Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Marifat-e-Ilaahi
Marifat-e-Ilaahi

Marifat ki qeemat

Urdu · 3 min

معرفت کی قیمت۔ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے؛ قیمت کی ادائیگی کے بغیر کسی کو اس کی مطلوب چیز نہیں ملتی۔ اسی طرح معرفتِ الٰہی کی بھی ایک قیمت ہے، اور وہ قیمت طالبِ معرفت کی خود اپنی ذات ہے۔ اس سے کم کوئی چیز معرفت کی قیمت نہیں بن سکتی۔

خدا کی معرفت کسی آدمی کو ہمیشہ اپنی نفی کی قیمت پر ملتی ہے؛ اپنی نفی نہیں تو خدا کی معرفت بھی نہیں۔ اپنی نفی کا مطلب نام نہاد قسم کی پراسرار ورزشیں نہیں؛ یہ معاملہ تمام تر غور و فکر کے ذریعے انجام پاتا ہے، نہ کہ روحانیت کے نام پر کچھ جسمانی ورزشوں کے ذریعے۔ نفیِ خویش یعنی سیلف نیگیشن کیا ہے؟ نفیِ خویش یہ ہے کہ آدمی رب العالمین کو اس طرح دریافت کرے کہ اس کے مقابلے میں اس کو خود اپنا وجود سرتاسر بے حقیقت نظر آنے لگے۔

نفیِ خویش کا مزاج دراصل عجز، تواضع، اعتراف، محاسبہ، بے نفسی، سادگی، خدا ترسی، جہنم کا خوف اور جنت کا اشتیاق جیسی صفات کے ذریعے پیدا ہوتا ہے۔ یہ صفات متصوفانہ ریاضت کے ذریعے بیدار نہیں ہوتیں، بلکہ وہ ہمیشہ فکری عمل یعنی تھنکنگ پراسیس کے ذریعے کسی شخص کو حاصل ہوتی ہیں۔ نفیِ خویش کا عمل حقائقِ ربانی کی گہری دریافت کے بعد شروع ہوتا ہے، اور وہ زندگی کے آخری لمحے تک برابر جاری رہتا ہے۔ نفیِ خویش دراصل اپنی حقیقتِ واقعی کی دریافت کا دوسرا نام ہے۔

اپنی حقیقت کے اعتبار سے انسان کچھ بھی نہیں ہے؛ ایک معمولی حادثہ اس کے لیے ناقابلِ برداشت بن جاتا ہے۔ کسی بھی چیز کا علم اس کو یقین کے درجے میں حاصل نہیں۔ انسان ہر لمحہ خارجی اسباب کا محتاج ہے۔ انسان کے وجود کا کوئی بھی حصہ کسی بھی وقت اپنا فطری کام کرنا بند کر سکتا ہے۔

انسان نہ اپنی زندگی کی حقیقت کو جانتا اور نہ اپنی موت کی حقیقت کو جانتا۔ انسان بہت سی چیزیں چاہتا ہے، لیکن کسی بھی چیز پر اسے کوئی قدرت حاصل نہیں۔ انسان بظاہر آزاد ہے، لیکن ارادہ یعنی ول کے سوا ہر اعتبار سے وہ مجبور ہے۔ انسانی وجود کے ان تمام پہلوؤں کے شعور ہی کا دوسرا نام نفیِ خویش ہے، اور یہی نفیِ خویش معرفت کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

نفیِ خویش ایک اعتبار سے خدا کو قادرِ مطلق کی حیثیت سے دریافت کرنے کا نام ہے، اور دوسرے اعتبار سے اپنے آپ کو عاجزِ مطلق کی حیثیت سے دریافت کرنے کا نام۔ کتاب "معرفتِ الٰہی"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 42۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.