Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Marifat-e-Ilaahi
Marifat-e-Ilaahi

Marifat ke do pahlu.

Urdu · 2 min

معرفت کے دو پہلو۔ خدا کی معرفت کے دو پہلو ہیں: محبت اور خشیت۔ خدا ایک طرف رحیم ہے اور دوسری طرف وہ عادل ہے۔ انسان جب خدا کی بے پایاں رحمت کو سوچتا ہے تو اس کے اندر وہ کیفیت پیدا ہوتی ہے جس کو قرآن میں "اشدّ حبّا لله" سورہ نمبر 2 آیت 165 کہا گیا ہے، یعنی اللہ سے بہت زیادہ محبت کرنے والے۔

اسی طرح جب ایک انسان خدا کے عادل ہونے کو سوچتا ہے تو اس کے اندر وہ کیفیت پیدا ہوتی ہے جس کو قرآن میں "ولم یخشَ إلا الله" سورہ نمبر 9 آیت 18 کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ مومن کی شخصیت انہی دو کیفیات کے ذریعے بنتی ہے: ایک طرف وہ اپنے رب سے بہت زیادہ محبت کرنے والا ہوتا ہے، اور دوسری طرف وہ اپنے رب سے بہت زیادہ ڈرنے والا ہوتا ہے۔ خدا کی محبت ایک ایسی محبت ہے جو سراپا درد سے بھری ہوتی ہے۔ اسی طرح خدا سے خوف ایک ایسا خوف ہے جو محبت کے جذبات سے معمور ہوتا ہے۔

یہ ایک ایسا تعلق ہے جس میں آدمی جس ہستی سے پانے کی امید رکھتا ہے، اسی ہستی کے بارے میں اس کو یہ اندیشہ بھی ہوتا ہے کہ وہ کہیں اپنی رحمتوں سے اس کو محروم نہ کر دے۔ یہ محبت اور خوف کا ایک ایسا امتزاج ہے جس کو محسوس کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ یہی اعلیٰ معرفت کی پہچان ہے۔ اعلیٰ معرفت سکون بھی ہے اور تڑپ بھی۔

اعلیٰ معرفت امید بھی ہے اور خوف بھی۔ اعلیٰ معرفت یقین بھی ہے اور بے یقینی بھی۔ اعلیٰ معرفت قربت بھی ہے اور دوری بھی۔ اعلیٰ معرفت ایک ایسا مقام ہے جہاں بندے کو کبھی یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ منزل پر پہنچ گیا، اور کبھی اس کو یہ شبہ ہوتا ہے کہ وہ ابھی راستے میں سرگرداں ہے۔

کبھی وہ اس احساس سے دوچار ہوتا ہے کہ وہ فل اسٹاپ تک پہنچ گیا، اور کبھی وہ اس شک میں مبتلا رہتا ہے کہ ابھی وہ کاما کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ محبت اور خشیت کی انہی کیفیات کا نام معرفت ہے۔ کتاب "معرفت الہی" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 7۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.