Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Marifat-e-Ilaahi
Marifat-e-Ilaahi

Marifat ka darwaza.

Urdu · 2 min

معرفت کا دروازہ۔ معرفت کا تعلق مفروضہ قسم کے رومانوی عشق سے نہیں ہے؛ معرفت کا تعلق اس بات سے ہے کہ آدمی گہرائی کے ساتھ یہ محسوس کرنے لگے کہ اس کا مستقبل تمام تر صرف ایک اللہ سے وابستہ ہے۔ اس کی محبوب جنت صرف اللہ کے دینے سے ملے گی۔ اسی طرح مبغوض جہنم سے نجات بھی اسی وقت ممکن ہوگی جبکہ اللہ اس کو اس سے نجات دے۔

کسی آدمی کے اندر جب اس قسم کا گہرا شعور پیدا ہو جائے تو اس کے بعد ہی ایسا ہوتا ہے کہ اس کے اوپر معرفت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ معرفت کوئی فلسفیانہ تصور نہیں؛ معرفت لازمی طور پر ہر آدمی کے ذاتی انٹرسٹ سے جڑی ہوئی ہے۔ اعلیٰ معرفت کا حصول صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے جبکہ آدمی ایک طرف فکری سطح پر معرفت کو دریافت کرے، نظریاتی اعتبار سے آدمی یہ جان لے کہ معرفت کے سوا کوئی اور چیز اس کی حقیقی منزل نہیں بن سکتی۔ آدمی کا ذہن پوری طرح اس کی صداقت پر مطمئن ہو جائے۔

دوسری طرف یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی کا ذاتی انٹرسٹ مکمل طور پر معرفت کے ساتھ وابستہ ہو جائے۔ اس معاملے میں اس کی دریافت اتنی زیادہ بڑھے کہ وہ شدت کے ساتھ محسوس کرنے لگے کہ معرفت کے حصول کے بغیر اس کا وجود بے معنی ہو جائے گا۔ اس کی زندگی اجڑ جائے گی۔ اس کے لیے مستقبل کے تمام امکانات ختم ہو جائیں گے۔

وہ ہر اعتبار سے ناکام و نامراد انسان ہو کر رہ جائے گا۔ جب آدمی کا یہ حال ہو کہ اس طرح وہ فکری اور عملی دونوں اعتبار سے آخری حد تک معرفت کا طالب بن جائے، تو اس کے فوراً بعد یہ ہوتا ہے کہ اس کے اوپر معرفت کے تمام دروازے کھل جاتے ہیں، یہاں تک کہ معرفت کا کوئی بھی دروازہ اس پر بند نہیں رہتا۔ یہی معرفت کا راستہ ہے۔ اس کے سوا کسی اور راستے سے معرفت کی منزل تک پہنچنا ممکن نہیں۔

کتاب "معرفت الہی" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 43۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.