Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Tashaddud mayusi ka natija.

Urdu · 2 min

تشدد مایوسی کا نتیجہ، تشدد محرومی کے احساس کا نتیجہ ہے، اور امن یافت کے احساس کا نتیجہ۔ جو لوگ اس احساس میں مبتلا ہوں کہ وہ محروم ہیں، دوسروں نے ان کی چیز ان سے چھین لی ہے، ایسے لوگ ہمیشہ منفی نفسیات میں مبتلا رہتے ہیں، اور ان کا یہی احساس اکثر تشدد کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ لیکن جو لوگ اس احساس میں جیتے ہوں کہ انہوں نے اپنی زندگی میں یافت کا تجربہ کیا ہے، ایسے لوگ ذہنی سکون سے ہمکنار ہوتے ہیں، وہ ہمیشہ پرامن زندگی گزارتے ہیں۔ جو فرد یا گروہ دوسروں کے خلاف نفرت کرے، جو دوسروں کے خلاف تشدد پر اتر آئے، وہ اپنے عمل سے یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو محروم سمجھ رہا ہے۔

اس کے برعکس جو فرد یا گروہ امن پسندی کی زندگی گزارے، وہ اپنے عمل سے اس بات کا ثبوت دے رہا ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں وہ چیز پا لی ہے جو اس کو پانا چاہیے۔ اب سوال یہ ہے کہ محرومی کا احساس کسی کو کیوں پیدا ہوتا ہے، اور وہ کون لوگ ہیں جو ہمیشہ یافت کے احساس میں جیتے ہیں؟ اس دنیا میں سب سے بڑا پانا یہ ہے کہ آدمی نے خدا کو پا لیا ہو، اور سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ آدمی خدا کو پانے سے محروم ہو۔ خدا کو پانے کے بعد کوئی اور چیز پانے کے لیے باقی نہیں رہتی، اور جو لوگ خدا کو پانے سے محروم ہوں، وہ گویا محرومی کی اس آخری حالت پر پہنچ گئے ہیں جہاں محرومی ہی محرومی ہے، اول بھی اور آخر بھی۔

کوئی بھی چیز ان کی محرومی کے احساس کو ختم کرنے والی نہیں۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 207۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.