بے یقینی نہیں۔ ہدایت کے معاملے میں خدا کا ایک قانون وہ ہے جس کو سورہ الانعام میں قانونِ التباس کہا گیا ہے، سورہ نمبر 6 آیت 8۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر چیز میں شبہ کا ایک عنصر، ایلیمنٹ آف ڈاؤٹ، موجود ہوتا ہے۔ یہ قانون مصلحتِ امتحان کی بنا پر ہے۔
جو شخص شبہ کے اس پردے کو پھاڑ سکے، وہ سچائی کو پائے گا۔ اور جو شخص شبہ کے اس پردے کو پھاڑنے میں ناکام رہے، وہ سچائی کو پانے میں بھی ناکام رہے گا۔ کوئی بھی دوسری چیز اس معاملے میں آدمی کو بچانے والی نہیں۔ معرفت کا معاملہ بھی یہی ہے۔
جو آدمی معرفت کے سفر کا مسافر بنے، اس کو بار بار ایسی صورتحال کا سامنا پیش آئے گا، جبکہ وہ محسوس کرے گا کہ وہ شبہ اور یقین، ڈاؤٹ اینڈ کنوکشن، کے درمیان ہے۔ وہ ایک چیز پر یقین کرنا چاہتا ہے، لیکن اسی کے ساتھ کچھ ایسے اسباب بھی ہیں جو اس کو شبہ کی طرف لے جاتے ہیں۔ وہ ایک چیز کو ماننا چاہتا ہے، لیکن وہ اس کو مان نہیں پاتا۔ تذبذب، یعنی ہیزیٹیشن، کی یہ حالت اکثر لوگوں پر گزرتی ہے۔
یہ تذبذب معرفت کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جب بھی کوئی شخص تذبذب کی کیفیت کا شکار ہوتا ہے تو ہمیشہ اس کے سامنے دو حالتیں ہوتی ہیں۔ ایک طرف عقل، یعنی ریزن کی سطح پر، وہ محسوس کرتا ہے کہ فلاں چیز علمی معیار پر بالکل درست ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ اپنے روایتی خیالات کی بنا پر وہ اس شک میں رہتا ہے کہ کہیں اس کے اندر کوئی غلطی نہ ہو۔
علمی طور پر مدلل ہونے کے باوجود وہ موعوم شبہ کی بنا پر بے یقینی کی حالت میں پڑا رہتا ہے۔ بے یقینی کی یہ حالت کسی کے لیے عذر نہیں بن سکتی۔ معرفت کے طالب کے لیے ضروری ہے کہ وہ تذبذب کی اس حالت سے نکلے۔ وہ شبہ کے مقابلے میں علم کو ترجیح، یعنی پرائیورٹی دے۔
وہ بے ثبوت شک کی فضا سے باہر آئے۔ وہ ثابت شدہ چیز پر یقین کرتے ہوئے اس کو اختیار کر لے۔ یہ معرفت کے حصول کی لازمی شرط ہے۔ کتاب: معرفت الہی، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 18۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.