Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Marifat-e-Ilaahi
Marifat-e-Ilaahi

Marifat ek zati daryaaft.

Urdu · 3 min

معرفت ایک ذاتی دریافت ہے۔ قرآن میں ہزار سے زیادہ آیتیں ہیں، ان میں ایک آیت وہ ہے جو قرآن کی سب سے زیادہ لمبی آیت ہے۔ یہ سورہ البقرہ کی آیت نمبر 282 ہے۔ یہ آیت قرض، ڈیتھ کی کتابت (رائٹنگ) کے بارے میں ہے۔

اس آیت میں نہ صرف قرض کے معاملے کی کتابت کا حکم ہے، بلکہ اس کی جزئی تفصیلات تک اس میں بتائی گئی ہیں۔ اس کے برعکس معاملہ معرفت کا ہے۔ قرآن میں معرفت کا ذکر ہے، لیکن اس میں کہیں بھی معرفت کی تفصیلات (ڈیٹیلز) بیان نہیں کی گئی ہیں۔ معرفت کا مادہ روٹ عین را ف ہے۔

اس کے مشتقات (ڈیرائیویٹوز) قرآن میں تقریباً 70 بار آئے ہیں، مگر کہیں بھی معرفت کی تفصیل مذکور نہیں۔ مثال کے طور پر قرآن کی سورہ المائدہ میں یہ آیت آئی ہے: وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيدُ مِنَ الْدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ سورہ نمبر 5، آیت 83۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ ایک گروہ کو کلام اللہ سن کر معرفت ملی۔ لیکن قرآن کے اس بیان سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ متعین طور پر وہ معرفت کیا تھی جو اس گروہ کو حاصل ہوئی۔

قرآن کی ان دونوں آیتوں کے تقابل سے ایک اہم حقیقت معلوم ہوتی ہے، وہ یہ کہ معرفت فقہی مسئلہ جیسی کوئی چیز نہیں ہے جس کو متعین کی زبان، یعنی سپیسیفک لینگویج، میں بیان کیا جا سکے۔ معرفت ایک ایسی چیز ہے جو ذاتی دریافت (self-discovery) کے طور پر کسی کو حاصل ہوتی ہے۔ معرفت یا تو خود دریافت کردہ حقیقت (self-discovered reality) کے طور پر حاصل ہوگی، یا پھر وہ سرے سے حاصل ہی نہ ہوگی۔ معرفت کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے طالبِ معرفت کے لیے وہی طریقہ رکھا ہے جس کو فنِ تعلیم میں "ڈسکوری میتھڈ" کہا جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ معرفت ایک ایسی چیز ہے جس کو آدمی خود اپنے غور و فکر سے دریافت کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، یہ کہ معرفت ایک اجتہادی موضوع ہے، وہ تقلیدی موضوع نہیں۔ معرفت کے حصول کے لیے تخلیقی ذہن (creative mind) درکار ہے۔ معرفت کسی شخص کو لمبی فکری جدوجہد کے بعد حاصل ہوتی ہے۔

معرفت ایک ذاتی دریافت ہے۔ معرفت کسی ایسے مقرر کورس کے ذریعے حاصل نہیں ہوتی جو آپ نے کسی شخص کے بتانے سے جانا ہو، جو آپ نے کسی شخص سے بطور تقلید حاصل کیا ہو۔ کتاب: معرفتِ الہی، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 6۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.