Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Aghyaar ki riaayat.

Urdu · 3 min

اغیار کی رعایت اسلام میں ایک مستقل اصول وہ ہے جس کو قرآن میں "تالف قلب" کہا گیا ہے، سورہ التوبہ آیت 60۔ تالف قلب کا مطلب ہے دلوں کو جوڑنا، لوگوں کو اپنے سے مانوس کرنا۔ یہ مقصد صرف اس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے کہ دوسروں کی رعایت کی جائے، دوسروں کے جذبات اور مفادات کا احترام کیا جائے۔ تالف کا یہ اصول اسلامی دعوت کا ایک اہم اصول ہے، و ابدی طور پر ہر انسانی سماج میں مطلوب ہے۔

پیغمبر اسلام نے اپنی پوری زندگی میں تالف قلب کے اس اصول پر عمل فرمایا۔ مثلاً جب آپ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو اس وقت وہاں اہل ایمان کے ساتھ مشرکین اور یہود بھی آباد تھے۔ اس وقت آپ نے اپنی طرف سے ایک منشور جاری فرمایا، جس کو عام طور پر "صحیفہ مدینہ" کہا جاتا ہے۔ اس میں آپ نے اعلان فرمایا کہ ہر گروہ کو اپنے مذہب اور کلچر کی آزادی ہوگی، ہر قبیلے کے نزاعی معاملات میں اس کی اپنی قبائلی روایات کے تحت طے کیے جائیں گے۔

عقیدہ اور کلچر کے معاملے میں کسی کو مجبور نہیں کیا جائے گا۔ یہود کے ساتھ آپ نے خصوصی رعایت کا معاملہ فرمایا۔ رمضان کے روزے کی فرضیت سے پہلے آپ بھی انہی دنوں میں روزہ رکھتے تھے جبکہ یہود روزہ رکھتے تھے۔ تحویل قبلے کا حکم آنے سے پہلے تقریباً 17 مہینے تک آپ نے یہود کے قبلے، بیت المقدس کو اپنا قبلہ بنائے رکھا۔

یہود کے قبلہ عبادت کو اپنا قبلہ بنانا اس لیے تھا کہ آپ امید رکھتے تھے کہ اس طرح وہاں کے یہود آپ سے مانوس ہوں گے اور آپ کے قریب آ جائیں گے۔ تفسیر القرطبی جلد 2 صفحہ 150۔ پیغمبر اسلام کا طریقہ مخالفت کے جواب میں مخالفت نہ تھا، بلکہ مخالفت کے جواب میں رعایت تھا۔ آپ کی سوچ یہ نہیں تھی کہ لوگوں کو دبا کر انہیں اپنا تابع بنائیں۔

اس کے برعکس آپ کا طریقہ یہ تھا کہ لوگوں کے ساتھ شفقت اور رعایت کا معاملہ کیا جائے، ان کے دل کو نرم کر کے انہیں اپنا ساتھی بنایا جائے۔ کتاب مسائل اجتہاد مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 94۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.