Maulana Wahiduddin Khan
13 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Tafsir birraye.

Urdu · 13 min

تفسیر بالرائے: قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے کرنا ایک گناہ کا فعل ہے۔ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر قرآن کی کسی آیت کا غلط مفہوم بیان کرے تو یہ تحریف ہے۔ البقرہ 75۔ اور قرآن میں اس قسم کی تحریف بلاشبہ ایک ناقابلِ معافی جرم ہے۔

یہ معاملہ اتنا زیادہ نازک ہے کہ محض اپنی رائے کے تحت کی ہوئی تفسیر اگر بالفرض درست ہو، تب بھی یہ اندیشہ ہے کہ وہ آدمی کے لیے گناہ کا سبب نہ بن جائے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ قَالَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلِّ بِرَأِيِّهِ فَأَصَابَ فَقَدْ أَخْطَأَ» سنن ابی داؤد، کتاب العلم، جلد 3، صفحہ 319۔ یعنی جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اپنی رائے سے کہا اور اس نے صحیح کہا، تب بھی اس نے غلطی کی۔ ضروری تفسیری تقاضوں کو پورا کیے بغیر محض اپنی رائے سے قرآن کا مفہوم بیان کرنا ایک غیر محتاط روش ہے۔

اس لیے ایسے کسی آدمی کی تفسیر اگر اتفاقاً درست ہو، تب بھی ایسا شخص اپنی غیر محتاط روش کی بنا پر غلط کار ٹھہرے گا۔ ایسے آدمی کی صحیح تفسیر کرنے کا انعام نہیں مل سکتا۔ ایسے آدمی کو صحیح تفسیر کرنے کا انعام نہیں مل سکتا۔ تفسیر قرآن کے سلسلے میں کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ حدیث اور آثار میں جو تفسیریں منقول ہیں، یا قدماء نے قرآنی آیات کی جو تفسیریں بیان کی ہیں، تفسیر قرآن کا کام بس اسی دائرے کے اندر ہونا چاہیے۔

گویا بعد کی مسلم نسلوں کا کام صرف یہ ہے کہ وہ ابتدائی دور کے علماء اور مفسرین کے اقوال کو دہراتے رہیں، مگر مذکورہ حدیث کا یہ مطلب درست نہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قرآن ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر تدبر کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ سورہ صاد، آیت 29۔ قرآن جب ایک ایسی کتاب ہے جس پر ہر قاری تدبر اور غور و فکر کرے، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہو سکتا کہ صرف پچھلی بیان کردہ باتوں کو پڑھا جائے اور بس انہی کو دہرایا جاتا رہے۔

تدبر کا لفظ اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن کے قاری سے یہ مطلوب ہے کہ وہ گہرے غور و فکر سے اس میں نئے نئے معانی دریافت کرے اور ان سے اپنے ایمانی شعور میں اضافہ کرتا رہے۔ قرآن میں اگر یہ صفت نہ ہو تو وہ لوگوں کے لیے نصیحت اور اضافہ ایمان کی کتاب نہ بن سکے گا۔ گہری نصیحت نئے نئے معانی کی دریافت کے ذریعے ہوتی ہے، نہ کہ کچھ معلوم اور محدود باتوں کی تکرار سے۔ یہ کوئی قیاسی بات نہیں۔

حدیث سے صراحتاً بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن میں نئے نئے معانی کی دریافت کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ چنانچہ ایک روایت کے مطابق رسول اللہ نے فرمایا: «وَلَا تَنْقَضِ عَجَائِبُهُ الدَّارْمِي كِتَابُ القُرْآنِ الدَّارْمِي فَضَائِلُ الْقُرْآنِ التِّرْمِذِي ثَوَابُ الْقُرْآنِ» یعنی قرآن کے عجائب کبھی ختم نہ ہوں گے۔ ایک اور روایت میں "لا تفنی" کا لفظ ہے، یعنی قرآن کے عجائب کبھی فنا نہ ہوں گے۔ اس حدیث میں عجائب سے مراد معنوی عجائب ہیں، یعنی قرآن کے معانی اتنے زیادہ ہیں کہ ہر دور کے علماء اس سے نئے نئے معانی دریافت کرتے رہیں گے، اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔

تاریخ کے ہر دور میں قرآن کی آیتوں میں نئے نئے معانی کی دریافتوں کا سلسلہ جاری رہا ہے، جس کو استنباط کہا جاتا ہے۔ اس کی مثالیں تفسیر کی ہر کتاب میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ موجودہ زمانے میں بھی یہ سلسلہ برابر جاری ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں اعداد قوت کے حکم کے تحت جنگی گھوڑوں کی فراہمی کا حکم دیا گیا ہے۔

الانفال 60۔ موجودہ زمانے میں جنگی گھوڑوں کی جگہ جنگی مشینوں نے لے لی ہے۔ چنانچہ تمام علماء اب اس آیت کی تفسیر کے تحت کہتے ہیں کہ حالات کی تبدیلی کی بنا پر اس آیت میں جنگی گھوڑوں کے بجائے جنگی مشینوں کی فراہمی مراد لی جائے گی۔ کیونکہ اب جنگی گھوڑوں کے ذریعے ارہاب کا فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکتا، جس کو مذکورہ آیت میں اعداد قوت کا مقصود بتایا گیا ہے۔

اب ارہاب کا یہ فائدہ مشینی طاقت کے ساتھ وابستہ ہو گیا ہے۔ قرآن ہر دور میں مسلمانوں کے لیے ذہنی اور علمی ارتقاء کا ذریعہ رہا ہے۔ قرآن کی سب سے اہم صفت یہ ہے کہ وہ ذہن انسانی کو مہمیز کرتا ہے اور اس کو بار بار غور و فکر کے اوپر ابھارتا ہے۔ قرآن اپنے لامحدود معانی کی بنا پر اہل اسلام کے لیے فکری ارتقاء کا ضامن ہے۔

ایسی کتاب میں نئی علمی دریافتوں کا دروازہ بند کرنا خود اس کتاب کے مقصد کی نفی کے ہم معنی ہے۔ ایسا کرنے کی صورت میں اہل اسلام ذہنی جمود کا شکار ہو جائیں گے۔ وہ نہ خود علمی ترقی کریں گے اور نہ انسانی قافلوں کی علمی و فکری قیادت کا مطلوب کام انجام دے سکیں گے۔ اصل یہ ہے کہ قرآن کی تفسیر کی دو قسمیں ہیں: ایک وہ تفسیر جو تدبر کے ساتھ کی جائے، اور دوسری تفسیر وہ ہے جو تدبر کے بغیر کی جائے۔

اسی دوسری تفسیر کا نام تفسیر بالرائے ہے۔ تدبر کے ساتھ تفسیر کا مطلب یہ ہے کہ قاری عربی زبان نیز احادیث و آثار سے بخوبی واقفیت حاصل کرے۔ وہ قرآن کی صرف ایک آیت کو لے کر اس کی تفسیر نہ کرنے لگے، بلکہ وہ مجموعی طور پر پورے قرآن کے منشا و مقصود کو سامنے رکھے۔ وہ قرآن سے متعلق دوسرے علوم سے گہری واقفیت حاصل کرے۔

اسی طرح وہ یہ کرے کہ دور اول سے لے کر بعد کے زمانے تک مسلمہ دینی شخصیتوں نے جو تفسیریں کی ہیں، ان سے وہ بھرپور واقفیت حاصل کرے۔ اسی کے ساتھ وہ تقویٰ کی صفت اپنے اندر پیدا کرے، جس کو قرآن میں علم کا سرچشمہ بتایا گیا ہے۔ سورہ البقرہ آیت 282۔ یہ قرآن کی تفسیر کا صحیح طریقہ ہے۔

اس کے برعکس تفسیر بالرائے یہ ہے کہ آدمی صرف اپنی رائے پر اعتماد کرے۔ آیت کے حوالے سے اس کے ذہن میں جو بھی خیال آ جائے، وہ اس کو تفسیر، وہ اس کو قرآن کی تفسیر سمجھ کر اسے بیان کرنے لگے۔ خواہ آیت کے سیاق و سباق سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو، خواہ قرآن کے مجموعی احکام سے وہ مطابقت نہ رکھتا ہو۔ یہاں تفسیر بالرائے کی چند مثالیں درج کی جاتی ہیں۔

نمبر ایک: تفسیر بالرائے کی ایک صورت وہ ہے جو اتنی قبیح ہے کہ اس کو سننے اور پڑھنے کے بعد فوراً ہی سنجیدہ آدمی کا ذہن اس کو رد کر دے۔ مثلاً قرآن کی ایک آیت یہ ہے: «وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ» المدثر 3۔ اس آیت کا ترجمہ کچھ لوگوں نے یہ کیا کہ "اور تم اپنے رب کو بڑا کرو"۔ اس ترجمے کو لے کر آیت کی تفسیر انہوں نے یہ کی کہ "خدا کی سیاسی بڑائی دنیا میں قائم کرو"۔

خدا کی حکومت کا جھنڈا دنیا میں بلند کرو۔ یہ ترجمہ اور تفسیر دونوں تفسیر بالرائے کی ایک بدترین صورتیں ہیں۔ عقل سلیم ہی اس کو غلط سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ اللہ اپنے آپ میں بڑا ہے۔

وہ اس کا محتاج نہیں کہ اس کی کوئی مخلوق کسی پہلو سے اس کو بڑا کرے۔ آیت کے مطابق انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اللہ کی عظمت کو اپنے دل اور دماغ میں اتارے۔ اللہ کی عظمت کا احساس اس کی روح کے اندر تیرنے لگے۔ اپنے چھوٹا ہونے اور اللہ کے بڑا ہونے کا عرفان اس کو انسان اصلی یعنی مین کٹ ٹو سائز بنا دے۔

یہی تکبیر رب کا مطلب ہے۔ مذکورہ آیت کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ "اور اپنے رب کی بڑائی کرو" یا "اپنے رب کی بڑائی بول" یا "اپنے رب کی بڑائی بیان کر"۔ اس ترجمے کے مطابق آیت میں جس تکبیر رب کا ذکر ہے، اس کا تعلق کسی خارجی سیاست سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق آدمی کی اپنی داخلی کیفیت سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کا دماغ اللہ کی عظمت کو شعوری طور پر دریافت کرے۔

اس کا دل اللہ کی عظمت کے احساس سے تڑپ اٹھے۔ اللہ کی عظمت کا اعتراف اس کی زبان پر جاری ہو جائے۔ یہی وہ تکبیر رب ہے جس کا قرآن میں حکم دیا گیا ہے۔ نمبر دو: قرآن کے آغاز میں یہ آیت آئی ہے: «ذَٰلِكَ الْكِتَابُ الْعَرِيبُ فِيهِ» البقرہ 2۔

یعنی یہ کتاب الہی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ یا یہ کہ یہ کتاب ایسی ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ اس آیت کی نحوی ترکیب میں کچھ اختلاف ہے۔ تاہم، ہم تاہم ہر مفسر نے یہاں "کتاب" کو "کتاب" ہی کے معنی میں لیا ہے۔

اس کے بارے میں ایک صاحب نے لکھا ہے کہ وہ تمام ترجمے غلط ہیں جن میں "ذَٰلِكَ الْكِتَابُ" کا ترجمہ "کتاب" سے کیا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک قرآن تمام علوم کا خزانہ ہے۔ اس لیے "ذَٰلِكَ الْكِتَابُ" کا سب سے قریبی ترجمہ یہ ہو سکتا ہے کہ یہ ایک انسائیکلوپیڈیا ہے۔ یہ ترجمہ یقینی طور پر رائے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، نہ کہ حقیقی علم کی بنیاد پر۔

اس لیے کہ انسائیکلوپیڈیا ایسی کتاب کا نام ہوتا ہے جس میں ہر قسم کی معلومات یکجا کی گئی ہوں۔ مگر قرآن انسائیکلوپیڈیا مفہوم میں معلومات کا مجموعہ نہیں، اس کے بجائے وہ علم اور معرفت کا مجموعہ ہے۔ وہ خزانہ حکمت ضرور ہے، مگر وہ معرفت، وہ خزانہ حکمت ضرور ہے، مگر وہ معروف معنی میں خزانہ معلومات نہیں۔ مثال کے طور پر اسلام کا کلمہ "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" ہے، مگر قرآن میں یکجائی طور پر کہیں یہ کلمہ موجود نہیں۔

اسلام میں پانچ، اسلام میں نماز پانچ وقتوں کے لیے فرض کی گئی ہے، مگر پانچ کے عددی تعین کے ساتھ قرآن میں نماز کا حکم موجود نہیں۔ انسائیکلوپیڈیا میں جن اشخاص کا ذکر آتا ہے، اس میں سال پیدائش اور سال وفات کے ساتھ ان کا ذکر آتا ہے، مگر قرآن میں پیغمبر اسلام نیز دوسرے پیغمبروں میں سے کسی بھی پیغمبر کی سال پیدائش یا سال وفات مذکور نہیں۔ اس طرح کی ہزاروں معلوماتی باتیں ہیں جن سے قرآن کے صفحات خالی ہیں۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں "کتاب" کا ترجمہ انسائیکلوپیڈیا کے لفظ سے کرنا ایک ذاتی उपज ہے۔

اس کے حق میں کوئی علمی بنیاد موجود نہیں۔ نمبر تین: قرآن میں ایک حکم وہ ہے جو عقیم الدین الشوری 13 کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ اس آیت کا سادہ ترجمہ یہ ہے کہ "تم الدین کو قائم کرو"۔ کچھ لوگوں نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس آیت میں "الدین" سے مراد قرآن و حدیث میں وارد شدہ تمام شرعی اور دینی احکام ہیں۔

اور اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان تمام شرعی اور دینی احکام کو ایک مکمل نظام کے طور پر دنیا میں نافذ کرو۔ آیت کی یہ تفسیر بلاشبہ تفسیر بالرائے کے حکم میں آتی ہے، کیونکہ وہ قرآن فہمی کے واضح اصولوں کے خلاف ہے۔ مثال کے طور پر اس آیت میں صراحتاً اس حصہ دین کی اقامت کا حکم دیا گیا ہے جو حضرت نوح کو اور حضرت ابراہیم کو اور حضرت موسیٰ کو اور حضرت عیسیٰ کو اور حضرت محمد کو مشترک طور پر دیا گیا۔ اس مخصوص انداز بیان کی بنا پر تمام مفسرین نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ یہاں "الدین" سے مراد صرف دین کی اثاثی تعلیمات ہیں۔

کیونکہ مختلف پیغمبروں کا مشترک دین یہی اثاثی تعلیمات تھیں۔ جہاں تک تفصیلی شرائع کا تعلق ہے، وہ نص قرآنی المائدہ 48 کے مطابق مختلف پیغمبروں کے یہاں مختلف تھیں۔ اس آیت میں جو حکم دیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ "الدین کو قائم کرو اور اس میں متفرق نہ ہو" الشوری 13۔ چونکہ دین کی مشترک پیروی صرف اثاثی دینی تعلیمات ہی میں ہو سکتی ہے، اس لیے یہاں صرف اثاثی دینی تعلیمات کو اقامت کے تحت سمجھا جائے گا۔

تمام شرائع کو اس کے تحت لینے کی صورت میں تفرق لازم آئے گا۔ یعنی وہی چیز جس سے آیت میں منع کیا گیا ہے۔ کتاب مسائل اجتہاد مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 54۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.