Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Haq par sabr ke sath jamna.

Urdu · 2 min

حق پر صبر کے ساتھ جمنا۔ قرآن کی سورہ نمبر 103 میں بتایا گیا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو گھاٹے سے بچتے ہیں اور کامیاب زندگی حاصل کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں: وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ. العصر 3 یعنی وہ لوگ جنہوں نے ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی، اور جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔

جب بھی کوئی آدمی سچائی کے راستے پر قائم ہوتا ہے، یا لوگوں کو سچائی کی طرف بلاتا ہے، تو ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ اس کے مخالف بن جاتے ہیں۔ اس کو لوگوں کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے وقت میں حق پرست آدمی کا کام یہ ہے کہ وہ صبر کا طریقہ اختیار کرے، وہ پیش آنے والی مشکلات کو اپنے اوپر سہے، وہ ان کو دوسروں کے اوپر انڈیلنے کی کوشش نہ کرے۔ صبر غیر جارحانہ طریقے کا دوسرا نام ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ حق پرست آدمی کو چاہیے کہ وہ تشدد کے مقابلے میں جوابی تشدد نہ کرے۔ وہ یکطرفہ طور پر اپنے آپ کو پرامن طریقہ کار کا پابند بنائے۔ اسی روش کا دوسرا نام صبر ہے۔ حق اور تشدد دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔

جو آدمی حق کو لینا چاہے تو اس کو تشدد چھوڑنا پڑے گا۔ تشدد، خواہ کسی بھی عذر کی بنا پر استعمال کیا جائے، وہ تشدد ہے۔ ہر تشدد یکساں طور پر تباہ کن ہے۔ کوئی خوبصورت عذر تشدد کو اس کے تباہ کن اثرات سے بچا نہیں سکتا۔

حق کے حصول کے نام پر تشدد کرنا خود حق کی نفی ہے۔ جو لوگ حق کے نام پر تشدد کریں، وہ اپنے بارے میں یہ ثابت کرتے ہیں کہ ان کا کیس حق کا کیس نہیں۔ حق پسند آدمی کبھی تشدد پسند نہیں ہو سکتا۔ جو آدمی تشدد کو پسند کرے، وہ یقینی طور پر حق پسند نہیں، خواہ وہ بطور خود اپنے آپ کو حق کا چیمپیئن کیوں نہ سمجھتا ہو۔

کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 187۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.