Maulana Wahiduddin Khan
12 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Inqilabi zahen ki zarurat.

Urdu · 12 min

انقلابی ذہن کی ضرورت: شاہ ولی اللہ دہلوی وفات 762 نے اپنی کتاب "عقد الجید" میں اجتہاد اور مجتہد کے مسئلے پر کلام کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مجتہد وہ ہے جس کے اندر 5 قسم کے علوم موجود ہوں: کتاب اللہ کا علم، سنت رسول اللہ کا علم، علمائے سلف کے اقوال یعنی ان کے اتفاقات اور اختلافات کا علم، زبان کا علم، اور قیاس و استنباط کا علم۔ المجتهد من جمع خمسة أنواع من العلم: علم كتاب الله عز وجل، وعلم سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأقاويل علماء السلف من اجماعهم واختلافهم، وعلم اللغة، وعلم القياس. وعلم اللغة، وعلم القياس. شاہ ولی اللہ دہلوی اور دوسرے علماء نے مجتہد کی جو شرطیں لکھی ہیں، وہ بجائے خود درست ہیں، مگر یہ شرطیں صرف مقید اجتہاد کے لیے کارآمد ہیں۔

غیر مقید اجتہاد کے لیے یہ شرطیں کافی نہیں۔ اصل یہ ہے کہ اجتہاد کی دو قسمیں ہیں: ایک عام اجتہاد اور دوسرا خاص اجتہاد۔ عام اجتہاد سے مراد وہ اجتہاد ہے جو احوالِ ظاہری سے تعلق رکھتا ہو، اور خاص اجتہاد سے مراد وہ اجتہاد ہے جس کا تعلق احوالِ باطنی سے ہے، یعنی وہ حالات جو اوپری سطح، یعنی فیس ویلیو پر دکھائی نہ دیتے ہوں مگر وہ گہری سطح، یعنی انڈر کرنٹ میں موجود ہوں۔ ان دونوں کے فرق کو اس طرح بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ اجتہاد عام کا تعلق بصارت سے ہے اور اجتہاد خاص کا تعلق بصیرت سے۔

مثال کے طور پر اگر مجتہد کے سامنے یہ مسئلہ ہو کہ مسح علی الخفین یعنی چمڑے کے موضوع پر مسح کی جو رعایت شریعت میں دی گئی ہے، کیا وہ رعایت موجودہ زمانے کے صنعتی موضوعوں پر بھی ہے؟ تو اس قسم کے اجتہاد کے لیے مذکورہ پانچ علوم کی واقفیت کافی ہے۔ اسی طرح اگر یہ سوال ہو کہ انجکشن کی سوئی جسم میں داخل ہونے سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں، تو اس مسئلے کا حکم معلوم کرنے کے لیے بھی مذکورہ پانچ علوم میں واقفیت کافی ہو سکتی ہے۔ ایسا آدمی اپنے اس علم کی بنیاد پر قدیم فقہی ذخیرے میں ایک ایسا جزئیہ پا سکتا ہے جس میں فقیہ نے یہ فتویٰ دیا ہو کہ بچھو کسی کے جسم میں ڈنگ داخل کر دے تو اس کی وجہ سے اس کا وضو ٹوٹے گا یا نہیں۔

مگر اجتہاد خاص کے لیے مذکورہ پانچ شرطوں کے علاوہ ایک اور شرط لازمی طور پر ضروری ہے۔ یہ مزید شرط حدیث کے الفاظ میں یہ ہے: وعلی العاقل أن يكون بصيرا بزمانه. جامع العلوم والحکم، ابن رجب الحنبلی، صفحہ 98۔ یعنی دانا شخص پر لازم ہے کہ وہ اپنے زمانے کو جاننے والا ہو۔

حدیث میں جس مزید شرط کا ذکر ہے، اس کو ایک لفظ میں حالاتِ زمانے سے واقفیت کہا جا سکتا ہے۔ یعنی مجتہد جس زمان و مکان میں اجتہاد کر رہا ہے، اس زمان و مکان سے وہ بھرپور واقفیت رکھتا ہو۔ وہ تقلیدی علوم میں دستگاہ کے ساتھ غیر تقلیدی علوم پر گہری نظر رکھتا ہو۔ یہ دوسری صلاحیت خارجی معلومات اور غور و فکر اور حقائق کی معرفت کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔

اسلامی تاریخ میں غیر مقید اجتہاد یا تخلیقی اجتہاد کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں۔ اس قسم کی ایک مثال مدنی دور میں کی جانے والی صلح حدیبیہ ہے۔ اس صلح کے وقت بظاہر جو حالات تھے، وہ تمام تر اہل اسلام کے خلاف تھے، کیونکہ یہ دس سالہ ناجنگ معاہدہ مخالفین کی اکثر شرطوں کو مان کر کیا جا رہا تھا۔ صلح کے ظاہری پہلو کی بنا پر اس کو قبول کرنا صحابہ پر سخت گراں گزر رہا تھا، حتیٰ کہ عمر فاروق نے اس معاہدے کو دنیہ یعنی ذلت قرار دیا۔

اس معاملے کی حقیقت قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے۔ قرآن میں اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا. الفتح 27۔ اس آیت کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے کہ "پس جانا اللہ نے جو کچھ نہ جانا تم نے"، مگر اس کا مطلب یہ ہے کہ تم صرف دکھائی دینے والی باتوں کو جانتے تھے، مگر اسی کے ساتھ کچھ بظاہر نہ دکھائی دینے والی باتیں بھی وہاں موجود تھیں۔

اور اللہ کی رہنمائی سے اللہ کے رسول نے ان بظاہر نہ دکھائی دینے والی باتوں کی بنیاد پر صلح کا یہ معاہدہ کیا۔ حدیبیہ کے وقت ظاہری باتیں تو یہ تھیں کہ یہ صلح مخالفین کی اکثر شرطوں پر کی جا رہی تھی، مگر غیر ظاہری یعنی انڈر کرنٹ بات یہ تھی کہ اہل اسلام اور غیر اہل اسلام کے درمیان جنگی حالات کی بنا پر معتدل فضا میں اختلاط یعنی انٹریکشن ختم ہو گیا تھا۔ اب اگر دونوں فریقوں کے درمیان ناجنگ معاہدہ ہو جائے تو معتدل حالات میں لوگ ایک دوسرے سے ملنے لگیں گے، اور دونوں فریقوں کے درمیان کھلا تبادلہ خیال، اوپن ڈائیلاگ شروع ہو جائے گا۔ اس عمل کے دوران اسلام کی خوبیاں اپنے آپ لوگوں کے اوپر ظاہر ہونے لگیں گی، اور وہ واقعہ پیش آئے گا جس کو قرآن میں يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا.

سورہ النصر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ چنانچہ یہی ہوا۔ صلح حدیبیہ کے وقت اہل اسلام کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے بھی کم تھی، مگر اس کے بعد امن کے حالات میں اسلام کی جو اشاعت ہوئی، اس کے نتیجے میں دو سال سے بھی کم مدت میں اہل اسلام کی تعداد دس ہزار تک پہنچ گئی۔ اس کے بعد یہ معجزاتی واقعہ ہوا کہ کسی جنگ کے بغیر صرف عددی طاقت کے ذریعے اہل اسلام کو غلبہ حاصل ہو گیا۔

یہی واقعہ تیرہویں صدی میں ایک اور صورت میں پیش آیا۔ جنگجو تاتاری ہتھیار کی طاقت سے مسلم دنیا میں داخل ہو گئے۔ انہوں نے سمرقند سے حلب تک مسلم بستیوں کو تباہ کیا اور عباسی خلافت کا خاتمہ کر دیا۔ یہ فتنہ اتنا شدید تھا کہ مسلمانوں میں یہ مقولہ مشہور ہو گیا کہ إذا قيل لك أن التتار انهزموا فلا تصدق.

اگر تم سے کہا جائے کہ تاتاری شکست کھا گئے تو تم اس کو نہ ماننا۔ یہ ظاہری صورتحال تھی، مگر اس کی تہ میں ایک اور چیز چھپی ہوئی تھی۔ وہ یہ کہ تاتاری نیزہ اور تلوار کی طاقت ضرور رکھتے تھے، مگر وہ نظریہ حیات یعنی آئیڈیالوجی سے خالی تھے۔ مسلمانوں سے اختلاط کے دوران وہ اسلام کے نظریے سے متعارف ہوئے، چونکہ ان کے پاس اس سے مقابلے کے لیے کوئی جوابی نظریہ موجود نہ تھا۔

وہ تیزی سے اسلامی نظریے سے متاثر ہونے لگے، یہاں تک کہ وہ انقلابی واقعہ پیش آیا جس کو ایک مشہور مستشرق، فلپ کے ہٹی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: "مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کر لی جہاں ان کے ہتھیار ناکام ہو گئے تھے۔ " "The religion of Muslims have conquered where their arms had failed. " اب بعد کے زمانے کو دیکھیے۔ اس سلسلے میں پہلی سبق آموز مثال شاہ ولی اللہ دہلوی کی ہے۔

ان کے زمانے میں ہندوستان کی مغل سلطنت کمزور ہو گئی تھی، اور یہ آثار نظر آنے لگے تھے کہ جلد ہی وہ زوال کا شکار ہو کر ختم ہو جائے گی۔ اس وقت شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی کوشش اس پر لگا دی کہ یہ مسلم سلطنت کسی نہ کسی طرح دوبارہ مستحکم ہو جائے۔ انہوں نے اس وقت کے مسلم حکمرانوں کو جوش دلایا کہ تم لوگ تلوار لے کر اٹھو اور اپنے دشمنوں سے لڑ کر ان کا خاتمہ کر دو۔ دوسری طرف انہوں نے کابل کے حاکم احمد شاہ ابدالی کو ترغیب دی کہ وہ ہندوستان پر حملہ کر کے سکھوں اور مراٹھوں کا زور توڑ دے، تاکہ مغل سلطنت محفوظ ہو کر قائم رہ سکے۔

مگر شاہ ولی اللہ کی یہ کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ اپنے صرف قریبی اور ظاہری حالات کو دیکھتے تھے۔ عالمی اعتبار سے حالات کا جو نیا سیلاب آ رہا تھا، اس سے وہ قطعا بے خبر تھے۔ نئے سیلاب سے میری مراد ڈیموکریسی کا دور ہے۔ شاہ ولی اللہ کا یہ خیال تھا کہ وہ قائم الزماں ہیں، مگر ان کی ساری سوچ جانے والے دورِ بادشاہت میں کام کر رہی تھی۔

آنے والے دورِ جمہوریت میں کیا صورت پیش آئے گی، اس سے وہ مطلع نہ ہو سکے۔ دورِ بادشاہت میں ایک شخص پورے ملک کا حاکم ہوا کرتا تھا، مگر دورِ جمہوریت میں عوامی حاکمیت کا اصول رائج ہونے والا تھا۔ اور وہ مسئلہ پیدا ہونے والا تھا جس کو اکثریت کے مقابلے میں اقلیت کا مسئلہ کہا جاتا ہے۔ شاہ ولی اللہ اگر حالات کے رخ کو دیکھ پاتے تو وہ اپنی ساری طاقت دعوت کے محاذ پر لگا دیتے، جس میں گویا اقلیت کو اکثریت میں بدلنے کا راز چھپا ہوا تھا۔

دعوت کا مطلب یہ تھا کہ مغل سلطنت اگر ختم ہو جائے، تب بھی اہل اسلام اپنی عددی برتری کے زور پر غالب حیثیت کے حامل ہوں گے۔ مگر شاہ ولی اللہ دہلوی دعوت کی اس انقلابی اہمیت سے بالکل بے خبر تھے، حتیٰ کہ ان کی مشہور کتاب "حجت اللہ البالغہ" میں ہر قسم کے ابواب ہیں، مگر "کتاب الدعویٰ" یا "کتاب التبلیغ" اس کے اندر موجود نہیں۔ اب سید جمال الدین افغانی وفات 1897 کی مثال لیجیے۔ ان کے زمانے میں انگریز اور فرانسیسی تقریباً پوری مسلم دنیا پر سیاسی اعتبار سے غالب آ گئے تھے۔

سید جمال الدین افغانی نے اپنی پوری زندگی اس سیاسی غلبے کو ختم کرنے میں لگا دی۔ ان کا نعرہ تھا: الشرق للشرقین یعنی مشرق مشرقیوں کے لیے ہے۔ بظاہر دیکھیے تو آج مغربی قوموں کا سیاسی تسلط ختم ہو چکا ہے، اور تقریباً 60 آزاد مسلم ممالک دنیا کے نقشے پر وجود میں آ چکے ہیں، مگر حقیقی حالات کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں ہوا۔ مسلم قومیں آج بھی اہل مغرب کی بالاداری کے تحت جینے پر مجبور ہیں۔

اس کا سبب یہ ہے کہ سید جمال الدین افغانی حالات کو صرف ظاہر کے اعتبار سے دیکھ سکے۔ وہ گہری حقیقتوں سے آشنا نہ ہو سکے۔ وہ انگریز اور فرانسیسیوں کے غلبے کو صرف سیاسی غلبے کے ہم معنی سمجھتے رہے، مگر یہ اصل معاملے کا صرف ایک ظاہری پہلو تھا۔ اصل حقیقت یہ تھی کہ مغربی قوموں نے علم میں تقدم حاصل کر لیا تھا۔

وہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں مسلمانوں سے آگے بڑھ گئے تھے۔ سید جمال الدین افغانی اپنے قدیم سیاسی ذہن کی بنا پر معاملے کے ان گہرے پہلوؤں کو نہ دیکھ سکے۔ سید جمال الدین افغانی اگر جدید زمانے میں علم کی اہمیت کو سمجھتے تو وہ بیرونی غلبے کو ایک وقتی چیز سمجھ کر نظر انداز کر دیتے، اور اپنی ساری طاقت اس راہ پر لگا دیتے کہ مسلمان علمی اعتبار سے اس طرح آگے بڑھ سکیں جس طرح مغربی قومیں اس میدان میں آگے بڑھ گئی ہیں۔ اگر وہ بے فائدہ سیاسی جہاد کو چھوڑ کر علمی جہاد میں سرگرم ہو جاتے، اور اپنے ساتھیوں کو اس راہ پر لگا دیتے، تو یقینی ہے کہ مسلم ملکوں کی تاریخ اس سے مختلف ہوتی جو آج ہر طرف دکھائی دیتی ہے۔

یہ چند مثالیں بتاتی ہیں کہ مذکورہ پانچ شرطیں مقید اجتہاد کے لیے بلاشبہ کافی ہیں، مگر مقید اجتہاد یا مطلق اجتہاد کے لیے ایک اور شرط لازمی طور پر ضروری ہے، اور وہ ہے زمانے کے حالات سے گہرائی کے ساتھ باخبر ہونا۔ اس مزید شرط کے بغیر جو اجتہاد کیا جائے گا، وہ سراسر بے نتیجہ رہے گا۔ ایسا اجتہاد کبھی ملت کو نتیجہ خیز رہنمائی نہیں دے سکتا۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 48۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.