Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Fasaad filarz nahi.

Urdu · 3 min

فساد فی الارض نہیں۔ قرآن کی سورہ نمبر 2 میں ایک کردار کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُسْلِحُونَ البقرہ 11۔ یعنی جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے لوگ ہیں۔ قرآن کی اس آیت میں جس کردار کا ذکر ہے اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو بظاہر ایک اصلاحی مقصد کے لیے سرگرم ہوں، مگر ان کا طریقہ درست نہ ہو۔

ان کا طریقہ ایسا ہو جو عملاً فساد اور بگاڑ پیدا کرنے والا ہے۔ یہاں فساد سے مراد یہ ہے کہ ان کے طریقے کے نتیجے میں لوگوں میں باہمی ٹکراؤ پیدا ہو، لوگ ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگیں، لوگوں کے اندر اخلاقی احساس کمزور ہو جائے، لوگوں کے اندر منفی نفسیات پیدا ہوں۔ اس قسم کی تمام چیزیں فساد فی الارض کی حیثیت رکھتی ہیں، کیونکہ اس سے سماجی امن ختم ہوتا ہے، یہاں تک کہ لڑائی اور ٹکراؤ کی نوبت آ جاتی ہے۔ قرآن کی اس تعلیم سے معلوم ہوا کہ کسی عمل کے درست ہونے کے لیے صرف یہ کافی نہیں کہ بظاہر وہ ایک اچھے مقصد کے لیے شروع کیا گیا ہو۔

اسی کے ساتھ لازمی طور پر یہ دیکھنا ہوگا کہ اصلاح کے نام پر کی جانے والی سرگرمیاں کس قسم کا نتیجہ پیدا کرتی ہیں۔ اگر وہ لوگوں کے درمیان نفرت اور تناؤ اور لڑائی جیسی چیزیں پیدا کریں تو بظاہر اصلاح کا نام لینے کے باوجود ان کی سرگرمیاں مفسدانہ سرگرمیاں ہی کہی جائیں گی۔ ایسے لوگ انسانیت کے مجرم قرار پائیں گے، نہ کہ انسانیت کے مصلح اور خادم۔ کوئی بھی اصلاحی کام صرف اس وقت اصلاحی کام ہے جب کہ وہ امن اور انسانیت کے دائرے میں کیا جائے۔

اصلاح کے نام پر کیا جانے والا ہر وہ کام غلط ہے جو سماجی امن کو درہم برہم کرے، جس کے نتیجے میں جان اور مال کی تباہی ظہور میں آئے۔ اصلاح کو اپنے نتیجے کے اعتبار سے بھی اصلاح ہونا چاہیے۔ جو اصلاح اپنے نتیجے کے اعتبار سے فساد ہو، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے بھی فساد ہے، خواہ اس کو کتنا ہی زیادہ خوبصورت الفاظ میں بیان کیا گیا ہو۔ کتاب مسائل اجتہاد مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 174۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.