صحیح البخاری میں حضرت ابوہریرہ کے حوالے سے ایک روایت ان الفاظ میں نقل ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى، يَقُولُونَ يَثْرِبُ وَهِيَ الْمَدِينَةُ». صحیح البخاری، حدیث نمبر 1871۔ یعنی: مجھے ایک بستی کی طرف ہجرت کا حکم دیا گیا ہے، وہ بستیوں کو کھا جائے گی؛ لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں، اور وہ مدینہ ہے۔ امام بخاری نے یہ حدیث اپنی صحیح میں "کتاب فضائل المدینہ، باب فضل المدينة وأنها تن في الناس" کے تحت درج کی ہے۔
اب بعد کے لوگ اگر اس کو تخلیدی ذہن کے تحت دیکھیں تو وہ اس سے صرف فضائلِ مدینہ کا مسئلہ نکال لیں گے، نکالیں گے۔ چنانچہ حدیث کے شارحین نے اس روایت کے تحت زیادہ تر اسی قسم کی بحثیں کی ہیں۔ مثلاً اکثر شارحینِ حدیث اس کے حوالے سے یہ کہتے ہیں کہ مدینے کو یثرب کہنا مکروہ ہے؛ اس کو صرف مدینہ یا مدینہ منورہ کہنا چاہیے۔ جیسا کہ معلوم ہے، قرآن میں مدینے کے لیے "یثرب" کا لفظ استعمال ہوا ہے، سورہ نمبر 33، آیت 13۔
اس قرآنی استعمال سے مذکورہ تاویل پر زد پڑتی ہے، چنانچہ اس کی توجیہ بھی ذاتی خیاص کے تحت یہ کر لی گئی کہ وہ صرف غیر مسلموں کے قول کی حکایت ہے (فتح الباری، جلد 4، صفحہ 105)۔ لیکن اگر تخلید اسلاف سے آگے بڑھ کر اس حدیث پر مجتہدانہ انداز سے غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی طریقہ کار کا ایک اہم اصول بیان کیا ہے۔ اسی اصول کو ایک نظر میں "میدانِ عمل کی تبدیلی" کہا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب مکے میں اہلِ اسلام کے لیے احوال سخت ہو گئے، تو اللہ نے حکم دیا کہ تم مکے سے نقلِ مکانی کر کے عرب کے دوسرے شہر یثرب چلے جاؤ؛ وہاں تم کو مکے کے مقابلے میں موافق حالات ملیں گے، یہاں تک کہ وہ اسلام کا مرکز بن جائے گا، اور لوگ اس کو یثرب کے بجائے مدینۃ الرسول یا مدینۃ الاسلام کہنے لگیں گے۔
موجودہ دنیا میں عملی کامیابی کا یہ ایک نہایت قیمتی اصول ہے۔ اس اصول کو "ہجرت" کہا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مقام پر تم کو موافق حالات نہ مل رہے ہوں، تو تم وہاں سے نکل کر دوسرے مقام پر چلے جاؤ؛ ٹکراؤ کے طریقے سے مقصد حاصل نہ ہو رہا ہو، تو مفاہمت کے طریقے سے اپنا مقصد حاصل کرو؛ تشدد کے ذریعے کامیابی نہ مل رہی ہو، تو امن کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ واقعات بتاتے ہیں کہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنما اپنے تخلیدی ذہن کی بنا پر اس عظیم حکمت کو دریافت نہ کر سکے۔
اس کے نتیجے میں انہیں زبردست نقصان اٹھانا پڑا۔ مثلاً وہ مختلف مقامات پر اسلام کے نام سے پرتشدد تحریکیں چلا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں مسلمان بے شمار جانی اور مالی نقصان سے دوچار ہو رہے ہیں۔ مگر اپنے تخلیدی ذہن کی بنا پر وہ مذکورہ حکمتِ نبوی کو دریافت نہ کر سکے، حالانکہ اگر ان کے اندر اجتہادی ذہن ہوتا تو مذکورہ حدیث میں ان کو اس کا حل معلوم ہو جاتا۔ اس کے بعد وہ پرتشدد طریقہ کار کو چھوڑ کر پرامن طریقہ کار کا انداز اختیار کر لیتے۔
اور پھر قانونِ فطرت کے مطابق وہ کامیابی کے مرحلے تک پہنچ جاتے۔ مذکورہ مثالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ تخلیدی فکر کیا ہے اور اجتہادی نظر کیا؟ ایک لفظ میں، تخلیدی فکر گویا پہلے زینے پر رک جانے کا نام ہے۔ اس کے مقابلے میں اجتہادی فکر اگلے زینوں کو طے کرتے ہوئے اوپر کی منزل تک پہنچانا ہے۔
پہلا زینہ اگرچہ ابتدا میں ہوتا ہے، مگر اس کی اہمیت یہ ہے کہ اگر پہلا زینہ نہ ہو تو اگلے زینوں کا وجود بھی نہ ہوگا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.