Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Mazhab qatre me hai.

Urdu · 4 min

مذہب خطرے میں ہے۔ نفرت اور تشدد کا ایک سبب وہ جذباتی سیاست ہے جو اس نعرے پر چلتی ہے کہ "مذہب خطرے میں ہے"۔ کچھ لکھنے اور بولنے والے لوگ غلط یا مبالغہ آمیز تصویر پیش کر کے عوام کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ ان کا مذہب دوسروں کی طرف سے خطرے میں ہے۔ اب تحفظِ مذہب کے نام پر جلسہ اور جلوس، اور نعرے اور جھنڈے کی سیاست چل پڑتی ہے۔

یہ سیاست مذہب کو تو خطرے سے نہیں بچاتی، البتہ مذہب کو خطرے سے بچانے کے نام پر پورے سماج کے امن کو تباہ کر کے اس کو خطرے میں ڈال دیتی ہے۔ اگر مذہب خطرے میں ہو تو ظاہر ہے کہ کوئی غیر ہوگا جو مذہب کو خطرے میں ڈالے ہوئے ہوگا۔ اس طرح مذہب خطرے میں جیسی سیاست ایک گروہ کے دل میں دوسرے گروہ کے خلاف نفرت پیدا کرتی ہے۔ پھر نفرت کی سیاست سے جب مذہب کے خلاف مفروضہ خطرہ ختم نہیں ہوتا تو اس کے بعد لوگوں کے اندر مایوسی کی سیاست شروع ہوتی ہے۔

مایوسی کی سیاست اپنی آخری تدبیر کے طور پر تشدد کی سیاست جاری کر دیتی ہے۔ پھر جب تشدد کی سیاست کارگر ثابت نہیں ہوتی تو خودکشی کی سیاست شروع ہو جاتی ہے۔ جوش میں بھرے ہوئے نوجوان اپنی بڑھی ہوئی نفرت کو اپنے مفروضہ دشمن کے خلاف خودکش بمباری کی صورت میں انڈیل دیتے ہیں۔ مذہبی خطرے کی سیاست اپنی آخری حد پر پہنچ کر مذہبی خودکشی کی سیاست بن جاتی ہے۔

زندگی کے نام پر اٹھنے والے لوگ یہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے لیے اور دوسروں کے لیے صرف موت کا پیغام ثابت ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس تباہ کن سیاست سے نکلنے کا واحد حل یہ ہے کہ تشدد کو ایک ایسا فعل قرار دیا جائے جو ہر حال میں قابلِ ترک ہو۔ کوئی بھی عذر، خواہ وہ بظاہر کتنا ہی بڑا ہو، تشدد کے طریقے کو استعمال کرنے کے لیے کافی نہ سمجھا جائے۔ موجودہ دنیا اختلافات کی دنیا ہے۔

یہاں ہر آدمی مسٹر ڈفرنٹ اور ہر عورت مس ڈفرنٹ ہے۔ اس لیے اس دنیا میں لازمی طور پر لوگوں کے درمیان طرح طرح کے اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ یہی اختلاف جذباتی صورت اختیار کر کے لوگوں کو نفرت اور تشدد تک پہنچاتا ہے، اور پھر سارا سماج قبرستان کا نمونہ بن جاتا ہے۔ اس مسئلے کا ایک ہی حل ہے، اور وہ یہ کہ لوگوں کے اندر یہ ذہن بنایا جائے کہ تم کو ہر حال میں امن کے دائرے میں کام کرنا ہے۔

کسی بھی حال میں تم کو امن کے دائرے سے باہر نہیں جانا ہے۔ یہ ذہن اس وقت بن سکتا ہے جبکہ لوگوں کو اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ کیا جائے کہ اس دنیا میں کوئی کام صرف امن کے ذریعے بنتا ہے۔ تشدد کے ذریعے کبھی کوئی کام بننے والا نہیں۔ تشدد صرف تخریب میں معاون ہوتا ہے، تشدد کبھی تعمیر میں معاون نہیں ہوتا۔

مذہب خطرے میں جیسی سیاست کے ذریعے کا یہ فائدہ تو ہوتا ہے کہ کچھ ہائی پروفائل میں بولنے والے لوگ قائد بن کر ابھر آئیں، وہ وقتی طور پر لوگوں میں نمایاں ہو جائیں، ان کے گرد عوام کی بھیڑ اکٹھا ہو، مادی رونقیں انہیں حاصل ہو جائیں۔ مگر جہاں تک مذہب اور اہلِ مذہب کا تعلق ہے، ان کے حصے میں صرف یہ آتا ہے کہ معتدل ماحول سے محروم ہو کر وہ نفرت کے ماحول میں جینے پر مجبور ہو جائیں۔ تشدد کا شکار ہو کر وہ اپنے مستقبل کو غیر محفوظ بنا لیں۔ مذکورہ قسم کی سیاست کا آخری نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ کچھ افراد ممتاز افراد یعنی سیلیبریٹیز بن کر نمایاں ہو جائیں۔

مگر یہ طریقہ مثبت معنوں میں قوم کی تعمیر نہیں کرتا اور نہ کر سکتا ہے۔ یہ طریقہ لیڈر سازی کے لیے کارآمد ہے، مگر وہ ملت سازی کے لیے ہرگز کارآمد نہیں۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 251۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.