Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Inteqaam se tashaddud tak.

Urdu · 3 min

انتقام سے تشدد تک، اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اگر ایک شخص کو دوسرے شخص سے کوئی تکلیف پہنچ جائے، یا ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طرف سے کوئی ٹھیس پہنچے، تو فوراً ان کے اندر انتقام کا جذبہ بھڑک اٹھتا ہے۔ وہ فریقِ ثانی سے انتقام لینے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ تاریخ کی اُس وارننگ کو بھول جاتے ہیں جو ہر جگہ خاموش الفاظ میں گونج رہی ہے: "انتقام لینے سے پہلے سوچ لو کہ انتقام کا بھی انتقام لیا جائے گا۔ " چنانچہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک فریق دوسرے فریق کے خلاف انتقام کی کارروائی کرتا ہے، پھر دوسرا فریق دوبارہ پہلے فریق سے انتقام لیتا ہے۔

اس طرح یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے، جو صرف اُس وقت ختم ہوتا ہے جبکہ دونوں اتنے تباہ ہو جائیں کہ وہ مزید انتقام لینے کے قابل نہ رہیں۔ کسی فرد یا گروہ کے خلاف کوئی قابلِ شکایت بات پیش آئے تو اس کا حل جوابی کارروائی نہیں ہے، بلکہ اس کو درگزر کر کے آگے بڑھ جانا ہے۔ درگزر کرنے سے معاملہ پہلے ہی مرحلے میں ختم ہو جاتا ہے، اور اگر درگزر نہ کیا جائے تو نفرت اور انتقام اور تشدد کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ انتقام کا رخ دوسرے کے خلاف ہوتا ہے، مگر اس کا سب سے زیادہ شکار خود انتقام لینے والا بنتا ہے۔

انتقامی پالیسی کی بھاری قیمت اس کو یہ دینی پڑتی ہے کہ اس کا دماغ منفی سوچ کا کارخانہ بن جائے۔ وہ اپنے وسائل کو اپنی تعمیر میں صرف کرنے کے بجائے انہیں صرف دوسرے کی تخریب میں صرف کرنے لگے۔ دوسرے فریق نے اگر آپ کو 50% نقصان پہنچایا تھا، تو آپ اپنی انتقامی کارروائی کے نتیجے میں اپنی بقیہ 50% طاقت کو بھی ضائع کر دیتے ہیں۔ انتقام کا مطلب یہ ہے کہ قاتلانہ حملے کے بعد کوئی شخص خود اپنے آپ کو ہلاک کرنے کی کوشش کرے۔

حقیقت یہ ہے کہ انتقام ہر حال میں برا ہے، اور انتقام نہ لیتے ہوئے معاملے کو بھلا دینا ہر حال میں اچھا ہے۔ انتقام لینے والا اگر آپ کا دشمن تھا، تو انتقام لے کر آپ خود اپنے دشمن بن جاتے ہیں۔ اور جو لوگ اپنے دشمن آپ بن جائیں، ان کو تباہی سے کون بچا سکتا ہے؟ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 252۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.