← Masaail-e-IjtihaadMasaail-e-Ijtihaad
Muslim policy ko badalne ki zarurat.
Urdu · 6 min
مسلم پالیسی کو بدلنے کی ضرورت: اپریل 2002 عیسوی کے آخری ہفتے میں مکے میں رابطِ عالمِ اسلامی کی چوتھی عالمی کانفرنس ہوئی۔ اس میں مختلف ملکوں کے مسلم علما اور دانشور تقریباً 500 کی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس کا موضوع "اسلام اور گلوبلائزیشن" بتایا گیا۔ اس کانفرنس کی ایک رپورٹ لاہور کے ماہنامہ "محدث" میں 2002 میں دیکھی۔
اس کا ایک حصہ یہاں کسی قدر تصرف کے ساتھ نقل کیا جاتا ہے۔ بوسنیا کے رئیس العلماء مصطفیٰ سیرج نے سابق صدر بوسنیا عزت بیکویچ کے خیالات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ ہم بوسنیا کے تلخ تجربے کی روشنی میں یہ کہنا مناسب سمجھتے ہیں کہ عربوں کو اسرائیل سے صلح و آشتی کا راستہ اختیار کر لینا چاہیے۔ دکتور یوسف القرضاوی فوراً مائیک پر آئے اور نہایت شدید الفاظ میں عزت بیکویچ کے اس نظریے کی تردید کی۔ رپورٹ کے مطابق، بظاہر پوری کانفرنس میں کوئی شخص بھی عزت بیکویچ کی حمایت میں بولنے کے لیے کھڑا نہیں ہوا۔
صفحہ 54۔ جس زمانے میں عزت بیکویچ نے بوسنیا کے آزاد مسلم مملکت ہونے کا اعلان کیا، اور اس کے نتیجے میں وہاں خونی جنگ چھڑ گئی، اس وقت ساری مسلم دنیا میں عزت بیکویچ ہیرو بن گئے۔ مگر آج یہی عزت بیکویچ جب امن اور صلح کی بات کرتے ہیں تو اب وہ مسلمانوں کے یہاں زیرو بنے ہوئے ہیں۔ اس واقعے پر غور کیجیے تو کچھ سبق آموز باتیں سامنے آئیں گی۔
نمبر 1: موجودہ زمانے کے مسلمان "محصور ذہنیت" یعنی بسیجڈ مینٹالٹی میں جی رہے ہیں۔ ان کے نااہل دانشوروں اور لیڈروں نے انہیں یہ بتا رکھا ہے کہ وہ مظلوم ہیں اور دشمنوں کی سازش کا شکار ہو رہے ہیں۔ جو لوگ ایسی نفسیات میں مبتلا ہوں، ان کا حال یہ ہوگا کہ وہ لڑائی کی زبان تو سمجھیں گے مگر وہ صلح کی زبان سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔ نمبر 2: مسٹر عزت بیکویچ نے جو پیغام بھیجا، وہ ایک ادھورا پیغام تھا۔
اس بنا پر وہ کسی کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو سکتا تھا۔ عزت بیکویچ کا پیغام اپنی موجودہ شکل میں صرف مجبوری کے ہم معنی ہے، اور کوئی بھی مسلمان مجبوری کے تحت کسی پالیسی کو اختیار کرنے پر راضی نہیں ہوگا۔ عزت بیکویچ کو چاہیے کہ وہ مسلح اقدام کے بجائے پرامن اقدام کا طریقہ دریافت کریں۔ اس کے بعد لوگوں کے لیے ان کا پیغام قابلِ فہم اور قابلِ قبول بن جائے گا۔
نمبر 3: مکے کی مذکورہ کانفرنس کی روداد کو دیکھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں بولنے والے تمام مسلمان صرف شکایت اور احتجاج کی بولی بولتے رہے۔ وہ مسائل پر تقریریں کرتے رہے۔ یہی موجودہ زمانے میں تقریباً مسلم کانفرنسوں کا حال ہے۔ ہر کانفرنس میں صرف مسائل کا پرشور تذکرہ ہوتا ہے۔
علما اور دانشوروں کے اس مزاج نے موجودہ زمانے کی تمام مسلم کانفرنسوں کو سراسر بے نتیجہ بنا دیا ہے۔ کانفرنس کا مقصد مواقع کار کی مثبت نشاندہی ہونا چاہیے، نہ کہ مسائل کے نام پر منفی چیخ و پکار۔ قرآن کے الفاظ میں "عسر" میں یسر کی نشاندہی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نبوت کے 13ویں سال مکے سے مدینے کی طرف ہجرت فرمائی، تو اس وقت آپ مسائل کے جنگل سے گزر کر وہاں پہنچے تھے۔
مدینہ پہنچ کر آپ نے وہاں کے لوگوں کے سامنے جو پہلا خطبہ دیا، وہ ابن ہشام نے اس عنوان کے ساتھ نقل کیا ہے: "أَوَّلُ خُطْبَةٍ خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم في المدينةِ" ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا خطبہ جو آپ نے مدینے میں دیا، یہ پورا خطبہ سیرت ابن ہشام میں آج بھی موجود ہے۔ اس کو پڑھیے تو اس میں ایک لفظ بھی شکایت اور احتجاج کا نہیں ملے گا۔ اس پورے خطبے کا خلاصہ اس کے اس جملے میں ہے: "اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِ تَمْرَةٍ" ۔
اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے کیوں نہ ہو۔ عجیب بات ہے کہ اسی رسول کے امتی آج رسول کی سنت کے برعکس شکایت اور احتجاج کی سرگرمیوں میں مشغول ہیں۔ حتیٰ کہ مکہ اور مدینے میں بھی یہی خلافِ سنت کام نہایت دھوم کے ساتھ جاری ہے۔ حتیٰ کہ مکہ اور مدینے میں بھی یہی خلافِ سنت کام نہایت دھوم کے ساتھ جاری ہے۔
کوئی اللہ کا بندہ اگر انہیں اس روش کو ترک کرنے کی نصیحت کرے تو وہ اس کے دشمن ہو جاتے ہیں۔ اس قسم کی خلافِ سنت سرگرمیاں بلاشبہ خدا کے غضب کو دعوت دینے والی ہیں، خواہ یہ سرگرمیاں مقدس مقامات پر کیوں نہ کی جا رہی ہوں۔ اصل یہ ہے کہ اس وقت مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے انسانوں کا ظلم نہیں ہے، بلکہ وہ براہِ راست اللہ تعالیٰ کا انطباع ہے۔ یہ سب مسلمانوں کو چوکنا کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
مسلمانوں کے لیے فلاح کی واحد صورت یہ ہے کہ وہ توبہ کریں، وہ تشدد کا راستہ مکمل طور پر چھوڑ دیں، اور امن کا راستہ مکمل طور پر اختیار کر لیں۔ وہ تشدد کا راستہ مکمل طور پر چھوڑیں اور امن کا راستہ مکمل طور پر اختیار کر لیں۔ اسلام یا اہلِ اسلام کے نام پر وہ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں، اس کو امن کے دائرے میں رہتے ہوئے انجام دیں۔ اس کے سوا ان کے لیے فلاح اور کامیابی کی کوئی صورت نہیں۔
کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 222۔