Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Ma'rifat-e-Qur'an
Ma'rifat-e-Qur'an

کائنات کی معنویت

Urdu · 3 min

کائنات کی معنویت سائنس فطرت، یعنی نیچر کے مطالعے کا نام ہے۔ فطرت میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جن کو ہم کائنات کہتے ہیں۔ سائنسی مطالعے کا آغاز کچھ ابتدائی باتوں سے ہوا، لیکن یہ مطالعہ جتنا زیادہ بڑھتا گیا، اتنا ہی یہ ظاہر ہوتا گیا کہ کائنات ایک بے حد بامعنی کائنات ہے۔ کائنات کی کوئی بھی ایسی تشریح جو کائنات کی معنویت کے اعتراف پر قائم نہ ہو، وہ سائنسی تحقیقات سے مطابقت نہیں رکھتی۔

مثلاً، سائنسی مطالعے کے ذریعے معلوم ہوا کہ کائنات کے اندر ایک ذہین ڈیزائن، یعنی انٹیلیجنٹ ڈیزائن ہے۔ اب اگر یہ مانا جائے کہ کائنات کا ایک ذہین ڈیزائنر، یعنی انٹیلیجنٹ ڈیزائنر ہے، تو کائنات کا نادر ظاہرہ ناقابلِ توجیہ بن جاتا ہے۔ اسی طرح سائنس کے مطالعے نے بتایا کہ ہماری کائنات ایک کسٹم میڈ کائنات ہے، یعنی وہ انسان کی ضرورتوں کے عین مطابق ہے۔ اب اگر ایک ایسے خالق کو نہ مانا جائے جس نے دو الگ الگ چیزوں کے درمیان اس مطابقت کو قائم کیا، تو اس ظاہرے کی کوئی قابلِ فہم توجیہ ممکن نہیں۔

اسی طرح مختلف شعبوں میں، سائنس کا مطالعہ بتاتا ہے کہ کائنات کے مختلف اجزاء آپس میں بے حد مربوط ہیں، اور ان کے درمیان ایک انتہائی فائن ٹیوننگ پائی جاتی ہے۔ تو اس مائنڈ باگلنگ ظاہرے کی ضرور کوئی توجیہ ہونی چاہیے۔ سائنس کوئی مذہبی سبجیکٹ نہیں۔ سائنس کا موضوع خالق کی دریافت نہیں۔

سائنس کا موضوع تخلیق، یعنی کرییشن کی دریافت ہے۔ لیکن خالق، یعنی کرییٹر، تخلیق سے جدا نہ تھا۔ اس لیے تخلیق کا مطالعہ عملاً خالق کا مطالعہ بن گیا۔ سائنس نے اپنے مطالعے کے ذریعے جو چیزیں دریافت کیں، وہ سب خدائی نشانیوں کا اظہار بن گئیں، جن کو قرآن میں آیات اللہ، یعنی سائنس آف گاڈ کہا گیا ہے۔

اس اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ تخلیق کی معنویت کی دریافت، خالق کی معنویت کی دریافت کے ہم معنی ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.