← Masaail-e-IjtihaadMasaail-e-Ijtihaad
Rabbani taaqqul.
Urdu · 9 min
ربانی تعقل۔ قرآن میں بنیادی طور پر دو قسم کی تعلیمات ہیں: ایک وہ جن کو احکام کہا جاتا ہے، اور دوسرے وہ جو تفکر اور تدبر سے تعلق رکھتی ہیں۔ اول الذکر کی حیثیت اگر عملی ہے تو ثانی الذکر کی حیثیت فکری۔ قرآن میں دونوں ہی قسم کی تعلیمات اجمالی انداز میں آئی ہیں۔
یہ کام علمائے اسلام کا ہے کہ وہ قرآن و حدیث کی رہنمائی میں اس اجمال کی تفصیل کریں۔ جہاں تک احکام کا تعلق ہے، ان کی تفصیل اور تدوین فقہ کی صورت میں کی گئی ہے۔ یہ کام بہت بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ اس کو بنیادی طور پر ایک کامیاب کوشش کہا جا سکتا ہے۔
جہاں تک تفکر اور تدبر والے حصے کا تعلق ہے، ان کے سلسلے میں بھی پچھلے ہزار سال کے دوران مقدار کے اعتبار سے کافی کام ہوا ہے، مگر وہ بڑی حد تک غیر اطمینان بخش ہے۔ یہ کہنا غالباً درست ہوگا کہ اس پہلو سے جو لٹریچر تیار ہوا ہے، وہ زمانی افکار سے اتنا زیادہ متاثر ہے کہ قرآن کی حقیقی روح اس میں اوجھل ہو گئی ہے۔ اس موضوع پر کام کرنے والوں کا پہلا گروہ وہ ہے جن کو متکلمین کہا جاتا ہے۔ یہ گروہ ابتداً عباسی خلافت کے زمانے میں پیدا ہوا۔
اس گروہ کے مشہور ناموں میں سے الفارابی وفات 950 عیسوی، ابن رشد وفات 1198 عیسوی، الرازی وفات 1210 عیسوی وغیرہ ہیں۔ متکلمین کے اس گروہ نے قرآنی تفکر اور تدبر کے اظہار کے لیے جس فکری ماڈل کو اپنایا، وہ یونانی فلسفے کا ماڈل تھا۔ یہ فلسفہ قیاسی منطق کے اصول پر قائم تھا، اس لیے وہ بذات خود ایک غیر حقیقی ماڈل تھا۔ اس ماڈل پر قرآن کے فکری اجمال کی جو تفصیل کی گئی، وہ بڑی حد تک من تمن تق تزندقہ کی مصداق تھی۔
اس پورے مجموعے پر فارسی شاعر کا یہ شعر صادق آتا ہے: «فلسفی سرِ حقیقت نتوانست کشود، گشت رازِ دیگران راز كه افشا میکرد». اس سلسلے کا دوسرا گروہ وہ ہے جس نے وحدت وجود کے تصور پر قرآنی عقلیت کو واضح کرنا چاہا۔ اس کو ایک لفظ میں وحدانی تعقل کہا جا سکتا ہے۔ اس طبقے کی چند مشہور کتابیں یہ ہیں: ابن العربی کی کتاب الفتوحات المکیہ، مولانا روم کی مثنوی، علامہ اقبال کی تشکیل جدید الہیات اسلامیہ یعنی ریکنسٹرکشن آف ریلیجس تھاٹ ان اسلام۔
یہ طریقہ جس کو ہم نے وحدانی تعقل کا نام دیا ہے، وہ اول الذکر یونانی تعقل سے بھی زیادہ غلط تھا۔ اول الذکر کو اگر عقلی چیستاں کہا جائے تو یہ دوسرا طریقہ کھلی ہوئی ذہنی گمراہی تھا۔ اس طریقے میں توحید کے عقیدے کو وحدت وجود یعنی مونزم کے تصور پر ڈھال دیا گیا، جبکہ اسلام میں توحید کا عقیدہ وحدت خدا یعنی مونوتھیزم کے اصول پر قائم ہے۔ وحدت وجود کا نظریہ سراسر ذلالت ہے، اور وحدت خدا کا نظریہ سراسر ہدایت۔
موجودہ زمانے میں مسلم اہل قلم کا ایک اور گروہ پیدا ہوا جس نے اسلامی عقلیت کو سیاسی تعقل کے ہم معنی بنا دیا۔ اس گروہ نے اسلام کی تعلیمات کو سیاسی اصطلاحوں میں بیان کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے لا الہ الا اللہ کو لا حاکم الا اللہ کے ہم معنی قرار دیا۔ اس گروہ میں مصر کے سید قطب اور پاکستان کے سید سید ابو الاعلی مودودی وغیرہ شامل ہیں۔
سیاسی تعقل کا یہ طریقہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلامی تعقل کی تصغیر تھا۔ اس تشریح میں عقیدہ اسلامی کی افاقی وسعت سیاست کے محدود دائرے میں سمٹ کر رہ گئی۔ اسلامی تعقل کی اس سیاسی تشریح کے نتیجے میں ایک اور ہلاکت خیز انجام سامنے آیا۔ جو لوگ اس تشریح سے متاثر ہوئے، انہیں کرنے کا کام صرف یہ نظر آیا کہ وہ وقت کے سیاسی ڈھانچے کو توڑیں اور اس کی جگہ اپنے مزعومہ نقشے کے مطابق نیا نظام بنائیں۔
اس طرح اس سیاسی تشریح نے مسلم دنیا میں اس تخریبی سیاست کو مزید شدت کے ساتھ جنم دیا جس کا ایک نمونہ کمیونزم کو ماننے والوں کے درمیان پایا جاتا ہے۔ قرآن کے مطابق تفکر اور تدبر کی تشریح کا صحیح طریقہ وہ ہے جس کو ربانی تعقل کہا جا سکتا ہے۔ یعنی قرآن کے اشارات کو رہنما بنا کر تخلیق خداوندی کا مطالعہ کرنا، اور حقائق فطرت کی روشنی میں ان کی تشریح و تفصیل کرنا۔ مطالعے کا یہی اسلوب حقیقی اسلوب ہے۔
اس سے وہ اہل ایمان پیدا ہوتے ہیں جو معرفت الہی اور خشیت ربانی کی نعمت سے سرشار ہوں۔ قرآن کی سورہ آل عمران کے آخری رکوع میں یہی حقیقت بیان ہوئی ہے۔ قرآن کے دوسرے مقامات پر بھی اس حقیقت کی طرف بار بار اشارہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے کی دو قرآنی آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا، پھر ہم نے اس سے مختلف رنگوں کے پھل پیدا کر دیے، اور پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ مختلف رنگوں کے ٹکڑے ہیں اور گہرے سیاہ بھی، اور اسی طرح انسانوں اور جانوروں اور چوپائیوں میں بھی مختلف رنگ کے ہیں۔
اللہ سے اس کے بندوں میں سے صرف وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ بے شک اللہ زبردست ہے، بخشنے والا ہے۔ فاطر 27 تا 28۔ ربانی تعقل کی تشریح کے لیے موجودہ زمانے میں نئے وسیع امکانات کھل گئے ہیں۔
جدید سائنس کی تحقیقات نے موجودہ زمانے میں فطرت کی جن چھپی ہوئی حقیقتوں کو دریافت کیا ہے، وہ گویا اسی ربانی تعقل کی تفصیل ہیں۔ ربانی تعقل کے ان جدید امکانات کو پیشگی طور پر قرآن میں بتا دیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک متعلق آیت کا ترجمہ یہ ہے: ہم عنقریب ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، افاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی، یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ حامیم السجدہ 53۔
احمد اور الترمذی نے حضرت انس ابن مالک کے حوالے سے ایک حدیث نقل کی ہے۔ اس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مثل امتی مثل المطر لا یدرا اولہ خیر ام آخرہ مشکات المصابیح جلد تین صفحہ 1770۔ یعنی میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے، نہیں معلوم کہ اس کا اول بہتر ہوگا یا اس کا آخر۔ بارش جب ہوتی ہے تو اس کے ابتدائی دور میں بھی انسان کو بہت سی برکتیں حاصل ہوتی ہیں، مگر بعد کے مرحلے میں جب بارش سے سیراب ہو کر زمین سبزہ اور درخت اگاتی ہے تو اس دوسرے مرحلے میں اس کی برکتیں اور زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔
اب فصل اور پھول اور پھل وغیرہ پیدا ہوتے ہیں جو انسان کے لیے بے پناہ خیر و برکت کا ذریعہ ہیں۔ یہی معاملہ دین محمدی کا ہے۔ دین محمدی کا ظہور ہوا تو اس وقت دنیا اپنے روایتی دور میں تھی۔ اس دور میں بھی اس دین کے پیروؤں کو اس سے بے پایاں فائدے حاصل ہوئے۔
بعد کے زمانے میں جب کہ دنیا سائنسی دور میں داخل ہوگی تو اس وقت بھی اس دین کے پیروؤں کو نئے امکانات کے اعتبار سے عظیم فائدے حاصل ہوں گے۔ دین کی علمی و فکری عظمت اثر نو نئی شان کے ساتھ لوگوں کے ذہنوں پر قائم ہو جائے گی۔ اس حدیث میں امت کے دور آخر میں جس عظیم خیر کی پیشنگوئی کی گئی ہے، اس سے مراد غالباً وہی سائنسی حقیقتیں ہیں جنہوں نے نئے وسیع تر انداز میں اس امکان کا دروازہ کھول دیا کہ انسان ان کو استعمال کر کے یقین کے اعلیٰ درجات حاصل کرے اور اسلام کی صداقت کو نئے دلائل و براہین کے ذریعے لوگوں کے اوپر ثابت شدہ بنائے۔ کتاب مسائل اجتہاد مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 71۔