں گے۔

حضرت انس رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے۔ وہ دس سال تک آپ کی خدمت میں رہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس پوری مدت میں آپ نے کبھی مجھ کو نہ کسی پر جھڑ کا اور نہ کسی بات کا حکم دیا۔ اور نہ کبھی یہ فرمایا کہ تم نے فلاں کام کیوں نہیں کیا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2309)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آپ لوگوں کو نصیحت کرتے تو ایسا انداز اختیار فرماتے کہ کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ آپ کو جب کسی کے بارے میں یہ اطلاع ملتی کہ اس نے فلاں کام غلط کیا ہے تو آپ اس کا نام لے کر برا نہ کہتے۔ بلکہ یہ فرماتے کہ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسا کہتے ہیں یا ایسا کرتے ہیں (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4788)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آپ آدمی کے قول و فعل پر ملامت تو فرماتے مگر اس آدمی کا نام ظاہر نہ فرماتے۔

حضرت عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ ایک بار دیہات کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے پو چھا کہ میں اپنے خادم کو دن میں کتنی بار معاف کروں (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 5164)۔ اور کتنی بار اس کی غلطی سے در گزر کروں۔ آپ نے فر مایا کہ تم ستر مرتبہ در گذر کرو۔ اسی طرح آپ نے فرمایا کہ اے لوگو ، مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ سوکھنے سے پہلے ادا کر دو (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 2443)۔

hadithQuotes a hadith

رحمت کی صفت آپ کے اندر بے پناہ تھی۔ آپ کا رحیمانہ اخلاق اور آپ کا رحم دلانہ سلوک اس وقت بھی پوری طرح باقی رہتا تھا جبکہ دوسروں کی طرف سے آپ کو برائی اور زیادتی کا تجربہ ہوا ہو ۔ آپ رو عمل کی نفسیات سے آخری حد تک بلند تھے۔

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ایک بار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ راستہ چل رہا تھا۔ اس وقت آپ ایک نجرانی چادر اوڑھے ہوئے تھے جس کے کنارے موٹے تھے۔ راستہ میں آپ کی ملاقات ایک دیہاتی آدمی سے ہوئی۔ اس آدمی کو کچھ ضرورت تھی۔ مگر اس نے شرافت کے ساتھ سوال کرنے کے بجائے برا انداز اختیار کیا۔ اس نے آپ کی چادر زور سے کھینچی ۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا تو چادر کھینچنے کی وجہ سے آپ کی گردن پرنشان پڑ گئے تھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کے بعد دیہاتی نے کہا کہ اے محمد، اللہ کا مال جو تمہارے پاس ہے، اس میں سے کچھ مال مجھے دو۔ آپ نے دیہاتی کو کوئی تنبیہ نہیں کی۔ آپ اس کو دیکھ کر مسکرائے اور پھر اس کومال دینے کا حکم فرمایا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3149)۔

quoted sourceQuoted from another author or source

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی تاجر سے کچھ قرض لیا تھا ، وہ یہودی ایک روز آیا۔ اور نہایت برے انداز میں اپنے قرض کا مطالبہ کیا۔ اس نے نہ صرف آپ کے ساتھ سخت کلامی کی بلکہ یہ کہا کہ عبدالمطلب کے خاندان والے سب ایسے ہی نا دہندہوتے ہیں۔ حضرت عمر فاروق یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ ان کو غصہ آ گیا۔ وہ یہودی کو ڈانٹنے لگے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر کو روکا اور کہا کہ اے عمر، میں اور یہ شخص تمہاری طرف سے دوسرے رویہ کے زیادہ مستحق تھے۔ تم مجھ کو جلد قرض ادا کرنے کا مشورہ دیتے اور اس آدمی کو نرم طریقہ سے تقاضا کرنے کو کہتے ۔ اس وقت قرض کی ادائیگی کی مدت میں ابھی تین دن باقی تھے ۔ پھر بھی آپ نے حضرت عمر کو حکم دیا کہ جاؤ ، ان کا قرض ادا کر دو (مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 6547)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک بار کا واقعہ ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ کی مسجد میں تھے جس کو مسجد نبوی کہا جاتا ہے ۔ ایک دیہاتی شخص وہاں آیا۔ وہ مسجد کے ایک حصہ میں کھڑا ہو کر پیشاب کرنے لگا۔ صحابہ کرام نے دیکھا تو وہ سخت غصہ ہوئے اور اس آدمی کو مارنے کے لیے دوڑے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو منع کر دیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آپ نے کہاکہ یہ ایک جاہل آدمی ہے۔ وہ مسجد کے آداب کو نہیں جانتا۔ تم اسے چھوڑ دو۔ البتہ جس مقام پر اس نے پیشاب کیا ہے وہاں پانی بہا کر اس کو پاک صاف کر دو۔ پھر آپ نے اپنے اصحاب کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا  تمہار ا کام لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنا ہے ، لوگوں کو مشکل میں ڈالنا اور ان کے لیے دشواری پیدا کر ناتمہارا کام نہیں (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6128)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی بتاتی ہے کہ لوگوں کی بدخواہی کے باوجود آپ ان کے خیر خواہ بنے رہے۔ آپ کے غصہ پر آپ کا تحمل ہمیشہ غالب رہتا تھا۔ بڑی سے بڑی اشتعال انگیزی کے باوجود آپ کبھی مشتعل نہیں ہوتے تھے ۔ لوگوں کی سخت کلامی کا جواب بھی آپ نرم الفاظ میں دیتے تھے۔ لوگ آپ کے راستہ میں کانٹے بچھاتے مگرآپ ان کے حق میں ہمیشہ اچھی دعا کرتے۔

حضرت جریر بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جو آدمی نرمی کی صفت سے محروم ہو جائے وہ گویا سارے خیر سے محروم کر دیا گیا(صحیح مسلم، حدیث نمبر2592)۔ ایک اور روایت کے مطابق ، آپ نے فرمایا کہ اللہ نے مجھ پر یہ وحی بھیجی ہے کہ تم لوگ تواضع اختیار کرو کوئی شخص کسی دوسرے شخص پر فخر نہ کرے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2865)۔ کوئی شخص کسی دوسرے شخص پر زیادتی نہ کرے۔ حضرت جریر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم رہیں گے جن کے دلوں میں دوسرے انسانوں کے لیے رحم نہیں ہے۔ اور جو لوگ دوسرے انسانوں کے اوپر مہربانی نہیں کرتے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7376)۔

hadithQuotes a hadith

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے رحم دلانہ کردار کا جونمونہ پیش کیا وہ کوئی افسانوی کردار نہیں ہے بلکہ حقیقی کردار ہے۔ وہ تاریخ کا ایک ثابت شدہ واقعہ ہے۔ آپ کی زندگی کایہ پہلو آپ کے اسوہ حسنہ کو اتنا زیادہ بڑھا دیتا ہے کہ پوری انسانی تاریخ میں اس کی کوئی دوسری مثال موجود نہیں۔ آپ اعلیٰ اخلاق کا مثالی نمونہ بھی ہیں اور آخر ی نمونہ بھی ۔

نوٹ  یہ تقریر 11 ستمبر 1992کو آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے نشر کی گئی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content