← Ma'rifat-e-Qur'anMa'rifat-e-Qur'an
تسخیرِ کائنات
Urdu · 7 min
انسان کے لیے اللہ کی ایک نعمت وہ ہے جس کو تسخیر کہا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی دو آیتیں یہ ہیں: اللَّهُ الَّذِي سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِيَ الْفُلْكُ فِيهِ بِأَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ. وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ، إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ. سورہ نمبر 45، آیت 12 تا 13۔
یعنی اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے سمندر کو مسخر کر دیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں، اور تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو، اور تاکہ تم شکر کرو۔ اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کر دیا، سب کو اپنی طرف سے۔ بے شک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور کرتے ہیں۔ تسخیر کا مطلب ہے کسی چیز کو بزور قابلِ استعمال یا قابلِ انتفاع بنانا۔
اللہ، جو پوری کائنات کا خالق ہے، اس نے کائنات کے ہر چیز کو، اس نے کائنات کے ہر جز کو قوانین فطرت یعنی لاز آف نیچر کا پابند بنا رکھا ہے۔ اس بنا پر یہ ممکن ہو گیا ہے کہ انسان مخلوقات کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرے۔ خدائی قوانین کے ذریعے کائنات اگر اس طرح مسخر نہ ہوتی تو انسان کے لیے اس کو استعمال کرنا ناممکن ہو جاتا۔ اس کی ایک مثال سمندر کی ہے۔
سمندروں کی شکل میں پانی کے جو قدرتی ذخائر ہیں، وہ زمین کے تقریباً تہائی حصہ یعنی 71 فیصد پر پھیلے ہوئے ہیں۔ زمین ایک گول کرہ ہے جو مسلسل طور پر گردش کر رہا ہے۔ جدید سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ایک زبردست قانون فطرت پانی کے ان ذخائر کو زمین پر قائم کیے ہوئے ہے۔ ایک طرف زمین کی غیر معمولی کشش زمین کے ذخائر کو اپنی طرف کھینچے ہوئے ہے، اور دوسری طرف سمندر کے اوپر ہوا کا تقریباً پانچ میل موٹا غلاف ہے جو سمندر کے اوپر دباؤ بنائے ہوئے ہے۔
ان دو طرفہ اسباب کی بنا پر ایسا ہے کہ سمندروں کی گہرائی میں پانی مسلسل طور پر موجود ہے، ورنہ پورا ذخیرہ آب اڑ کر فضا میں تحلیل ہو جاتا۔ یہی معاملہ سمندر میں چلنے والی کشتیوں کا ہے۔ یہاں بھی خدا کا مقرر کیا ہوا ایک قانون فطرت کام کر رہا ہے۔ یہ ایک آبی قانون ہے جس کو آج کل کی زبان میں ہائیڈروسٹکس کہا جاتا ہے، جس کا ایک شعبہ بائنسی ہے۔
بائنسی سے مراد پانی کا ایک انوکھا قانون ہے کہ جب کوئی چیز پانی میں ڈالی جاتی ہے تو وہ پانی کے اندر جتنی جگہ گھیرتی ہے، اسی کے بقدر وہاں اپورڈ پریشر پیدا ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں کشتی پانی کی سطح پر تیرنے لگتی ہے۔ Buoyancy: the upward pressure, by any fluid on a body, partly or wholly immersed therein. It is equal to the weight of the fluid displaced. تسخیر کا دوسرا واقعہ وہ ہے جس کا تعلق بالائی خلا سے ہے۔
زمین کے اوپر جو وسیع خلا ہے، وہ بہت بڑے بڑے نہایت گرم ستاروں سے بھرا ہوا ہے۔ اس لیے اس کو ستاروں کی دنیا یعنی اسٹاری یونیورس کہا جاتا ہے۔ یہ تمام ستارے ہماری زمین سے ایک مقرر دوری پر واقع ہیں۔ یہ مقرر دوری اگر قائم نہ رہے تو ہماری پوری زمین جل کر راکھ ہو جائے۔
زمین کی سطح سے رات کے وقت جب کھلے آسمان کو دیکھا جائے تو اوپر کی فضا میں بہت سے چھوٹے چھوٹے ستارے نظر آتے ہیں۔ یہ ستارے بہت بڑے بڑے ستارے ہیں، لیکن دوری کی وجہ سے وہ چھوٹے نظر آتے ہیں۔ آنکھ سے دیکھنے میں تقریباً دس ہزار ستارے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ستارے وہ ہیں جو ہماری قریبی کہکشاں یعنی ملکی وے سے تعلق رکھتے ہیں۔
اس کے علاوہ وسیع خلا میں بے شمار بڑے بڑے ستارے ہیں جو مسلسل حرکت کر رہے ہیں۔ ایک سو بلین سے زیادہ کہکشائیں یعنی گیلیکسیز ہیں، اور ہر کہکشاں میں تقریباً ایک سو بلین ستارے پائے جاتے ہیں۔ اس وسیع عالمِ نجوم کو انسان اپنی فطری آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری دنیا میں ایسے مادی اسباب رکھ دیے جن کو انسان دریافت کرے اور ان کو ترقی دے کر طاقتور دوربین یعنی ٹیلیسکوپ بنائے۔
چنانچہ موجودہ زمانے میں خلائی دوربین کو استعمال کر کے انسان بے شمار ستاروں اور کہکشاؤں کو دیکھتا ہے۔ سمندروں اور حیوانات کے معاملے میں، تسخیر کا مطلب یہ تھا کہ انسان قانون فطرت کو جانے اور اس کی مدد سے ان چیزوں کو اپنی ضرورت کے لیے استعمال کرے۔ عالمِ نجوم کے معاملے میں، تسخیر کا مطلب ان کو اپنی ضرورت کے لیے استعمال کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وسیع عالمِ نجوم کو انسان آلات کی مدد سے دیکھے، ان پر غور و فکر کرے۔ وہ غور و فکر کے ذریعے عالمِ نجوم کو اعلیٰ معرفت کے حصول کا ذریعہ بنائے۔
سمندروں اور حیوانات کی تسخیر انسان کی خدمت کے لیے ہے، اور عالمِ نجوم کی تسخیر اس لیے ہے کہ ان کے ذریعے سے آدمی خالق کی عظمت کو دریافت کرے۔ وہ ان میں غور و فکر کر کے اپنے لیے معرفتِ اعلیٰ کا رزق حاصل کرے۔