Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Ma'rifat-e-Qur'an
Ma'rifat-e-Qur'an

پوشیدہ جنت

Urdu · 4 min

قرآن میں ہے کہ جو لوگ ایمان والی زندگی گزاریں، ان کے لیے آخرت میں جنت کا انعام ہے۔ اس سلسلے کی ایک آیت یہ ہے: فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ سورہ نمبر 32، آیت 17۔ تو کسی کو نہیں معلوم کہ ان لوگوں کے لیے ان کے اعمال کے صلے میں آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا رکھی گئی ہے۔ اس آیت میں "اُخْفِيَ لَهُمْ" کا لفظ بہت بامعنی ہے۔

اس کا لفظی مطلب ہے: ان کے لیے چھپا کر رکھنا، kept hidden for them۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت مستقبل میں بنائی جانے والی دنیا نہیں ہے، بلکہ آج ہی بنائی ہوئی موجود ہے۔ جس طرح ہماری زمین ایک بالفعل موجود دنیا ہے، اسی طرح جنت ایک ایسی دنیا ہے جو بالفعل موجود ہے۔ سیارہ ارض کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ وہ شمسی نظام، یعنی solar system، کا ایک سیارہ ہے جو ہمارے لیے بذریعہ دوربین، یعنی telescope، قابلِ مشاہدہ ہے۔

لیکن جنت اس طرح ہمارے لیے قابلِ مشاہدہ نہیں۔ کسی بھی دوربین کے ذریعے ہم جنت کو دیکھ نہیں سکتے۔ البتہ سائنسی دریافت نے ہمارے لیے ایک قیاس کا موقع فراہم کیا ہے۔ سائنسی دریافت یہ کہتی ہے کہ اسپیس کا بڑا حصہ ڈارک میٹر کی صورت میں ہے، یعنی وہ اسپیس میں موجود ہے، لیکن ہم اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتے۔

اب جنت پر یقین کرنے کے لیے یہ قیاس قائم کیا جا سکتا ہے کہ جنت کی دنیا غالباً ڈارک میٹر کے درمیان اسپیس میں کسی مقام پر چھپی ہوئی موجود ہو۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس دنیا میں ہر چیز جوڑے کی شکل میں پیدا کی گئی ہے۔ الزاریات 49۔ اس میں یہ اشارہ ملتا ہے کہ ہماری زمین کا بھی ایک جوڑا، یعنی pair ہے۔

اسی سے یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ دوسری دنیا موجودہ زمین کی تکمیل ہے۔ موجودہ دنیا میں کسی بھی انسان کی آرزوئیں پوری نہیں ہوتیں۔ یہاں کسی بھی انسان کو اس کی خواہش کے اعتبار سے fulfillment نہیں ملتا۔ یہ صورتحال اس بات کا قرینہ ہے کہ یہی دوسری دنیا شاید وہ دنیا ہے جس کو ابدی جنت کا نام دیا گیا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.