← Masaail-e-IjtihaadMasaail-e-Ijtihaad
Amn aur tashaddud ka farq.
Urdu · 4 min
امن اور تشدد کا فرق: امن ایک منصوبہ بند عمل ہے، اور تشدد صرف بھڑک کر جارحانہ کارروائی کرنے کا نام ہے۔ امن پسند آدمی پہلے سوچتا ہے اور اس کے بعد وہ عمل کرتا ہے۔ تشدد پسند آدمی پہلے کر ڈالتا ہے، اس کے بعد وہ سوچتا ہے۔ پر امن عمل میں پہلے بھی امید ہے اور آخر میں بھی امید، اور پر تشدد عمل میں پہلے فرضی امید ہے اور آخر میں صرف مایوسی۔
امن پسند آدمی سچائی پر کھڑا ہوتا ہے، اور پر تشدد آدمی جھوٹ پر۔ امن کا راستہ شروع سے آخر تک ایک کھلا ہوا راستہ ہے، اور تشدد کا راستہ رکاوٹوں سے بھرا ہوا راستہ۔ امن میں تعمیر ہی تعمیر ہے، اور تشدد میں تخریب ہی تخریب۔ امن پسند انسان دوسروں کی محبت میں جیتا ہے، اور تشدد پسند انسان دوسروں کی نفرت میں۔
امن پسندی کا خاتمہ کامیابی پر ہوتا ہے، اور تشدد پسندی کا خاتمہ شرمندگی پر۔ امن پسندی میں کوئی کام بگڑتا نہیں اور ہر کام بن جاتا ہے۔ تشدد پسندی میں کوئی کام بنتا نہیں اور ہر کام بگڑ جاتا ہے۔ امن کا طریقہ انسانیت کا طریقہ ہے، اور تشدد کا طریقہ حیوانیت کا طریقہ۔
امن کا عمل قانون کے دائرے میں ہوتا ہے، اور تشدد کا عمل لاقانونیت کے دائرے میں۔ امن پسند آدمی مسائل کو نظرانداز کر کے مواقع کو استعمال کرتا ہے، اور تشدد پسند آدمی مواقع کو غیر استعمال شدہ حالت میں چھوڑ کر مسائل کے خلاف بے فائدہ لڑائی لڑتا رہتا ہے۔ امن کا عمل پیار و محبت کا باغ اگاتا ہے، اور تشدد کا عمل نفرت اور دشمنی کا جنگل اگاتا ہے۔ امن کلچر فرشتوں کا کلچر ہے، اور تشدد کلچر شیطانوں کا کلچر۔
امن میں خدا کے حقوق بھی ادا ہوتے ہیں اور انسان کے حقوق بھی، اور تشدد میں انسان کے حقوق کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے اور خدا کے حقوق کی بھی خلاف ورزی۔ امن اگر جنت ہے تو تشدد اس کے مقابلے میں دوزخ۔ امن اور جنگ دونوں یکساں نہیں۔ امن کسی انسان کے لیے ایک سچا انتخاب یعنی چوائس ہے، اور جنگ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی سچے انتخاب کو نہ پا سکا، وہ انتخاب کے ٹیسٹ میں ناکام ہو گیا۔
دنیا میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو اگرچہ عملاً موجود ہیں، مگر وہ امتحان کے لیے ہیں، وہ مطلوب چیز کے طور پر نہیں۔ مثلاً شراب دنیا میں موجود ہے، مگر شراب اس لیے نہیں ہے کہ کوئی آدمی اس کو استعمال کرے، بلکہ شراب اس لیے ہے کہ آدمی اس سے بچ کر یہ ثابت کرے کہ وہ اچھے اور برے کی تمیز رکھتا ہے۔ وہ ایک محتاط انسان تھا۔ یہی معاملہ جنگ کا بھی ہے۔
جنگ کا طریقہ اگرچہ بظاہر قابل استعمال ہے، مگر کسی انسان کے لیے اعلیٰ روش یہی ہے کہ وہ جنگ کے طریقے کو استعمال نہ کرے۔ قدیم زمانے میں جو حالات تھے، ان میں دفاع کے لیے جنگ کی اجازت دی گئی تھی، مگر یہ اجازت قانون ضرورت یعنی لاء آف نیسسٹی کے تحت تھی۔ اب نئے حالات میں یہ ضرورت باقی نہیں رہی، اس لیے اب جنگ کی بھی ضرورت نہیں۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 172۔