Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Siyaq-o-sabaq ki ahmiyyat.

Urdu · 4 min

سیاق و سباق کی اہمیت: کسی بات کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے سیاق، یعنی context، کو سامنے رکھا جائے۔ اس معاملے کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اگر سیاق کو بدل دیا جائے تو سارا مفہوم ہی بدل جائے گا۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجیے: راقم الحروف کی کتاب "تذکیر القرآن" پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صاحب نے لکھا ہے: "مولانا وحید الدین کے نظریات سے اختلاف الگ بات ہے، اور مولانا کے اس نظریے کو کہ ہندوستانی مسلمان ہندوستان میں بے مسائل، یعنی بے حقوق ہو کر رہیں گے، تو انہیں اس ملک میں امن نصیب ہوگا، ورنہ نہیں ہوگا۔ " اس نظریے کو آنے والا مؤرخ پسپائی، ہزیمت اور بزدلی کے کون سے درجے میں رکھے گا، یہ وہی جانے۔

(علمائے دیوبند کی تفسیری خدمات، صفحہ 49) اس تنقیدی ریمارک میں میری کوئی عبارت نقل نہیں کی گئی ہے، بلکہ بطور خود کچھ الفاظ لکھ کر ان کو میرا نظریہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ طریقہ سراسر غیر علمی ہے۔ اس اقتباس میں میرا جو نظریہ بتایا گیا ہے، وہ میرا نظریہ ہی نہیں۔ میرا کہنا یہ ہے کہ مسلمان اس ملک میں داعی کی حیثیت رکھتے ہیں، اور ان کے مقابلے میں برادرانِ وطن کی حیثیت مدعو کی ہے۔

یعنی مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان جو رشتہ ہے، وہ قومی حریف کا رشتہ نہیں ہے، بلکہ وہ داعی اور مدعو کا رشتہ ہے۔ دو قوموں کے درمیان اگر حریف اور رقیب کا رشتہ ہو، تو اسی کے مطابق ان کے تعلقات قائم ہوں گے۔ ایسی حالت میں اگر ایک قوم دوسری قوم کے خلاف اپنے دنیاوی حقوق کے لیے احتجاج اور مطالبے کی مہم چلائے، تو وہ بالکل درست ہوگی۔ مثلاً پسماندہ طبقے کی طرف سے اونچی ذات کے لوگوں کے خلاف، یا محنت کش طبقے کی طرف سے سرمایہ دار طبقے کے خلاف حقوق طلبی کی مہم۔

ایسے کسی گروہ کے لیے اس قسم کی مہم چلانے کا معیار ان کے لیے صرف ملکی قانون اور ملکی دستور ہے۔ اب چونکہ ملکی قانون اور ملکی دستور اس قسم کی مہم کی اجازت دیتا ہے، اس لیے وہ ان گروہوں کے لیے جائز مہم قرار پائے گی۔ مگر اہل اسلام کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اہل اسلام کے لیے صرف وہ مسلک درست ہے جو قرآن و سنت کے مطابق درست ہو، اور وہ مسلک غلط ہے جو قرآن و سنت سے غلط قرار پائے۔

اس لحاظ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ قرآن و سنت کے معیار کے مطابق اہل اسلام کی حیثیت داعی کی ہے اور بقیہ قوموں کی حیثیت مدعو کی۔ یہ تعلق بے حد نازک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل اسلام کی حیثیت دینے والے گروہ، یعنی giver group کی ہے، اور دوسری قوموں کی حیثیت لینے والے گروہ، یعنی taker group کی۔ داعی اور مدعو کے اس رشتے کا تقاضا ہے کہ اہل اسلام اپنے مسائل کے لیے احتجاج اور مطالبات کا طریقہ نہ اختیار کریں، کیونکہ اس سے داعی اور مدعو کے درمیان دعوت کی معتدل فضا باقی نہیں رہتی۔

اس نازک رشتے کا تقاضا ہے کہ اہل اسلام اپنے مسائل کو خود اپنی کوشش سے حل کریں۔ اس وضاحت سے اندازہ ہوتا ہے کہ راقم الحروف نے جو بات دعوت کے سیاق میں کہی تھی، اس کو اس کے سیاق سے ہٹا کر دوسرے غیر متعلق سیاق سے جوڑ دیا گیا۔ اس طرح کلام کا اصل منشا بالکل بدل کر رہ گیا۔ کتاب "مسائل اجتہاد"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 122۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.