صلح کی پیشکش کو قبول کرنا۔ پیغمبرِ اسلام کے زمانے میں قریش کی جارحیت کے نتیجے میں قریش اور مسلمانوں کے درمیان حالتِ جنگ قائم ہو گئی تھی۔ اس موقع پر جو احکام قرآن میں دیے گئے، ان میں سے ایک حکم یہ تھا: وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۗ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ۗ وَإِن يُرِيدُوا أَنْ يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللَّهُ. الانفال 61:62 یعنی اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی صلح کے لیے جھک جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔
بے شک وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ اور اگر وہ تم کو دھوکہ دینا چاہیں گے تو اللہ تمہارے لیے کافی ہے۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں امن آخری حد تک مطلوب ہے، حتیٰ کہ اگر رزق لے کر امن قائم ہوتا ہو، حتیٰ کہ اگر رزق لے کر امن قائم ہوتا ہو تو رزق لے کر بھی امن قائم کیا جائے گا، جیسا کہ قرآن کی اس آیت میں تعلیم دی گئی ہے۔ حالتِ جنگ کے دوران اگر فریقِ ثانی صلح کی پیشکش کرے تو بلا تاخیر اس کو قبول کر لینا چاہیے، بالفرض اگر یہ اندیشہ ہو کہ صلح کی اس پیشکش میں کوئی دھوکہ چھپا ہوا ہے، تب بھی اس اعتماد پر فریقِ ثانی سے صلح کی جائے گی کہ خدا ہمیشہ امن پسندوں کے ساتھ ہوتا ہے، نہ کہ فریب دینے والوں کے ساتھ۔
اس سے مزید یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ اس دنیا میں امن ہمیشہ وہ لوگ قائم کرتے ہیں جو اعلیٰ حوصلے کے مالک ہوں۔ موجودہ دنیا میں ہمیشہ ایک اور دوسرے فریق کے درمیان مسائل موجود رہتے ہیں، ہمیشہ حقوق اور بے انصافی کے مسائل پائے جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں وہی لوگ امن قائم کر سکتے ہیں جو ہر دوسرے تقاضے سے بلند ہو کر سوچیں، جو کسی بھی چیز کو عذر نہ بنائیں۔ صرف ایسے باحوصلہ لوگ ہی دنیا میں امن قائم کرتے ہیں۔
جن لوگوں کے اندر یہ حوصلہ نہ ہو، وہ صرف لڑتے رہیں گے، وہ امن کی تاریخ نہیں بنا سکتے۔ کتاب: مسائلِ اجتہاد، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 190۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.