Maulana Wahiduddin Khan
19 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Hijr-e-jameel.

Urdu · 19 min

ہجر جمیل۔ قرآن کی سورہ نمبر 73 میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے: وَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَاهْجُرْهُمْ حَجَرًا جَمِيلًا المزمل 10۔ اردو مترجمین نے اس آیت کے جو ترجمے کیے ہیں، ان میں سے چند یہاں نقل کیے جاتے ہیں۔ نمبر 1: "اور سہتا رہ جو کہتے رہیں، اور چھوڑ ان کو بھلی طرح کا چھوڑنا" شاہ عبدالقادر۔

نمبر 2: "اور یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں، ان پر صبر کرو، اور خوبصورتی کے ساتھ ان سے الگ ہو جاؤ" اشرف علی تھانوی۔ نمبر 3: "اور سہتا رہ جو کچھ وہ کہتے رہیں، اور چھوڑ دے ان کو بھلی طرح کا چھوڑنا" محمود حسن دیوبندی۔ نمبر 4: "اور یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں، اس پر صبر کر، اور ان کو خوبصورتی سے نظر انداز کر" امین احسن اصلاحی۔ اس آیت کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا جائے تو وہ اس طرح ہوگا: "Endure patiently whatever they say, and avoid them in a decent manner.

" قرآن کی یہ آیت مکی دور میں اتری، اس وقت مکے میں مشرکین کا غلبہ تھا۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ رسول اور اصحاب رسول نے ان کے آبائی دین سے انحراف کیا ہے۔ اس بنا پر وہ لوگ رسول اور اصحاب رسول کو ستانے لگے۔ انہوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو ہر قسم کی تکلیفیں پہنچائیں۔

اس ماحول میں قرآن کی یہ آیت اتری۔ اس میں خدا کی طرف سے یہ حکم دیا گیا کہ تم لوگ صبر کرو اور ہجر جمیل کا طریقہ اختیار کرو۔ ہجر جمیل کے لفظی معنی ہیں: خوبصورتی کے ساتھ چھوڑنا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ستانے والوں کے ساتھ حسنِ اعراض کا طریقہ اختیار کرو۔

ان کے معاملے میں تمہارا طریقہ منفی ردِعمل کا طریقہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ مثبت ردِعمل کا طریقہ ہونا چاہیے۔ تم کو چاہیے کہ ان کے معاملے میں درگزر کرو، اور ان کے برے انداز کے مقابلے میں تم ان کے ساتھ اچھا انداز اختیار کرو۔ مفسرین نے عام طور پر یہ لکھا ہے کہ صبر اور ہجر جمیل کا یہ حکم آیاتِ قتال کے نزول کے بعد منسوخ ہو گیا۔ مگر یہ ایک غلط تفسیر ہے۔

ہجر جمیل، یعنی حسنِ اعراض، کوئی مجبوری کا فعل نہیں ہے۔ یہ اہلِ ایمان کا ایک مثبت رویہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن منفی ردِعمل کا تحمل نہیں کر سکتا۔ شکایت کی نفسیات شکر کے جذبے کی قاتل ہے، اس لیے مومن ایک طرفہ طور پر شکایت کے جذبات کو ختم کرتا ہے، تاکہ اس کے اندر شکر کا جذبہ مجروح نہ ہونے پائے۔

اسی طرح نفرت کی نفسیات محبت کے جذبے کی قاتل ہے، اس لیے مومن نفرت کی نفسیات کو اپنے اندر پنپنے نہیں دیتا، تاکہ اس کے اندر محبتِ الہی کا جذبہ پوری طرح باقی رہے۔ اس کام کو کبھی سختی سے کرنا پڑتا ہے اور کبھی حسنِ تدبیر سے۔ ہجر جمیل، یعنی حسنِ اعراض، بظاہر دوسرے کے مقابلے میں ہوتا ہے، مگر اس کا تعلق خود اپنی ذات سے ہے۔ مومن آخری حد تک یہ چاہتا ہے کہ اس کے اندر اعلیٰ اسلامی احساس ہمیشہ زندہ رہے۔

کسی بھی حال میں اس کے اندر نقصان، یعنی ایروژن، نہ ہونے پائے۔ قرآن کے مطابق اللہ نے کسی انسان کے اندر دو دل نہیں بنائے۔ الاحزاب 4۔ یعنی انسان کے دل میں بیک وقت دو متضاد نفسیات پرورش نہیں پا سکتیں۔

جو دل انسان سے نفرت کرے، عین اسی وقت وہ خدا سے محبت نہیں کر سکتا۔ جس دل کے اندر انسانوں کے بارے میں شکایات بھری ہوئی ہوں، وہ دل کبھی خدا کے شکر سے سرشار نہیں ہو سکتا۔ جس آدمی کا سینہ انتقامی نفسیات کا جنگل بنا ہوا ہو، وہ خدا سے طلبِ عفو کی لذت کا تجربہ نہیں کر سکتا۔ جو انسان ظلم کی یادوں میں جی رہا ہو، وہ خدائے رحمان و رحیم کی یادوں کا تجربہ نہیں کر سکتا۔

حقیقت یہ ہے کہ صبر اور حسنِ اعراض مومن کے لیے ایک خود حفاظتی تدبیر ہے۔ یہ اپنے آپ کو اس سے بچانا ہے کہ اس کے سینے میں غیر مومنانہ نفسیات کی پرورش ہونے لگے۔ اس لیے جب بھی ایسا کوئی موقع پیش آتا ہے تو مومن کہہ اٹھتا ہے کہ میں اس قسم کی منفی سوچ کا تحمل نہیں کر سکتا۔ یہاں اس معاملے کی مزید وضاحت کے لیے رسول اور اصحاب رسول کی زندگی سے حسنِ اعراض کی کچھ عملی مثالیں درج کی جاتی ہیں۔

نمبر 1: ابن اسحاق کی روایت ہے کہ مکے کے قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرتے تھے اور سب و شتم کرتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے آپ کا نام محمد کے بجائے مزمم رکھ دیا تھا۔ محمد کا مطلب ہے: تعریف کیا ہوا۔ اس کے بجائے وہ آپ کو مزمم، یعنی مذمت کیا ہوا، کہتے تھے۔

روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا: أَلَا تَعْجَبُونَ لِمَا سَرَفَ اللَّهُ عَنِّي مِنْ أَذَا قُرَيْشٍ يَسُبُّونَ وَيَهْجُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 379۔ یعنی کیا تم کو تعجب نہیں کہ اللہ نے مجھے قریش کی اذیت سے کس طرح بچا لیا؟ وہ سب و شتم کرتے ہیں اور مزمم کہہ کر ہجو کرتے ہیں، حالانکہ میں محمد ہوں۔ پیغمبر اسلام کے اس قول کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ مثلاً قریش اگر یہ کہیں کہ مزمم مجنون ہے، تو رسول اللہ اس کا برا اثر نہ لیتے ہوئے یہ کہہ دیں گے کہ تمہاری یہ بات اس کے اوپر پڑے گی جس کا نام مزمم ہو۔

میرا نام تو محمد ہے۔ یہ حسنِ اعراض کی ایک لطیف مثال ہے۔ اس طرح مومن اپنے آپ کو اس نقصان سے بچاتا ہے کہ کسی کی بدگوئی اس کے اندر منفی نفسیات پیدا کرنے کا سبب بن جائے۔ مومن کا قول یہ ہوتا ہے کہ میں منفی جذبات کا تحمل نہیں کر سکتا۔

اس طرح کے حسنِ اعراض کی ایک دلچسپ مثال ڈاکٹر ذاکر حسین کے یہاں پائی جاتی ہے۔ ایک بار وہ دہلی کی ایک سڑک پر اپنی گاڑی چلا رہے تھے۔ اتفاق سے ان کی گاڑی ایک اور شخص کی گاڑی سے معمولی طور پر ٹکرا گئی۔ ان کی گاڑی میں رگڑ، یعنی ڈینٹ، آ گیا۔

اس آدمی نے ابھی نئی گاڑی لی تھی۔ وہ گاڑی روک کر اترا۔ ذاکر صاحب بھی اپنی گاڑی روک کر اتر گئے۔ اس آدمی نے ذاکر صاحب کی طرف غصے سے دیکھتے ہوئے کہا کہ "ایڈیٹ"۔

اس انگریزی لفظ کے معنی ہوتے ہیں احمق۔ ذاکر صاحب نے جوابی غصہ نہیں دکھایا۔ انہوں نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے نرمی سے کہا: "سر، آئی ایم ناٹ مسٹر ایڈیٹ، آئی ایم ذاکر حسین۔ " جناب، میں مسٹر ایڈیٹ نہیں ہوں، میں ذاکر حسین ہوں۔

یہ سن کر اس آدمی کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ "سوری" کہہ کر وہ خاموشی کے ساتھ اپنی گاڑی پر بیٹھا اور آگے کے لیے روانہ ہو گیا۔ نمبر 2: ہجرت کے بعد حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا۔ مکے کے سرداروں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے اصحابہ کو مکے میں داخل ہونے سے روک دیا۔

اس وقت حدیبیہ کے مقام پر دونوں فریقوں کے درمیان ایک معاہدہ امن تیار کیا گیا۔ اس معاہدے کے وقت قریش نے ضد کا مظاہرہ بھی کیا اور تشدد کا مظاہرہ بھی۔ انہوں نے اصرار کیا کہ ان کی ایک طرفہ شرطوں پر معاہدہ کیا جائے۔ اصحاب رسول کو اس سے بے حد تکلیف ہوئی۔

اس طرح کی شرطوں پر معاہدہ کرنا ان کو بظاہر ایک ذلت کا معاہدہ معلوم ہوتا تھا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ قریش آج جو خاکہ بھی پیش کریں گے، بشرطیکہ اس میں صلہ رحمی کا ملحوظ رکھا گیا ہو، میں ضرور اس پر راضی ہو جاؤں گا۔ سیرت ابن ہشام، الجزء 3، صفحہ 358۔ دشمن کی ایک طرفہ شرطوں کو ماننا ایک سخت ناگوار معاملہ تھا۔

مگر آپ نے مذکورہ بات کہہ کر اس ناگوار کو ایک گوارا معاملہ بنا لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول ہجر جمیل کی ایک حکیمانہ مثال ہے۔ قدیم عربوں کے نزدیک صلہ رحمی بہت بڑی انسانی قدر سمجھی جاتی تھی، اور قطع رحمی کو وہ بہت برا سمجھتے تھے۔ اس لیے اس کا سوال ہی نہ تھا کہ وہ معاہدے کے لیے ایسا خاکہ پیش کریں جس میں قطع رحمی کی دفعہ رکھی گئی ہو۔

بااعتبارِ حقیقت، رسول اللہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ میں ہر قیمت پر قریش سے صلح کر لوں گا۔ اس بات کو کہنے کے باعزت طریقے کے طور پر آپ نے فرمایا کہ میں قریش کی طرف سے صلح کے ہر خاکے کو منظور کر لوں گا، بشرطیکہ اس میں قطع رحم نہ پایا جاتا ہو۔ حالانکہ پیشگی طور پر یہ معلوم تھا کہ وہ قطع رحم کی شرط کبھی نہیں رکھیں گے۔ نمبر 3: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکے سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو جلد ہی یہاں کے باشندوں کی اکثریت اسلام میں داخل ہو گئی۔

اس وقت مدینے میں ایک شخص تھا جس کا نام عبداللہ ابن ابی تھا۔ وہ اپنے زمانے کا ایک بڑا لیڈر تھا۔ وہ بھی اگرچہ اپنے قبیلے والوں کے ساتھ اسلام میں داخل ہو گیا، مگر اس کے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف حسد کا جذبہ تھا، جس کی وجہ سے وہ اکثر آپ کے خلاف شرع انگیز باتیں کیا کرتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے کا ذکر مدینے کے ایک مسلمان، اسید ابن حزیر سے کیا۔

انہوں نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا: يَا رَسُولَ اللَّهِ اُرْفُقْ بِهِ فَوَاللَّهِ لَقَدْ جَاءَنَا اللَّهُ بِكَ وَإِنَّ قَوْمَهُ لَيَنْظِمُونَ لَهُ الْخَرَجَ لِيُتَوِّجُوهُ فَإِنَّهُ لَيَرَى أَنَّكَ قَدْ اسْتَلَبْتَهُ مُلْكًا سیرت ابن ہشام، الجزء 3، صفحہ 336۔ یعنی اے خدا کے رسول، اس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیجیے۔ خدا کی قسم، اللہ آپ کو ہمارے پاس لے آیا، اور اس کی قوم کے لوگ اس کے لیے تاج تیار کر رہے تھے تاکہ وہ اس کو اپنا بادشاہ بنائیں۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ آپ نے اس کا مقام اس سے چھین لیا ہے۔

یہ حسنِ اعراض کی ایک حکیمانہ مثال ہے۔ ایک صورت یہ تھی کہ عبداللہ ابن ابی کی شرع انگیزی کا جواب سختی کے ساتھ دیا جاتا۔ صحابی نے گویا اپنے جواب میں یہ بتایا کہ اس معاملے میں سختی کی ضرورت نہیں، حسنِ اعراض ہی اس مسئلے کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔ نمبر 4: اوپر ہجر جمیل کی وہ مثالیں ہیں جو سطور میں ہوتی ہیں۔

اب ایک بین السطور کی مثال لیجیے۔ جب کسی معاملے میں ہجر جمیل کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اس میں ایک اور بات پوشیدہ ہوتی ہے، جو اگرچہ زبان سے بولی نہیں جاتی مگر وہ حقیقی مطلوب کے طور پر اس میں شامل رہتی ہے۔ اس کی ایک مثال حدیبیہ کا معاہدہ ہے۔ حدیبیہ کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہفتہ قیام فرمایا۔

اس دوران قریش نے مختلف قسم کی زیادتیاں کیں۔ مثلاً ایک صحابی کو تنہا پا کر انہیں تیر مار کر ہلاک کر دیا۔ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ باجماعت نماز ادا کر رہے تھے۔ اتنے میں قریش کے کچھ لوگ آئے اور آپ پر تیر برسانے لگے۔

اس طرح کی اشتعال انگیز صورتحال کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے 10 سال کا امن معاہدہ کر لیا۔ اس معاہدے کی دفعات حضرت عمر پر سخت ناگوار تھیں۔ وہ حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور کہا: يَا أَبَا بَكْرَ أَلَيْسَ بِرَسُولِ اللَّهِ؟ قَالَ بَلَى قَالَ أَوَلَسْنَا بِالْمُسْلِمِينَ؟

قَالَ بَلَى قَالَ أَوَلَيْسُوا بِالْمُشْرِكِينَ؟ قَالَ بَلَى قَالَ فَعَلَامَا نُعْطِ الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا السیرت النبویہ، ابن کثیر، جلد 3، صفحہ 320۔ یعنی اے ابوبکر، کیا محمد اللہ کے رسول نہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔

عمر نے کہا کہ کیا ہم مسلمان نہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ عمر نے کہا کہ کیا وہ مشرک نہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔

عمر نے کہا کہ پھر ہم اپنے دین میں یہ ذلت کیوں گوارا کریں؟ روایت کے مطابق حضرت عمر نے یہی بات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کہی۔ یہاں غور طلب امر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کی زیادتیوں کے باوجود ان کی ایک طرفہ شرطوں پر 10 سال کا جو امن معاہدہ کیا تھا، وہ ایک نہایت اہم اسلامی مصلحت کی بنا پر تھا۔ اور وہ مصلحت یہ تھی کہ دشمن سے معاہدہ امن کر کے معتدل حالات پیدا کیے جائیں تاکہ اسلامی دعوت کا عمل مؤثر طور پر جاری ہو سکے۔

مگر یہ نصیحت نہ امن معاہدے کے اندر لکھی گئی اور نہ حضرت عمر اور دوسرے صحابہ کی شدید ناگواری کے باوجود آپ نے حدیبیہ کے مقام پر اس کا اعلان کیا۔ یہ ہجر جمیل یعنی حسنِ اعراض کا دوسرا پہلو ہے۔ یہ دوسرا پہلو ہمیشہ مخفی حالت میں ہوتا ہے۔ اس پہلو کو لفظوں میں پانا ممکن نہیں۔

اگر اس کو لفظوں میں لکھا یا بولا جائے تو اس کی ساری معنویت ختم ہو جائے گی۔ ایسی حالت میں لوگوں کے لیے صرف دو میں سے ایک رویہ درست ہے: یا تو وہ اتنا زیادہ ہوشمند ہوں کہ سطور کے اندر بین السطور کو پڑھ لیں، وہ اعلان کے بغیر اس کی اہمیت کو دریافت کر لیں۔ جن لوگوں کے اندر اتنی ہوشمندی نہیں ہے، ان کے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ وہ اپنے لیڈر کی بصیرت پر اعتماد کریں۔ وہ صرف اعتماد اور حسنِ ظن کی بنا پر یہ عقیدہ رکھیں کہ ان کے رہنما نے جو بات کہی ہے، اس کے پیچھے ضرور کوئی گہری مصلحت ہوگی۔

ہمارا کام اپنے رہنما کی اتباع کرنا ہے، نہ کہ اس کی دیانت داری یعنی انٹیگریٹی پر شک کرنا۔ نمبر 5: صلح حدیبیہ بظاہر ایک ایسی صلح تھی جو دشمن کے مقابلے میں دب کر کی گئی، مگر اس کے اندر ایک غیر اعلان شدہ مقصد چھپا ہوا تھا، اور وہ تھا ٹکراؤ کو avoid کر کے اپنے لیے وقفہ تعمیر حاصل کرنا۔ اگر یہ بات معاہدے کے متن میں لکھ دی جاتی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان اسی وقت اس کا اعلان کر دیتے، تو صلح کے مقاصد سرے سے فوت ہو جاتے۔ اس قسم کے مقاصد ہمیشہ اعلان کے بغیر ہوتے ہیں، نہ کہ اعلان کے ساتھ۔

چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، یہاں تک کہ بات کو جب اس کا عملی نتیجہ ظاہر ہو گیا۔ اس وقت لوگوں نے جانا کہ اس صلح کے اندر کتنی بڑی مصلحت چھپی ہوئی تھی۔ یہی وہ حقیقت ہے جو حضرت ابوبکر صدیق نے بعد کے زمانے میں ان الفاظ میں بیان کی: مَا كَانَ فَتْحٌ أَعْظَمٌ فِي الْإِسْلَامِ مِنْ فَتْحِ الْحُدَيْبِيَّةِ وَلَكِنَّ النَّاسَ يَوْمَئِذٍ قَصُرَ رَأِيُهُمْ عَمَّا كَانَ بَيْنَ مُحَمَّدٍ وَرَبِّهِ وَالْعِبَادُ يُعَجِّلُونَ وَاللَّهِ لَا يُعَجِّلُ كَعُجْلَةِ الْعِبَادِ حَتَّى يَبْلُغَ الْأُمُورُ مَا أَرَادَ حیات الصحابہ، جلد 1، صفحہ 157۔ یعنی اسلام میں حدیبیہ کی فتح سب سے بڑی فتح تھی، لیکن معاہدے کے دن لوگوں کو اس بات میں رائے قائم کرنے میں کوتاہی ہوئی جو محمد اور آپ کے رب کے درمیان تھا۔

انسان عجلت پسند ہے، اور اللہ انسانوں کی طرح عجلت نہیں کرتا، یہاں تک کہ امور کو وہاں تک پہنچا دے جو وہ چاہتا ہے۔ نمبر 6: ہجر جمیل یعنی حسنِ اعراض سادہ طور پر محض ایک بچاؤ کی تدبیر نہیں، بلکہ وہ بامقصد انسان کی سوچی سمجھی ایک مستقل اخلاقی روش ہے۔ بامقصد انسان کے سامنے ایک متعین منزل ہوتی ہے، جہاں پہنچنا اس کا سب سے بڑا کنسرن ہوتا ہے۔ اس لیے وہ راستے کے ہر الجھاؤ سے اپنے آپ کو دور رکھتا ہے تاکہ وہ کسی رکاوٹ کے بغیر اپنی آخری منزل تک پہنچ سکے۔

جیسا کہ معلوم ہے، قدیم مکے کے لوگوں نے پیغمبر اسلام کو بہت زیادہ ستایا تھا۔ آپ پر اور آپ کے ساتھیوں پر اتنا زیادہ تشدد کیا کہ آپ کو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مکہ چھوڑ دینا پڑا۔ اس ترک وطن کے بعد بھی وہ آپ کے خلاف مسلسل جارحیت کرتے رہے۔ آخر کار وہ وقت آیا جب کہ پیغمبر اسلام اللہ کی مدد سے مکے کے فاتح بن گئے۔

اب وقت تھا کہ ماضی کے ظلم کی انہیں سزا دی جائے۔ عام رواج کے مطابق ان کو قتل کر دینا عین جائز تھا، مگر پیغمبر اسلام نے ان لوگوں کے ساتھ ہجر جمیل کی روش اختیار کی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب قریش کے یہ مجرمین آپ کے سامنے حاضر ہوئے تو آپ نے ان سے پوچھا کہ تم کیا سمجھتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں گا؟ انہوں نے کہا کہ أَخٌ كَرِيمٌ وَابْنُ أَخٍ كَرِيمٍ آپ شریف بھائی ہیں اور شریف بھائی کے بیٹے ہیں۔

پیغمبر اسلام نے اس کے بعد فرمایا کہ ٹھیک ہے، میں تمہارے بارے میں وہی کہوں گا جو پیغمبر یوسف نے اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا۔ یعنی لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ سورہ یوسف، آیت 92۔ آج تمہارے اوپر کوئی الزام نہیں۔ یہ کہہ کر آپ نے فرمایا کہ جاؤ، تم سب لوگ آزاد ہو۔

اس طرح آپ نے ان تمام لوگوں کو آزاد کر دیا جو اس سے پہلے آپ کے خلاف کھلے دشمن بنے ہوئے تھے۔ پیغمبر اسلام کا یہ عمل ایک بامقصد انسان کے عمل کی ایک اعلیٰ مثال تھی۔ پیغمبر اسلام کا مقصد یہ تھا کہ آپ بیت اللہ کو بتوں سے پاک کریں، مکے کے لوگوں کو شرک سے نکال کر انہیں خدائے واحد کا پرستار بنائیں۔ اپنے دشمن انسان کو دوست انسان میں تبدیل کر کے توجیح کی بنیاد پر وہ انقلاب لائیں جس کے لیے آپ کو مبعوث کیا گیا تھا۔

پیغمبر اسلام کے ایک طرفہ حسن سلوک کا نتیجہ یہ ہوا کہ مکے کے یہ تمام لوگ اسلام میں داخل ہو گئے۔ راوی کہتے ہیں کہ فَخَرَجُوا كَأَنَّمَا نَشَرُوا مِنَ الْقُبُورِ فَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ حیات الصحابہ، جلد 1، صفحہ 175۔ یعنی پھر وہ لوگ وہاں سے اس طرح نکلے جیسے کہ وہ قبروں سے نکلے ہوں، اور وہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ پیغمبر اسلام اگر اس کے برعکس ان دشمنوں سے ان کی ظالمانہ روش کا انتقام لیتے تو اس کے بعد یہ ہوتا کہ وہاں انتقام در انتقام کا دور چل پڑتا۔

ایک انتقام کے بعد دوسرا انتقام شروع ہو جاتا، اور پھر حالات ایسا منفی رخ اختیار کر لیتے کہ سارا تعمیری منصوبہ درہم برہم ہو کر رہ جاتا۔ کتاب مسائل اجتہاد، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 226۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.