Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Qanaat,taraqqi.

Urdu · 2 min

قناعت، ترقی۔ اکثر خبریں آتی ہیں کہ فلاں بڑی کمپنی دیوالیہ ہو گئی۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ بڑی بڑی کمپنیاں دیوالیہ پن، یعنی bankruptcy، کا شکار ہو جاتی ہیں؟ اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ ہے اپنی طاقت سے زیادہ بڑی چھلانگ لگانا۔

عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ ایک کمپنی کے پاس ذاتی سرمایہ صرف چند ملین ڈالر ہے، مگر وہ ایک ایسے صنعتی کاروبار کا منصوبہ بناتی ہے جس کو قائم کرنے کے لیے کئی بلین ڈالر درکار ہیں۔ اب وہ بینک سے سودی قرض لیتی ہے۔ یہ قرض سود کے ساتھ قسطوں میں ادا کیا جاتا ہے۔ اب اگر کمپنی کی آمدنی حسبِ اندازہ جاری رہے تو قرض کی قسطیں بھی ادا ہوتی رہیں گی۔

لیکن اگر کسی وجہ سے آمدنی میں خلل پڑ جائے تو کمپنی اس قابل نہ رہے گی کہ وہ قرض کی قسطوں کو ادا کر سکے۔ اسی توازن کے ٹوٹنے کا نام دیوالیہ پن ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہر مادہ پرست انسان کو کسی نہ کسی صورت میں پیش آتا ہے۔ یہ مسئلہ کیوں پیدا ہوتا ہے؟

اس کا ایک نہایت گہرا سبب ہے: ہر آدمی پیدائشی طور پر زیادہ کی طلب رکھتا ہے۔ اپنی طلب میں کسی حد پر رکنا انسانی مزاج کے خلاف ہے۔ یہی وہ فطری مزاج ہے جو مذکورہ مسئلہ پیدا کرتا ہے۔ مادی طرز فکر میں اس مسئلے کا کوئی حل نہیں۔

جو آدمی مادی کامیابی کی اصطلاحوں میں سوچتا ہو، وہ کبھی اس کمزوری سے بچ نہیں سکتا۔ اس سے یہ کہنا کہ تم ایک مادی حد پر رک جاؤ، اس کے مزاج کے خلاف ہے۔ اس لیے وہ قابلِ عمل بھی نہیں۔ اس معاملے میں قابلِ عمل فارمولا صرف ایک ہے، اور وہ ہے آخرت پسندانہ سوچ۔

آخرت پسندی کے مطابق اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ آدمی دنیا میں بقدرِ ضرورت پر راضی ہو جائے اور آخرت میں بقدرِ شوق کا طلبگار ہو۔ یعنی دنیا میں ضرورت کو کافی سمجھنا، اور زیادہ کی طلب کا رخ آخرت کی طرف کر دینا۔ مختصر الفاظ میں اس کا فارمولا یہ ہے: دنیا میں محدود پر راضی ہونا، اور لامحدود کو آخرت میں چاہنا۔ کتاب: مسائل اجتہاد، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 125۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.