Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Secund chance.

Urdu · 2 min

سیکنڈ چانس: ایک شخص ایک کمپنی میں مینیجر تھا، کمپنی کے مالک سے اس مینیجر کا جھگڑا ہو گیا۔ یہ جھگڑا بڑھتا رہا، اس جھگڑے نے مینیجر کو سخت ذہنی انتشار میں مبتلا کر دیا، یہاں تک کہ وہ سوچنے لگا کہ وہ خودکشی کر لے۔ مسئلے کو ختم کرنے کے بجائے اس نے یہ طے کیا کہ وہ خود اپنا خاتمہ کر لے، اور اس طرح وہ اس مسئلے سے نجات حاصل کرے۔ مجھ سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے کہا کہ آپ خودکشی کیوں کرنا چاہتے ہیں؟

آپ کے لیے زندگی کے راستے کھلے ہوئے ہیں، پھر موت کا راستہ اختیار کرنے کی کیا ضرورت؟ میں نے کہا کہ آپ نے بظاہر صرف فرسٹ چانس کو کھویا ہے، سیکنڈ چانس پھر بھی آپ کے لیے موجود ہے۔ آپ ایسا کیجیے کہ اپنی جگہ بدل لیجیے، آپ کسی دوسرے شہر میں چلے جائیے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ اپنی صلاحیت کی بنا پر دوسرے شہر میں اپنے لیے اچھے مواقع پا لیں گے۔

یہ مشورہ دینے کے بعد میں نے ان کی ڈائری میں یہ الفاظ لکھے: "باغ کا مالی کبھی باغ کے ایک پودے کو اپنی جگہ سے اکھاڑتا ہے، صرف اس لیے تاکہ وہ اس کو دوسری زیادہ بہتر جگہ پر نصب کرے۔ " انہوں نے میرا مشورہ مان لیا اور کمپنی سے استعفیٰ دے کر ایک اور شہر میں چلے گئے۔ اب وہاں وہ کاروبار کر رہے ہیں، پہلے کے مقابلے میں اب وہ معاشی اعتبار سے بہت زیادہ بہتر ہیں۔ ہر آدمی کی زندگی میں وہ وقت آتا ہے جب کہ وہ کسی محرومی کا تجربہ کرتا ہے۔

جو لوگ محرومی کو صرف ایک محرومی سمجھیں، وہ نئی کوشش کے ذریعے اپنے آپ کو دوبارہ کامیاب کر لیتے ہیں۔ اور جو لوگ محرومی کو مستقل ناکامی سمجھ لیں، وہ پست ہمت ہو کر بیٹھ جاتے ہیں، ان کے اندر دوبارہ کوئی نیا عمل کرنے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔ یہ دونوں حالتیں آدمی کی اپنی سوچ پر منحصر ہیں۔ ایک قسم کی سوچ آدمی کو ناکام بنا دیتی ہے، اور دوسری قسم کی سوچ اس کو کامیابی کی طرف لے جاتی ہے۔

کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 109۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.