Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Ma'rifat-e-Qur'an
Ma'rifat-e-Qur'an

دورِ مواصلات

Urdu · 4 min

قرآن کی سورہ بنی اسرائیل میں ایک آیت آئی ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ سورہ نمبر 17، آیت 70۔ یعنی ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی، اور ہم نے ان کو خشکی اور دریا میں سوار کیا۔ اس دنیا میں موجود تمام حیوان اپنے پیروں کے ذریعے سفر کرتے ہیں؛ چڑیا کا سفر اپنے پر کے ذریعے ہوتا ہے۔ یہ انسان کی ایک امتیازی خصوصیت ہے کہ وہ خارجی سواری کے ذریعے اپنا سفر کر سکتا ہے۔

موجودہ زمانے میں جدید مواصلات، یعنی ماڈرن کمیونیکیشن کی ایجاد نے سواری یعنی ٹرانسپورٹیشن کے تصور کو بہت بڑھا دیا ہے۔ آج کے انسان کے لیے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ وہ جسمانی حمل و نقل، یعنی فزیکل ٹرانسپورٹیشن سے زیادہ، تیز رفتاری کے ساتھ سفر کرے، اور اسی کے ساتھ افکار کے حمل و نقل، یعنی ٹرانسپورٹیشن آف آئیڈیاز کو بھی نہایت صورت رفتار سے انجام دے سکے۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں براہِ راست طور پر صرف حیوانی مواصلات کا ذکر ہے، مگر بالواسطہ طور پر اس میں ہر قسم کے مواصلات، بشمول مواصلات بذریعے ٹیکنالوجی، کا اشارہ موجود ہے۔ آدمی اگر اس آیت کو اس کے توسیع مفہوم، یعنی ایکسٹینڈڈ میننگ کے ساتھ پڑھے تو یہ آیت اس کے لیے کائناتی معرفت کا ذریعہ بن جائے گی۔

اس آیت میں وہ اللہ کی کائناتی نعمت کو دریافت کرے گا؛ یہ ایک آیت اس کے لیے بلین ٹریلین سے بھی زیادہ معانی کا خزانہ بن جائے گی۔ قرآن معروف معنوں میں کوئی معلوماتی کتاب نہیں، لیکن قرآن کے اندر وہ تمام معلومات موجود ہیں جن کا تعلق معرفت سے ہے۔ یہ معلومات زیادہ تر اشارات کی صورت میں ہیں؛ ان آیتوں پر غور کر کے ان کے اندر چھپے ہوئے معانی کو دریافت کیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ تدبر اور تفکر ہے جس سے معرفت میں اضافہ ہوتا ہے۔

یہی وہ چیز ہے جو آدمی کے ایمان کو یقین کے درجے تک پہنچا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں تدبر کو نصیحت، سورہ صاد آیت 29، کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.