چھوٹا شر۔ حضرت عمر فاروق کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: "ليس العاقل الذي يعرف الخير من الشر، ولكنه الذي يعرف خير الشرّين." العبقریات الاسلامیہ، صفحہ 505۔ عقلمند وہ نہیں ہے جو یہ جانے کہ خیر کیا ہے اور شر کیا ہے، بلکہ عقلمند وہ ہے جو یہ جانے کہ دو شر میں سے کون سا شر بہتر ہے۔ حضرت عمر فاروق کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی آدمی کے پاس صرف دو فہرست ہوں، ایک ان چیزوں کی فہرست جو خیر ہیں اور دوسری ان چیزوں کی فہرست جو شر ہیں، ایسا آدمی عالم تو ہو سکتا ہے مگر وہ عاقل نہیں ہو سکتا۔
عاقل یا دانشمند ہونے کے لیے آدمی کو ایک اور چیز سے واقفیت ہونی چاہیے، اور وہ خیر الشرّین ہے، یعنی دو شر میں سے بہتر شر۔ یہ جاننا کہ دو شر میں سے کون سا شر نسبتاً کم نقصان والا ہے یا چھوٹی برائی یعنی لیسر ایول کی حیثیت رکھتا ہے۔ مثلاً آپ کے گھر کے سامنے کچھ لوگ قابلِ اعتراض نعرے لگا رہے ہوں تو ایک شر ان کی یہ نعرہ بازی ہے، دوسرا امکانی شر یہ ہے کہ اگر آپ انہیں روکیں یا ان سے نزاع کریں تو وہ مزید مشتعل ہو کر فساد برپا کریں گے اور جان و مال کا نقصان پہنچائیں گے۔ اب عقلمند آدمی وہ ہے جو ٹھنڈے ذہن سے سوچ کر یہ سمجھے کہ دونوں قسم کے شر میں سے کون سا شر بڑا ہے اور کون سا شر چھوٹا، اور پھر وہ چھوٹے شر کو برداشت کر لے تاکہ اس کو بڑا شر برداشت نہ کرنا پڑے۔
عام آدمی معاملات میں صرف دو چیزوں کو جانتا ہے: خیر کے پہلو کو اور شر کے پہلو کو۔ مگر دانشمند آدمی وہ ہے جو شر کو دو قسموں میں تقسیم کر سکے، اور پھر دونوں میں سے جو شر مقابلتاً خیر یا بالفاظِ دیگر کم ضرر رساں ہو، اس کو گوارا کر لے تاکہ وہ زیادہ بڑے شر سے بچ سکے۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 114۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.