دانش مند کی پہچان ایک مغربی رائٹر ولیم رالفنگ نے لکھا ہے کہ دانش مند آدمی وہ ہے جو چیزوں کی اضافی حیثیت کو جانے۔ A wise man is he who knows the relative value of things. چیزوں کی اضافی حیثیت کا مطلب سادہ طور پر یہ ہے کہ آدمی اپنے عمل کے نتیجے کو جانے۔ عمل کے نتیجے سے بے خبری اگر نادانی کا ثبوت ہے تو عمل کے نتیجے سے باخبر ہونا دانشمندی کا ثبوت۔
ایک شخص کے دوست نے اس کو دھوکہ دے کر 100000 روپیہ غصب کر لیا، اب اس آدمی کے اندر انتقام کی آگ بھڑک اٹھی۔ اس نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے اس سابق دوست کو قتل کر ڈالے۔ اس آدمی کی ملاقات مجھ سے ہوئی تو میں نے کہا کہ انتقام لینے سے پہلے سوچ لیجیے کہ انتقام کا بھی انتقام لیا جائے گا۔ آپ اپنے سابق دوست کو قتل کریں گے تو اس کے بیٹے دوبارہ آپ کو قتل کریں گے۔
اس طرح دونوں خاندانوں میں دشمنی اور انتقام کا ایک سلسلہ قائم ہو جائے گا۔ میں نے کہا کہ آپ کی ایک غلطی نے آپ کے دوست کو یہ موقع دیا کہ وہ آپ کے مال پر قبضہ کر لے۔ اب آپ کے لیے صحیح بات یہ ہے کہ آپ اپنی غلطی کو مانیں اور آئندہ کے لیے اس کی اصلاح کر لیں۔ انتقام لینا اپنی ایک غلطی کو مسلسل تباہی کی صورت دینا ہے، اور انتقام نہ لینا غلطی کو ابتدائی درجے ہی میں روک دینا ہے۔
نادان آدمی صرف اپنے اقدام کو جانتا ہے، اور دانشمند آدمی اسی کے ساتھ اپنے اقدام کے اضافی نتیجے کو بھی۔ کتاب: مسائل اجتہاد، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 109۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.