← Ma'rifat-e-Qur'anMa'rifat-e-Qur'an
گرہن، خدائی معجزہ
Urdu · 16 min
گرہن، یعنی اکلپس، ایک فلکیاتی ظاہرہ ہے۔ اکلپس کا لفظ قدیم یونانی زبان کے لفظ "ایکلپسس" سے ماخوذ ہے؛ خلا میں گرہن کے مختلف واقعات ہوتے رہتے ہیں، لیکن معروف طور پر دو قسم کے گرہن کو گرہن کہا جاتا ہے: ایک سورج گرہن، یعنی سولار اکلپس، اور دوسرا چاند گرہن، یعنی لونار اکلپس۔ عام طور پر سورج گرہن سال میں 2 بار یا 3 بار ہوتا ہے، اور چاند گرہن سال میں 2 بار واقع ہوتا ہے۔
چاند گرہن چند گھنٹوں تک رہتا ہے، جبکہ کامل سورج گرہن کچھ منٹ تک رہتا ہے۔ A lunar eclipse lasts for a few hours, whereas a total solar eclipse lasts for only a few minutes at any given place. گرہن کا یہ واقعہ "محکم فلکیاتی قانون" کے تحت پیش آتا ہے، یہاں تک کہ بہت پہلے ان کی خطی پیشنگوئی کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، 2010 میں 15 جنوری کو سورج گرہن ہوا۔
علمائے فلکیات، یعنی اسٹرانومر، کی پیشگی خبر کے مطابق پہلے سے لوگوں کو اس گرہن کا علم تھا۔ گرہن کیا ہے؟ گرہن دراصل "سایہ پڑ جانے" کا دوسرا نام ہے۔ گردش کے دوران جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آ جائے، تو سورج اس آڑ کی بنا پر جزوی یا کلی طور پر دکھائی نہیں دے گا۔
اسی کا نام سورج گرہن ہے۔ اور جب زمین چاند اور سورج کے درمیان آ جائے، تو چاند پر جزوی یا کلی طور پر زمین کا سایہ پڑ جائے گا۔ اسی کا نام چاند گرہن ہے۔ اکلپس، in astronomy, partial or complete obscuring of one celestial body by another as viewed from a fixed point.
Solar eclipses occur when shadow of Moon falls on Earth, which happens 2 or 3 times per year. Lunar eclipses occur when shadow of Earth falls on Moon, at most 2 seen per year. قدیم زمانے میں گرہن کے بارے میں عجیب قسم کے توہماتی عقائد قائم تھے۔ مثلاً کچھ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ آسمان میں ایک بہت بڑا اژدہا ہے، وہ کبھی غصہ ہو کر چاند کو نگل لیتا ہے۔
اس وقت چاند گرہن پڑتا ہے۔ اسی طرح کچھ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ زمین پر جب کسی بادشاہ یا کسی بڑے آدمی کی موت ہوتی ہے، تو اس کی وجہ سے سورج پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔ اسی کا نام سورج گرہن ہے، وغیرہ۔ اس قسم کے توہماتی تصورات ہزاروں سال تک قوموں میں رائج تھے، یہاں تک کہ دوربین، یعنی ٹیلیسکوپ، ایجاد ہوئی۔
گلیلیو نے پہلی بار 1609 عیسوی میں دوربین کے ذریعے سیاراتی نظام، یعنی پلانیٹری سسٹم، کا مشاہدہ کیا۔ اس کے بعد دوربین کو ترقی ہوئی اور مزید مشاہدات کیے گئے، یہاں تک کہ معلوم ہوا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن کا تعلق مذکورہ قسم کے توہماتی تصورات سے نہیں ہے؛ یہ تمام تر ایک فلکیاتی مظہر ہے۔ وہ صرف اس لیے واقع ہوتا ہے کہ گردش کے دوران دو خلائی اجسام، یعنی سیلیسٹیئل باڈیز، کے درمیان تیسرا جسم آ جاتا ہے۔ اس کی بنا پر وہاں ایک آڑ قائم ہو جاتی ہے۔
اسی آڑ کی بنا پر پیش آنے والے واقعے کا نام گرہن ہے۔ قدیم زمانے میں گرہن صرف ایک توہماتی، یعنی superstitious، واقعہ بنا ہوا تھا۔ 19ویں صدی عیسوی میں سائنسی مشاہدے کے ذریعے معلوم ہوا کہ یہ سادہ نوعیت کا ایک خلائی واقعہ ہے۔ اس واقعے میں کوئی پراسراریت شامل نہیں۔
گرہن کے موضوع پر موجودہ زمانے میں کثیر تعداد میں کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ چند کتابوں کے نام یہ ہیں: "Eclipses of the Sun and Moon" (1937) by Sir F. W. Dyson، "Eclipse Phenomena in Astronomy" (1969) by F.
Link، "Eclipses in the Second Millennium (BC)" (1954) by G. Vandenberg۔ انسانی تاریخ میں گرہن کے تعلق سے 3 دور ہیں۔ گرہن کی تاریخ کا پہلا دور وہ ہے جبکہ اس معاملے میں توہماتی عقائد کا رواج تھا۔
گرہن کا دوسرا دور اسلام کے ذریعے انسان کے علم میں آیا۔ گرہن کی تاریخ کا تیسرا دور وہ ہے جو موجودہ زمانے میں دوربین کی ایجاد، 1608 عیسوی کے بعد شروع ہوا۔ اسلام نے گرہن کے تعلق سے جو بات بتائی، اس کے مطابق گرہن کا تعلق نہ توہمات سے ہے اور نہ وہ صرف ایک مادی نوعیت کا فلکیاتی واقعہ ہے، بلکہ وہ خالق کائنات کے باشعور تخلیقی نظام کا ایک حصہ ہے۔ وہ خدا کی قدرتِ کاملہ کا ایک مظہر ہے۔
وہ انسان کے لیے خداوندِ عالم کا ایک تعارف ہے۔ گرہن خاموش زبان میں خدا کی حکیمانہ تخلیق کا اعلان کر رہا ہے۔ ہجرت کے بعد کا واقعہ ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم مدینے میں پیدا ہوئے۔
ڈیڑھ سال کی عمر میں، شوال 10 ہجری 632 عیسوی میں، ان کا انتقال ہو گیا۔ اتفاق سے اسی دن سورج گرہن پڑا۔ قدیم توہماتی رواج کے مطابق مدینے کے کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ سورج گرہن پیغمبر کے بیٹے کی موت کی وجہ سے ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بہت ناپسند ہوئی۔
آپ نے لوگوں کو جمع کر کے تقریر کی۔ آپ نے فرمایا: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَٰكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَصَلُّوا صحیح البخاری، حدیث نمبر 1042۔ یعنی سورج اور چاند میں کسی انسان کی موت سے گرہن نہیں لگتا، نہ ہی کسی کی زندگی سے۔ وہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔
جب تم ایسا دیکھو تو نماز پڑھو۔ چاند گرہن اور سورج گرہن خدا کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں؛ یہ دراصل اس معاملے کے اصل معنوی پہلو کی طرف اشارہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چاند گرہن اور سورج گرہن جس طرح ہوتا ہے، اس پر غور کیا جائے تو وہ آدمی کے لیے خدا کی دریافت کا ذریعہ بن جائے گا۔
وہ سادہ طور پر فلکیاتی نشانی کے بجائے زیادہ گہرے معنوں میں خدائی نشانی ثابت ہوگا۔ چاند گرہن یا سورج گرہن ایک انوکھا تخلیقی معجزہ ہے۔ اس کے پیچھے خالق کائنات کی معجزانہ سنائی نظر آتی ہے۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، گرہن اس وقت پیش آتا ہے جبکہ تین خلائی اجسام—زمین، چاند، سورج—گردش کرتے ہوئے ایک سیدھ میں آ جائیں۔
تینوں کے سائز میں بہت زیادہ فرق ہے۔ چاند کو اگر سرسوں کے دانے کے برابر سمجھا جائے تو اس کے مقابلے میں زمین فٹبال کے برابر ہوگی، اور سورج ہمالیہ پہاڑ سے بھی زیادہ بڑا ہوگا۔ یہ تین مختلف سائز کے اجسام حرکت کرتے ہوئے ایسے تناسب سے ایک سیدھ میں آ جاتے ہیں کہ زمین سے دیکھنے والا ان کو یکساں سائز میں دیکھنے لگے۔ جب تینوں کے درمیان چاند ہو تو سورج گرہن واقع ہوگا، اور جب ان کے درمیان زمین ہو تو چاند گرہن واقع ہوگا۔
یہ وسیع خلا میں ایک انتہائی انوکھی پوزیشننگ کا معاملہ ہے۔ It is a uniquely well-calculated positioning of three moving bodies highly unequal in size in the vast space. گرہن، یعنی اکلپس، اس وقت واقع ہوتا ہے جبکہ وسیع خلا کے تین اجرام—زمین، چاند، سورج—انتہائی متناسب دوری کے ساتھ بالکل ایک سیدھ میں آ جائیں۔ یہ ایک انتہائی حیرت ناک ظاہرہ ہے۔
اس کا ذکر کرتے ہوئے انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مقالہ نگار نے لکھا ہے: "ایک انتہائی غیر معمولی توافق کی بنا پر سورج اور چاند کا سائز اور دوری ایسے ہو جاتے ہیں کہ زمین سے بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے گویا کہ دونوں بالکل برابر ہوں۔ " By a remarkable coincidence, the sizes and distances of the Sun and Moon are such that they appear as very nearly the same angular size as the Earth. انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، والیوم 6، پیج 189۔ گرہن کے اس عجیب واقعے کو مقالہ نگار نے محض اتفاق، یعنی coincidence، قرار دیا ہے۔
مگر یہ بالکل غیر منطقی بات ہے۔ اس قسم کا نادر اتفاق اولاً تو ممکن نہیں، اور بالفرض اگر ایسا ہو جائے تو وہ بمشکل ایک بار ہو سکتا ہے۔ لیکن فلکیاتی تاریخ بتاتی ہے کہ گرہن کا یہ واقعہ لاکھوں برس سے اسی طرح پابندی، یعنی regularity، کے ساتھ ہر سال پیش آ رہا ہے۔ اس قسم کی کامل باضابطگی ہرگز اتفاقاً نہیں ہو سکتی؛ یقینی طور پر وہ ایک قادرِ مطلق ہستی کی مسلسل کارفرمائی کے باعث ہی ممکن ہے۔
اتفاق کا لفظ اس حیرت ناک فلکیاتی ظاہرے کی توجیہ کے لیے آخری حد تک ناکافی ہے۔ گرہن خلا میں پیش آنے والے ان بے شمار معجزاتی واقعات میں سے ایک ہے جن کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ سورہ نمبر 36، آیت 38۔ یعنی یہ عزیز اور علیم خدا کا مقرر کیا ہوا اندازہ ہے۔ That is the disposition of the Almighty, the All-Knowing.
وسیع خلا میں بے شمار اجزاء ہیں۔ یہ تمام اجزاء مکمل طور پر خداوندِ عالم کے کنٹرول میں ہیں۔ سیاروں اور ستاروں کی گردش انتہائی حد تک خدا کے مقرر ضابطے کی پابندی میں ہوتی ہے۔ شمسی نظام اسی کا ایک نمونہ ہے جس کے اندر ہماری زمین واقع ہے۔
یہ نظام اپنی خاموش زبان میں اعلان کر رہا ہے کہ اس کائنات کا ایک قادرِ مطلق خدا ہے جو وسیع خلا میں اس پر کامل کنٹرول کیے ہوئے ہے۔ انہی معجزاتی واقعات میں سے ایک گرہن کا واقعہ ہے۔ سورج گرہن اور چاند گرہن ہمارے قریبی مشاہدے کی چیزیں ہیں۔ لوگ اس کو عجوبے کے طور پر یا زیادہ سے زیادہ ایک فلکیاتی کورس کے طور پر دیکھتے ہیں۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کے الفاظ میں وہ خدا کی ایک عظیم نشانی ہے۔ اسی لیے اسلام میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جب گرہن واقع ہو تو لوگ خدا کی عبادت کریں۔ اس عبادت کو صلاۃِ کسوف اور صلاۃِ خسوف کہا جاتا ہے۔ گرہن کے وقت خدا کی عبادت کرنا اس بات کا اعتراف ہے کہ گرہن ایک خدائی ظاہرہ ہے، نہ کہ محض ایک فلکیاتی ظاہرہ۔