Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Ghussa ek kamzori hai.

Urdu · 2 min

غصہ ایک کمزوری ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 42 میں سچے انسانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وإذا ما غضبوا هم يغفرون سورہ الشوریٰ آیت 37۔ یعنی جب انہیں غصہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں۔ اس کا مطلب سادہ طور پر صرف غصے کو معاف کرنا یا اس کو بھلا دینا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب غصے کی نفسیات سے اوپر اٹھ کر معاملہ کرنا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ غصہ دلانے کے باوجود آدمی بے غصہ ہو کر سوچے، اور غصے سے متاثر ہوئے بغیر اس کا جواب دے۔ غصہ ایک کمزوری ہے، اور غصہ نہ کرنا ایک طاقت ہے۔ آدمی اگر غصہ نہ ہو تو وہ ہر صورتحال کو مینج کر سکتا ہے، وہ ہر معاملے کو اپنے موافق بنا سکتا ہے۔ غصہ آدمی کے عقل کو مختل کر دیتا ہے۔

ایسا آدمی صورتِ معاملے کو نہ تو صحیح طور پر سمجھ سکتا ہے اور نہ صحیح طور پر اس کا جواب دے سکتا ہے۔ کوئی آدمی غصہ ہو جائے تو فوراً وہ تشدد کی طرف جاتا ہے، حالانکہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں۔ اور جو آدمی اپنے غصے کو قابو میں رکھے، وہ مسئلے کا پرامن حل تلاش کرے گا، اور پرامن حل ہی کسی مسئلے کا واحد یقینی حل ہے۔ انسان کے ذہن میں غیر معمولی صلاحیتیں چھپی ہوئی ہیں۔

آدمی اگر غصہ نہ ہو تو وہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ اپنے ذہن کی بھرپور صلاحیتوں کو اپنے حق میں استعمال کرے۔ مگر آدمی جب غصہ ہو جائے تو اس کے ذہن کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ وہ اس قابل نہیں رہتا کہ اپنی ذہنی صلاحیت کو بھرپور طور پر اپنے حق میں استعمال کرے۔ غصہ نہ ہونا جیت ہے، اور غصہ ہونا اس کے مقابلے میں ہار۔

کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 186۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.