← Masaail-e-IjtihaadMasaail-e-Ijtihaad
Qanaat kamyabi ka raaz.
Urdu · 13 min
قناعت کامیابی کا راز ایک عوامی مثل ہے۔ یہ مثل زندگی کی ایک اہم حقیقت کو بتاتی ہے۔ اس مثل کے الفاظ یہ ہیں: "آدھی چھوڑ کے پوری دھاوے، پوری ملے نہ آدھی پاوے۔ " اصل یہ ہے کہ انسان بیشتر حالات میں اپنی خواہشات اور اپنی امنگوں، یعنی ambitions، کے تحت سوچتا ہے۔
اس بنا پر اکثر وہ ایسے اقدامات کر بیٹھتا ہے جو حقیقی حالات کے اعتبار سے اس کے لیے قابلِ حصول نہیں ہوتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا عمل انجام کے اعتبار سے مکمل ناکامی پر ختم ہوتا ہے۔ وہ ناممکن کو حاصل کرنے کی کوشش میں ممکن کو بھی کھو بیٹھتا ہے۔ موجودہ زمانے میں اکثر مشہور مسلم رہنماؤں کی کہانی یہی ہے۔
انہوں نے حقائق کی رعایت کیے بغیر محض اپنی خواہشوں اور امنگوں کے تحت بڑی بڑی چھلانگ لگا دی۔ اس کا نتیجہ ملت کے حصے میں تباہی کے سوا کچھ اور نہ آیا۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے چند مثالیں لیجیے۔ نمبر 1: سردار شوکت حیات خان مشہور پاکستانی لیڈر ہیں۔
وہ متحدہ پنجاب کے سابق وزیراعظم مرحوم سر سکندر حیات خان کے صاحبزادے ہیں۔ سردار شوکت حیات خان نے اپنے کیریئر کا آغاز دوسری جنگ عظیم میں فوجی افسر کی حیثیت سے کیا۔ 1943 میں مسلم لیگ کی سیاست میں سرگرم طور پر شامل ہو گئے۔ پاکستان کے قیام کے بعد وہ پنجاب کے وزیر بنے اور وہاں کے دوسرے بڑے عہدوں پر فائز رہے۔
سردار شوکت حیات خان نے اپنی زندگی کے حالات پر ایک کتاب انگریزی زبان میں لکھی ہے جس کا نام "The Nation That Lost Its Soul" ہے۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ "گم گشتہ قوم" دسمبر 1995 عیسوی میں پاکستان سے چھپا ہے۔ کتاب کا یہ اردو ایڈیشن 461 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کے ناشر جنگ پبلشرز لاہور ہیں۔
اس کتاب کے ایک باب کا عنوان "لیاقت علی خان" ہے، جو پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے۔ اس باب میں مختلف باتیں کہی گئی ہیں، ان میں سے ایک کو یہاں نقل کیا جاتا ہے: "نوابزادہ لیاقت علی خان کو حقائق اور ملک کے جغرافیہ سے بھرپور واقفیت نہ تھی جس کے وہ پہلے وزیراعظم بن چکے تھے۔ " بعد میں کشپیر بعد میں کشمیر پر حملے کے دوران جب لارڈ ماؤنٹ بیٹن لاہور آیا، ایک ڈنر جس میں لیاقت، گورنر مودی اور پنجاب کے چار وزیر موجود تھے، لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے سردار پٹیل کا پیغام پہنچایا۔ پٹیل، جو ہندوستان کی ایک طاقتور شخصیت تھا، اس کا پیغام تھا کہ اس اصول کی پابندی کی جائے جو کانگریس اور مسلم لیگ کے مابین ریاستوں کے مستقبل کے بارے میں طے پایا تھا، وہ یہ کہ ریاست اپنے باشندوں کی اکثریت اور سرحدوں کے ساتھ ملاپ کی بنا پر پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ الحاق کریں گی۔
پٹیل نے کہا کہ پاکستان کشمیر کو لے لے اور حیدرآباد دکن کا مطالبہ چھوڑ دے، جہاں پر ہندو آبادی کی اکثریت تھی اور جس کا پاکستان کے ساتھ زمینی یا سمندری ذریعے سے کوئی اتصال بھی نہ تھا۔ یہ پیغام دینے کے بعد ماؤنٹ بیٹن گورنمنٹ ہاؤس میں آرام کرنے چلا گیا۔ میں کشمیر آپریشن کا مکمل نگران تھا۔ میں نے لیاقت علی خان کے پاس جا کر انہیں تجویز دی کہ ہندوستان کی فوج جو کشمیر میں داخل ہو چکی ہے، ہم قبائلیوں کی مدد سے اس کو باہر نکالنے اور کشمیر کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے، یہاں تک کہ ہماری اس وقت کی فوج بھی اس کامیابی کے حصول میں شاید مددگار ثابت نہ ہو سکے گی۔
لہٰذا ہمیں سردار پٹیل کی پیشکش کو ٹھکرانا نہیں چاہیے۔ نوابزادے نے میری جانب مڑ کر کہا، "سردار صاحب، کیا میں پاگل ہو گیا ہوں کہ میں کشمیر کے پہاڑوں اور ٹیلوں کے بدلے ریاست حیدرآباد دکن کو چھوڑ دوں جو پنجاب سے بھی بڑی ریاست ہے؟ " پرائم منسٹر کے اس ردعمل کو دیکھ کر میں تو سن ہو گیا کہ ہمارا وزیراعظم ملکی جغرافیہ سے اتنا بے خبر تھا۔ اس کی ذہانت کا یہ معیار کہ وہ حیدرآباد دکن کو کشمیر پر ترجیح دے رہا ہے، یہ تو احمقوں کی جنت میں رہنے والی بات ہے۔
بات تھی حیدرآباد کا حصول ایک سراب تھا، جبکہ کشمیر اپنے آپ مل رہا تھا۔ کشمیر کی پاکستان کے ساتھ اہمیت سے وہ قطعی واقف نہیں تھے۔ چنانچہ احتجاج کے طور پر میں نے کشمیر آپریشن کی نگرانی سے استعفیٰ دے دیا۔ صفحہ 231 تا 232۔
سردار شوکت حیات خان کا یہ بیان اس دردناک حقیقت کی ایک واضح مثال ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلم لیڈر کس طرح مذکورہ مثل کا شکار ہوئے ہیں۔ وہ ممکن اور ناممکن کے فرق کو سمجھ نہ سکے۔ وہ نہ ملنے والی چیز کو پانے کے لیے دوڑے، نتیجہ یہ ہوا کہ ملنے والی چیز بھی ان سے کھو گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ملنے والی چیز بھی ان سے کھوئی گئی، اور نہ ملنے والی چیز تو سرے سے ملنے والی ہی نہ تھی۔
نمبر 2: اب اس نوعیت کی ایک اور مثال لیجیے۔ اس مثال کا تعلق 1947 سے پہلے کے دور سے ہے، جبکہ برصغیر ہند میں انگریزوں کا سیاسی اقتدار قائم تھا۔ اس مثال کو اردو "ہفت روزہ الجمعیت" سے لے کر یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ جمعیت علمائے ہند کے اجلاس امروحہ، 3 تا 5 مئی 1930 عیسوی سے کچھ روز قبل، وائسرائے ہند کی کونسل کے ایک ذمہ دار ممبر سر میاں فضل حسین مرحوم نے صاحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید دہلوی کو بلا کر یہ پیشکش کی کہ آپ جمعیت علماء کے اجلاس امروحہ میں کانگریس کے ساتھ اشتراک عمل کی تجویز پاس نہ ہونے دیں۔
میں حکومت برطانیہ سے مقبرہ صفدر جنگ اور اس سے ملحقہ جائیداد بمع اراضی جمعیت علماء ہند کے علمی کاموں کے لیے دلوا دوں گا۔ حضرت مولانا نے اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں فرمایا: "میاں صاحب، تمام علمائے کرام و زعماء عظام مجھے بے وقوف نہیں بنائیں گے کہ ہم پورے ملک کو حاصل کرنے کی تجویز پاس کر رہے ہیں اور تم صرف ایک مقبرہ، وہ بھی مسلمانوں کے وقف ملکیت پر فیصلہ کر رہے ہو۔ " مولانا کے جواب سے میاں صاحب موصوف کو بہت مایوسی ہوئی۔ یہ واقعہ حضرت مولانا نے راقم الحروف سے خود بیان فرمایا تھا۔
جمعیت علمائے ہند کا پچاس سالہ عہد از شیخ عبدالحق پراچہ دہلوی، ناظم اعلیٰ جمعیت علماء صوبہ دہلی، مطبوعہ "الجمعیت ویکلی" دہلی، 2 جنوری 1970 عیسوی، صفحہ 8۔ 1930 عیسوی کے اس واقعے کو اب 75 سال کے بعد کے حالات کی روشنی میں دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ اس معاملے میں وہی صورت پیش آئی جس کا ذکر مذکورہ عوامی مثل میں کیا گیا ہے۔ 75 سال پہلے کے رہنماؤں کو ایک نہایت قیمتی موقع کسی کوشش کے بغیر مل رہا تھا، مگر وہ اس قیمتی موقع سے صرف اس لیے فائدہ نہ اٹھا سکے کہ ان کے ذہن میں ایک بہت بڑی چیز بسی ہوئی تھی، اگرچہ حقیقت واقعے کے اعتبار سے وہ چیز انہیں ملنے والی ہی نہ تھی۔ انگریزوں کی مذکورہ پیشکش اپنے امکانات کے اعتبار سے وہی اہمیت رکھتی تھی جس کی پیشکش مغل بادشاہ جہانگیر کے زمانے میں انگریز تاجر کو کی گئی اور اس نے اس کو فوراً قبول کر لیا۔
75 سال پہلے کے مسلم رہنما اگر انگریز کی مذکورہ پیشکش کو قبول کر لیتے اور اس کو علمی اور تعلیمی اور دعوتی مرکز بنا دیتے تو اس کے نتائج اتنے دور رس نکلتے کہ شاید تاریخ کا نقشہ ہی کچھ دوسرا ہوتا۔ اوپر جو دو مثالیں پیش کی گئیں، یہی موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مشہور رہنماؤں کے ساتھ پیش آیا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے لیے کام کے عظیم مواقع موجود تھے، مگر تقریباً ہر ایک کا یہ حال ہوا کہ وہ ناممکن کو نشانہ بنا کر اس کی طرف دوڑا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ممکن کو بھی حاصل نہ کر سکا، اور ناممکن تو حاصل ہونے والا ہی نہ تھا۔
مثلاً سید جمال الدین افغانی کو ترکی کی عثمانی سلطنت نے کام کے عظیم مواقع دیے، مگر جمال الدین افغانی خود عثمانی سلطنت کی جڑ اکھاڑنے پر تل گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں ترکی کو چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ مصر کے سید قطب کو وزارت تعلیم بہت چھوٹی چیز لگی۔ وہ خود ناصر کے سیاسی اقتدار کو ختم کرنے کے درپے ہو گئے۔
نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں چھوٹی چیز اور بڑی چیز دونوں ہی سے محروم ہونا پڑا۔ یہی معاملہ پاکستان میں سید ابو الاعلی مودودی کے ساتھ پیش آیا۔ وہاں کے سابق حکمران صدر محمد ایوب خان نے سید ابو الاعلی مودودی اور ان کے ساتھیوں کو یہ پیشکش کی کہ وہ حکومت کے مکمل تعاون سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر ایک نیشنل یونیورسٹی بنائیں اور اس کے ذریعے وہ نئی نسل کی تعلیم و تربیت پر کام کریں۔ مگر دوبارہ یہی ہوا کہ سید ابو الاعلی مودودی کو مذکورہ پیشکش چھوٹی معلوم ہوئی۔
انہوں نے پوری حکومت پر قبضہ کرنے کی دھواں دار تحریک شروع کر دی، مگر تمام کوششوں کے بعد آخر کار جو کچھ ہوا وہ یہ تھا کہ وہ چھوٹی چیز اور بڑی چیز دونوں ہی سے محروم ہو کر رہ گئے۔ یہی موجودہ زمانے کے اکثر مسلم رہنماؤں کی کہانی ہے۔ وہ اپنی خیالی امنگوں میں اتنا گم ہوئے کہ انہیں حقائق و واقعات کی خبر نہ ہو سکی۔ وہ بڑے بڑے نشانوں کو اپنا مقصد بنا کر ان کی طرف دوڑتے رہے، حالانکہ یہ نشانے سرے سے ان کے لیے قابلِ حصول ہی نہ تھے۔
اور جو چیز ان کے لیے حالات کے اعتبار سے قابلِ حصول تھی، وہ انہیں دکھائی ہی نہ دی۔ اسی غیر حقیقت پسندانہ مزاج کا نتیجہ ہے کہ ان مشہور رہنماؤں نے صرف ناکام اقدامات کی مثالیں قائم کیں۔ وہ کامیاب اور نتیجہ خیز اقدام کی مثال قائم نہ کر سکے۔ زیادہ کو پانے کی کوشش میں وہ تھوڑے سے بھی محروم رہے۔
مسلم رہنماؤں کی اس بھیانک غلطی کا سبب یہ تھا کہ تھوڑے کو وہ صرف تھوڑا سمجھے۔ وہ تھوڑے کو زیادہ کے روپ میں نہ دیکھ سکے۔ وہ زندگی کے اس راز سے ناآشنا رہے کہ عمل کا آغاز ہمیشہ تھوڑے سے کیا جاتا ہے۔ زیادہ سے عمل کا آغاز ممکن نہیں۔
جو آدمی اس راز کو سمجھ لے، وہ تھوڑے سے شروع کر کے آخر کار زیادہ تک پہنچ جائے گا۔ اور جو شخص اس راز کو نہ سمجھے، وہ اپنے غیر حقیقت پسندانہ مزاج کی بنا پر اپنے عمل کا نقطہ آغاز ہی نہ پائے گا۔ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ جو آدمی اپنے سفر کا نقطہ آغاز پا لے، وہ کبھی نہ کبھی اپنی منزل تک پہنچ جائے گا۔ اور جو آدمی اپنے سفر کا نقطہ آغاز نہ پائے، وہ کبھی اپنی منزل تک نہ پہنچے گا، خواہ وہ ساری عمر بے فائدہ دوڑ دھوپ کرتا رہے۔
زندگی کے اسی اصول کا نام دینی اصلاح میں قناعت ہے، اور قناعت بلاشبہ ہر قسم کی انفرادی اور اجتماعی کامیابیوں کا واحد راز ہے۔ ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں معمولی لفظی فرق کے ساتھ آئی ہے۔ مثلاً صحیح مسلم، کتاب الزکوۃ، الترمذی، کتاب الزہد، مسند احمد بن حنبل وغیرہ۔ مسند احمد کے الفاظ یہ ہیں: "إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: قد أفلح من أسلم رزق كفافًا وقنعه الله بما آتاه" مسند احمد جلد 2 صفحہ 168۔
یعنی اس شخص نے فلاح پائی جس نے اسلام قبول کیا اور اس کو بقدر ضرورت رزق ملا اور اللہ نے اس کو اس پر قناعت دی جو اس کو اس نے دیا۔ اس حدیث کو عام طور پر انفرادی معنوں میں اور معاشی مفہوم میں لیا جاتا ہے، مگر وہ اس سے بہت زیادہ وسیع ہے۔ اس حدیث کا پورا مطلب یہ ہے کہ افراد یا قوموں کو موجودہ زمانے میں جو کچھ ملے یا حالات کے اعتبار سے جو ان کے لیے ممکن ہو، اس کو وہ خوش دلی کے ساتھ قبول کر لیں۔ اس پر راضی رہتے ہوئے وہ اپنا عمل شروع کر دیں۔
اس کا پہلا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ ملے ہوئے کو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ممکن ہے کہ جو کچھ ان کو حال میں حاصل نہیں، وہ ان کی منصوبہ بند جدوجہد کے نتیجے میں مستقبل میں حاصل ہو جائے۔ کتاب مسائل اجتہاد مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 163۔