Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Jung ka daur qatm.

Urdu · 4 min

جنگ کا دور ختم۔ پائرس قدیم یونان کا ایک بادشاہ تھا، وہ 319 قبل مسیح میں پیدا ہوا اور 272 قبل مسیح میں اس کی وفات ہوئی۔ 279 قبل مسیح میں اس کی لڑائی رومیوں یعنی رومن سے ہوئی۔ اس جنگ میں شاہ پائرس جیت گیا، مگر جب لڑائی ختم ہوئی تو اس کی اقتصادیات اور اس کی سیاسی اور فوجی طاقت پوری طرح تباہ ہو چکی تھی۔

اسی واقعے سے پرک وکٹری کی اصطلاح بنی ہے، یعنی تباہ کن فتح۔ قدیم زمانے میں پرک وکٹری یا تباہ کن فتح کا واقعہ بہت کم پیش آ سکتا تھا، مگر موجودہ زمانے میں جدید ہتھیاروں کی ایجاد کے بعد ہر جنگ تباہ کن جنگ بن چکی ہے۔ اب جنگ جیتنے والے اور جنگ ہارنے والے کے درمیان اتنا ہی فرق ہوتا ہے کہ اخباروں میں دونوں کی خبریں الگ الگ الفاظ میں چھپتی ہیں، ورنہ حقیقت کے اعتبار سے دونوں کا معاملہ ایک ہوتا ہے۔ موجودہ زمانے میں ہار بھی ہار ہے اور جیت بھی ہار۔

موجودہ زمانے میں جنگ صرف خودکشی ہے۔ جنگ اب کسی مثبت مقصد کو حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں۔ کسی قوم سے کوئی چیز کھوئی گئی ہو تو اس کے لیے صبر ہے، نہ کہ جنگ۔ کیونکہ جنگ اب اس کے لیے محرومی پر ذلت کا اضافہ ہے۔

امن کا بدل جنگ نہیں، امن کا بدل گفت و شنید ہے۔ اس معاملے کی ایک مثال پاکستان کی تاریخ میں ملتی ہے۔ پاکستان 1947 میں بنا۔ اس وقت بنگلہ دیش پاکستان کا مشرقی حصہ تھا۔

پھر ایسے حالات پیش آئے کہ بنگلہ دیش پاکستان سے پوری طرح الگ ہو گیا۔ آخر کار پاکستان نے حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے اس جغرافیائی محرومی پر صبر کر لیا۔ اگر پاکستان ایسا نہ کرتا تو وہ اپنے کھوئے ہوئے حصے کی خاطر اپنے بقیہ حصے کو بھی تباہ کر لیتا۔ جنگ کا مطلب نتیجے کے اعتبار سے یہ ہے کہ جو کچھ بچا ہے اس کو بھی کھو دیا جائے، جزوی محرومی کو کلی محرومی بنا دیا جائے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ جنگ اب کسی کے لیے بھی کوئی انتخاب یعنی آپشن نہیں۔ آج کی جنگ میں ہارنے والے کے لیے بھی ہار ہے اور جیتنے والے کے لیے بھی ہار۔ تاہم اس میں مایوسی کی کوئی ضرورت نہیں۔ دور جدید نے اگر ایک طرف جنگ کو ناممکن بنا دیا ہے تو دوسری طرف جدید دور کے نتیجے میں ایسی انقلابی تبدیلیاں ظہور میں آئی ہیں کہ کوئی بھی محرومی کسی کے لیے محرومی ثابت نہ ہو۔

آج کوئی فرد یا گروہ، خواہ وہ کسی بھی حال میں ہو، از سرِ نو اپنی منصوبہ بندی کر کے دوبارہ پہلے سے زیادہ بڑی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ کھونے کے بعد وہ کامیابی کے نئے امکانات کو پا سکتا ہے۔ موجودہ زمانے میں کمیونیکیشن نے چھوٹے ملک اور بڑے ملک کے فرق کو مٹا دیا ہے۔ گلوبلائزیشن کے جدید دور نے جغرافیائی محدودیت کے تصور کو عملاً غیر مؤثر بنا دیا ہے۔

جدید تبدیلیوں کے بعد اب جنگ کی حیثیت کسی صحت مند انتخاب کی نہیں رہی۔ اب جنگ سادہ طور پر صرف جنگ نہیں، وہ غصہ اور نفرت اور مایوسی کے تحت پیش آنے والا ایک منفی واقعہ ہے، نہ کہ کسی تعمیری منصوبہ بندی کا مثبت نتیجہ۔ اب جنگ صرف خودکشی کی مایوسانہ چھلانگ ہے، وہ کسی صحت مند ذہن کے تحت کیا ہوا مفید اقدام نہیں۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 239۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.