Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Sazish ka qatima.

Urdu · 2 min

سازش کا خاتمہ: قرآن کی سورہ نمبر 3 میں ارشاد ہوا ہے، "اگر تم صبر کرو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تو ان کی کوئی سازش تم کو ہرگز نقصان نہ پہنچائے گی۔ " آل عمران 120۔ قرآن کی اس آیت میں زندگی کی ایک اہم حقیقت کو بتایا گیا ہے، وہ یہ کہ موجودہ دنیا میں کسی فرد یا گروہ کے لیے اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اس کے کچھ دشمن ہوں جو اس کے خلاف سازش کر رہے ہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس فرد یا گروہ کے اندر وہ صبر اور وہ محتاط روش موجود نہیں جو ہر سازش کو یقینی طور پر ناکام بنا سکتی ہے۔ موجودہ دنیا میں سازش کی حیثیت اگر بارش کی ہے تو صبر و تقویٰ کی حیثیت پختہ چھت کی۔

اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ بارش صرف ان لوگوں کے لیے مسئلہ ہے جنہوں نے اپنے لیے پختہ چھت نہ بنائی ہو۔ جن کے پاس پختہ چھت ہو، ان کے لیے بارش کا مسئلہ کوئی حقیقی مسئلہ نہیں۔ موجودہ دنیا کا نظام مسابقت یعنی competition کے اصول پر بنا ہے، اس لیے یہاں فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ ایک فریق اور دوسرے فریق کے درمیان رقابت قائم ہو جاتی ہے، جو بڑھ کر سازش تک پہنچ جاتی ہے۔ جب بھی کسی کے خلاف ایسی صورتحال پیدا ہو تو اس کو دشمن کی سازش کے بجائے فطرت کے ایک قانون کا اظہار سمجھنا چاہیے۔

سازش کو دشمن کی کارروائی سمجھنا آدمی کو تشدد کی طرف لے جاتا ہے، اور سازش کو فطرت کے قانون کا نتیجہ سمجھنا آدمی کے اندر یہ ذہن پیدا کرتا ہے کہ وہ حسن تدبیر کے ذریعے اپنے آپ کو اس کی زد سے بچائے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے ایک شخص بارش کے مقابلے میں احتجاج نہیں کرتا، بلکہ اس سے بچنے کے لیے گھر اور چھت کا انتظام کرتا ہے۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 175۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.