Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Ziyada bada rizq.

Urdu · 3 min

زیادہ بڑا رزق؟ قرآن کی سورہ نمبر 20 میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے زندگی کی ایک حقیقت کو اس طرح بتایا گیا ہے: وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ، وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَى. طہ 131۔ یعنی تم ہرگز ان چیزوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھو جن کو ہم نے ان کے کچھ گروہوں کو ان کی آزمائش کے لیے انہیں دے رکھا ہے۔

اور تمہارے رب کا رزق زیادہ بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے۔ اصل یہ ہے کہ زندگی کی دو مختلف صورتیں ہیں: ایک یہ کہ آدمی مادی دنیا کو اپنا نشانہ بنائے، وہ ملک و مال میں اپنی کامیابی تلاش کرے، ان چیزوں میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک اور دوسرے کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ یہی مادی چیزیں ہیں جن میں چھین جھپٹ کا معاملہ چلتا رہتا ہے۔ اس لیے جو لوگ مادیات میں جیتے ہوں، وہ یکثر حق تلفی یا محرومی کے احساس کا شکار رہتے ہیں۔

یہ احساس بار بار حسد اور انتقام اور تشدد کے روپ میں ظاہر ہوتا ہے۔ زندگی کی دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی یافت یعنی اچیومنٹ کے احساس میں جیتا ہو۔ ایسا آدمی اپنے آپ میں مطمئن ہوگا۔ اس کے اندر پانے کا احساس اس کو اس سے بچائے گا کہ وہ دوسروں کے خلاف نفرت کرے یا ان کے خلاف تشدد کا منصوبہ بنائے۔

یافت کا یہ احساس کن لوگوں کو حاصل ہوتا ہے؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کو قرآن کے الفاظ میں رزقِ رب مل رہا ہو۔ رزقِ رب سے مراد یہ ہے کہ آدمی کو یہ یقین حاصل ہو کہ اس نے سچائی کو پا لیا ہے۔ اس نے اس حقیقت کو دریافت کیا ہو کہ خالق نے اس کو جو وجود دیا ہے، وہ سونے چاندی کے تمام ذخیروں سے زیادہ قیمتی ہے۔

وہ اس طرح بیدار ذہن کے ساتھ دنیا میں رہے کہ پوری کائنات اس کے لیے فکری اور روحانی خوراک کا دسترخوان بن جائے۔ جو آدمی دنیا سے اس طرح کا رزقِ رب پا رہا ہو، وہ اتنا زیادہ اوپر اٹھ جاتا ہے کہ ملک و مال جیسی چیزیں اس کے لیے حقیر بن جاتی ہیں۔ اس کی یہ نفسیات اپنے آپ اس کو امن پسند بنا دیتی ہے۔ نفرت اور تشدد جیسی چیزیں اس کو اتنا زیادہ بے معنی معلوم ہونے لگتی ہیں کہ اس کے پاس اس کا وقت نہیں رہتا۔

اس کے پاس اس کا وقت نہیں رہتا کہ وہ کسی کے خلاف نفرت کرے یا کسی کے خلاف تشدد کا منصوبہ بنائے۔ جس آدمی کو زیادہ بڑی چیز مل جائے، وہ کبھی چھوٹی چیز کی طرف نہیں دوڑے گا۔ کتاب مسائل اجتہاد مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 191۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.