برداشت کی ضرورت عدم برداشت کا نتیجہ تشدد ہے، اور برداشت کا نتیجہ امن۔ انہی دو لفظوں میں امن اور تشدد کا خلاصہ پایا جاتا ہے۔ جس سماج میں برداشت کی صفت ہو، اس سماج میں امن کا ماحول رہے گا، اور جس سماج کے لوگوں میں برداشت کا مزاج نہ ہو، وہاں تشدد ہونے لگے گا۔ اور تشدد نہ تشدد کرنے والے کے لیے مفید ہے، اور نہ ان لوگوں کے لیے مفید جن کے اوپر تشدد کیا گیا ہے۔
برداشت ایک اعلیٰ اخلاقی اور انسانی صفت ہے؛ اس کے مقابلے میں برداشت نہ کرنا ایک حیوانی صفت ہے۔ برداشت مجبوری نہیں، برداشت ایک اعلیٰ ترین عمل ہے۔ لوگ جس مقصد کو بے برداشت طور پر حاصل کرنا چاہتے ہیں، اس کو برداشت کے ذریعے زیادہ بہتر طور پر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ کوئی ناخوشگوار صورتحال پیش آنے پر آدمی جب بے برداشت ہو جائے تو وہ اپنے آپ کو مقابلے کے لیے کمزور کر لے گا، لیکن جب وہ ناخوشگوار صورتحال میں برداشت کے رویے پر قائم رہے تو وہ اپنی ساری طاقتوں کو محفوظ رکھتا ہے۔
وہ زیادہ مؤثر طور پر پیش آمدہ صورتحال کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ ناخوشگوار صورتحال پیش آنے کے باوجود بے برداشت نہ ہونا، اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی اپنے آپ پر کنٹرول کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اور جس آدمی کے اندر یہ طاقت ہو کہ وہ اپنے آپ پر کنٹرول کر سکے، وہ اتنا زیادہ طاقتور ہو جاتا ہے کہ کسی کے لیے بھی اس کو شکست دینا ممکن نہیں۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 254۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.