Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Insano ke liye rahmat.

Urdu · 3 min

انسانوں کے لیے رحمت۔ قرآن کی سورہ نمبر 21 میں پیغمبرِ اسلام کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ الانبیاء 107۔ یعنی ہم نے تم کو تو بس دنیا والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ پیغمبرِ اسلام کا آنا ساری دنیا کے انسانوں کے لیے خدا کی رحمت کا ظہور تھا۔

آپ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے زندگی کے وہ اصول بتائے جن کو اختیار کر کے انسان دارالسلام سورہ یونس آیت 25 میں آباد ہو سکتا ہے، یعنی امن و سلامتی کی کالونی میں۔ آپ کے ذریعے وہ تعلیمات اتاری گئیں جو انسانی معاشرے کو پرامن معاشرہ بنا سکتی ہیں۔ آپ نے تاریخ میں پہلی بار امن یعنی peace کے تصور پر مبنی مکمل آئیڈیالوجی پیش کی۔ آپ نے زندگی کا وہ فارمولا بتایا جو آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ نفرت اور تشدد سے بچتے ہوئے اپنے لیے ایک صحت مند زندگی کی تعمیر کر سکے۔

آپ کے ذریعے دنیا میں وہ انقلاب آیا جس نے اس بات کو ممکن بنایا کہ ٹکراؤ اور جنگ سے بچتے ہوئے انسان ایک پرامن سماج بنا سکے۔ پیغمبرِ اسلام کو اگرچہ مجبور کن حالات میں بعض ایسی لڑائیاں لڑنی پڑیں جو اتنی چھوٹی تھیں کہ ان کو جنگ کے بجائے جھڑپ کہنا زیادہ صحیح ہے، پیغمبرِ اسلام نے ایک عظیم انقلاب برپا کیا جس کو بجا طور پر غیر خونی انقلاب یعنی bloodless revolution کہا جا سکتا ہے۔ پیغمبرِ اسلام نے امن کو مکمل نظریہ حیات کی حیثیت دی۔ آپ نے بتایا کہ تشدد تخریب کا ذریعہ ہے اور امن تعمیر کا ذریعہ۔

آپ نے صبر کو سب سے بڑی عبادت بتایا جس کا مطلب مکمل طور پر امن کی روش پر قائم رہنا ہے۔ آپ نے فساد کو سب سے بڑا جرم بتایا جس کا مطلب فطرت کے پرامن نظام کو درہم برہم کرنا ہے۔ آپ نے امن کو اتنی زیادہ اہمیت دی کہ ایک انسان کے قتل کو سارے انسانوں کے قتل کے برابر قرار دیا۔ ملاقات میں السلام علیکم کہنے کو رواج دینا، اس کا مطلب یہ تھا کہ باہمی تعلقات کی بنیاد امن و سلامتی پر ہے۔

آپ نے آخرت کی کامیابی کو انسانی جدوجہد کی منزل بتایا۔ اس طرح آپ نے دنیاوی ترقی کو نشانہ بنانے کی جڑ کاٹ دی جس کی وجہ سے ٹکراؤ اور تشدد کی تمام صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ آپ نے انسان کے لیے بہتر زندگی کا یہ فارمولا دیا: لوگوں کو نفع دینے والے بنو، اور اگر تم نفع نہیں دے سکتے ہو تو لوگوں کے لیے بے ضرر یعنی harmless بن جاؤ۔ آپ نے بتایا کہ کسی کو اپنا دشمن نہ سمجھو، تم دشمن کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرو۔

پھر تم کو معلوم ہوگا کہ ہر دشمن امکانی طور پر یعنی potentially تمہارا دوست تھا۔ ہر دشمن انسان کے اندر ایک دوست انسان چھپا ہوا تھا۔ کتاب مسائل اجتہاد مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 193۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.