Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Ghalat soch ka noqsaan.

Urdu · 5 min

غلط سوچ کا نقصان۔ 1930 میں الہ آباد میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس ہوا۔ علامہ اقبال اس وقت لاہور میں رہتے تھے، وہ الہ آباد آئے اور اس اجلاس کی صدارت کی۔ اقبال نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ غیر منقسم ہندوستان میں مسلمان اپنی شناخت کو محفوظ نہ رکھ سکیں گے۔

اس لیے ہندوستان جب آزاد ہو تو یہاں کے مسلم اکثریتی علاقے میں ان کا علیحدہ مسلم لینڈ بنایا جائے۔ یہ تجویز بعد کو پاکستان کے نام سے مسلمانوں میں مقبول ہوئی، یہاں تک کہ 1947 میں برصغیر ہند سے الگ ایک مسلم علاقہ پاکستان کے نام سے وجود میں آ گیا۔ علیحدہ مسلم خطے کا یہ تصور دوسرے مسلم مفکرین نے بھی اختیار کر لیا، اور اس تصور پر مبنی بہت سی تحریکیں دنیا کے مختلف حصوں میں وجود میں آ گئیں۔ ان تحریکوں کو ایک لفظ میں پاکستانائزیشن کہا جا سکتا ہے۔

اس کے بعد یہ ہوا کہ جس ملک میں بھی کوئی ایسا سرحدی خطہ تھا جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی، وہاں پاکستانائزیشن کی یہ تحریک شدت کے ساتھ ابھر آئی۔ ہر جگہ ایسے لیڈر پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی پرجوش تحریروں اور تقریروں کے ذریعے مسلمانوں میں علیحدگی پر مبنی جذباتی سیاست کو فروغ دیا۔ اس سلسلے میں مثال کے طور پر برما، فلپائن، ابی سینیا، چین، یوگوسلاویہ وغیرہ کا نام لیا جا سکتا ہے۔ یہ علاقائی مسلم لیڈر اپنے اپنے پاکستانائزیشن کے خیالی تصور میں دیوانگی کی حد تک پرجوش تھے۔

چنانچہ انہوں نے اپنی تفریقی سیاست کی تحریک کو پرامن طریقہ کار تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اس کو مسلح جدوجہد یعنی آرمڈ سٹرگل کے دائرے کی خونی حد تک پہنچا دیا۔ پاکستانائزیشن کی یہ پرتشدد تحریکیں ہر جگہ ناکامی سے دوچار ہوئیں۔ اس نے مسلمانوں کے مسائل میں اضافے کے سوا کچھ اور کارنامہ انجام نہیں دیا۔ پاکستانائزیشن کی یہ تباہ کن تحریک کیوں کر ساری دنیا میں مقبول ہو گئی؟

اس کا سبب اس دور کے مسلم رہنماؤں کی ایک خلافِ زمانہ سوچ یعنی اناکرونسٹک تھنکنگ تھی۔ وہ زمانے کی نئی تبدیلیوں کو سمجھ نہ سکے۔ ایک ایسے دور میں جب کہ ساری دنیا ایک ہو کر گلوبلائزیشن کے دور میں داخل ہو رہی تھی، عین اسی زمانے میں مسلم رہنماؤں نے زمانے سے اپنی بے خبری کے نتیجے میں پاکستانائزیشن کی صورت میں برعکس تحریکیں چلا دیں۔ یہ تحریکیں زمانی چٹان سے ٹکرانے کے ہم معنی تھیں۔

اس لیے اس قسم کی تحریکوں کا وہی منفی انجام ہوا جو اول دن سے ان کے لیے مقدر تھا۔ جدید زمانی تبدیلیوں نے پچھلے ہر دور سے زیادہ باہمی اختلاط یعنی انٹریکشن کی اہمیت بڑھا دی تھی۔ مگر مسلم لیڈر انتہائی نادانی کے ساتھ اس کے سراسر برعکس اپنی تحریکیں چلا رہے تھے۔ تاریخی تجربات آخری طور پر ثابت کر چکے تھے کہ ترقی کا لازمی ذریعہ چیلنج اور مسابقت یعنی کمپیٹیشن ہے۔

مگر یہ مسلم لیڈر نہایت سرگرمی کے ساتھ مسلمانوں کے لیے ایک ایسی دنیا بنانے میں مشغول تھے جہاں ان کے لیے نہ چیلنج ہو اور نہ مسابقت کا ماحول۔ جدید تبدیلیوں نے ترقی کے جو اعلیٰ مواقع کھولے تھے، ان سے یہ ثابت ہو رہا تھا کہ وسیع مشترک عمل سے ہی بڑی ترقیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ مگر یہ مسلم لیڈر مسلمانوں کے لیے ایسا سیاسی جزیرہ بنانے کو اپنا کارنامہ سمجھ رہے تھے جہاں وہ مشترک کثیر بین الاقوامی تعاون سے محروم ہو گئے ہوں۔ جدید کمیونیکیشن نے جغرافی علیحدگی کے تصور کو سراسر غیر ضروری قرار دے دیا تھا۔

مگر یہ مسلم لیڈر اس تبدیلی سے بے خبر ہو کر مضحکہ خیز حد تک بے فائدہ تحریکوں میں اپنا وقت اور مال ضائع کرتے رہے۔ زمانے نے آزادی اور جمہوریت کی صورت میں ایک عظیم امکان کھولا تھا جو شخصی حکومت کے بجائے عمومی اشتراک طاقت یعنی پاور شیئرنگ کے اصول پر قائم تھا۔ مگر ان مسلم لیڈروں نے نہ اس امکان کو سمجھا اور نہ وہ اس کو استعمال کرنے میں کامیاب ہو سکے۔ جدید تبدیلیوں نے ایک نیا موافق امکان کھولا تھا جس کو ادارتی دور یعنی ایج آف انسٹیٹیوشنز کہا جا سکتا ہے۔

قدیم شاہی زمانے کے برعکس اب حکومت صرف ایک منتظمہ یعنی ایڈمنسٹریشن کے محدود سیاسی دائرے میں سمٹ آئی تھی۔ اس کے سوا ہزاروں نئے شعبے ایسے پیدا ہو گئے تھے جن میں ادارے یعنی انسٹیٹیوشنز قائم کر کے حکومتی رتبے سے بھی بڑا رتبہ حاصل کیا جا سکتا تھا۔ مثلاً تعلیم، اقتصادیات، میڈیا وغیرہ وغیرہ۔ مگر یہ مسلم لیڈر شعوری طور پر اس جدید امکان سے باخبر ہی نہ تھے۔

پھر وہ اس کو استعمال کس طرح کرتے؟ کتاب مسائل اجتہاد مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 111۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.