موت ہر ایک کے لیے، میرے لیے زندگی اب صرف موت کا انتظار بن کر رہ گئی ہے۔ ایک بوڑھے آدمی نے کہا، میں نے جواب دیا کہ زندگی ہر ایک کے لیے موت کا انتظار ہے، اگرچہ اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے۔ اس معاملے میں ایک بوڑھے کمزور آدمی اور ایک جوان تندرست آدمی میں صرف یہ فرق ہے کہ بوڑھا آدمی جس حقیقت کو مجبورانہ طور پر مانتا ہے، اس کو ایک تندرست آدمی صرف اس وقت جانے گا جب کہ وہ اس پر غور کرے۔ بوڑھے آدمی کے لیے موت ایک مجبورانہ دریافت ہے، اور جوان آدمی کے لیے موت ایک شعوری دریافت ہے۔
ایک امریکی تاجر نے ساری زندگی تجارت کی، اس نے بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کیں، آخر کار وہ 90 سال سے زیادہ عمر تک پہنچ گیا۔ اب اس کو محسوس ہوا کہ اس کا جسم اور اس کا دماغ دونوں کام کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ اب اس کے لیے اگلا مرحلہ صرف یہ ہے کہ وہ ایک دن مر جائے۔ اپنے اس احساس کو اس نے ایک شخص سے ان الفاظ میں بیان کیا: "میں اب نامعلوم دنیا کی طرف ایک فیصلہ کن چھلانگ لگانے والا ہوں۔
" I am going to take a fateful leap into the unknown. یہی انجام ہر پیدا ہونے والے کے لیے مقدر ہے، خواہ وہ بظاہر کمزور ہو یا تندرست، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، خواہ وہ سفید فام ہو یا سیاہ فام، خواہ وہ عالم ہو یا جاہل، خواہ وہ بے زور ہو یا طاقتور۔ ہر ایک کے لیے وہ وقت آنے والا ہے جب کہ وہ موت کے دوسری طرف چھلانگ لگائے، حتیٰ کہ وہ شخص بھی جو موت کا یا موت کے بعد آنے والی زندگی کا انکار کرتا ہو۔ دانشمند انسان وہ ہے جو اس حقیقت کو پیشگی طور پر جان لے۔
اسی حقیقت کو ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: "الْقِيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهُ وَتَمَنَّ عَلَى اللَّهِ." کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 600۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.