Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Kaisa ajeeb pana, kaisa ajeeb khona

Urdu · 4 min

کیسا عجیب پانا، کیسا عجیب کھونا۔ بیسویں صدی کے ربع اول میں انڈیا میں انگریزوں کی حکومت اپنے عروج پر تھی۔ اس زمانے میں انہوں نے دہلی کے اندر ایک نئی دہلی بنائی، اس میں وائس ریگل لاج، پارلیمنٹ ہاؤس، انڈیا گیٹ، بڑی بڑی سرکاری عمارتیں، سڑکوں اور پارکوں کا ایک نیا جال بچھایا گیا۔ نئی دہلی کی یہ دنیا اپنے زمانے کے لحاظ سے اتنی ممتاز تھی کہ اس کو "سیاسی تاج محل" سمجھا جاتا تھا۔

جب یہ سیاسی تاج محل تیار ہوا تو اس زمانے میں فرانس کا ایک لیڈر ہندوستان آیا تھا، وہ بہت پڑھا لکھا تھا، وہ جانتا تھا کہ دنیا میں جمہوری انقلاب آ چکا ہے، اور دوسری بادشاہتوں کی طرح برٹش بادشاہت بھی یقینی طور پر ایک دن ختم ہونے والی ہے۔ چنانچہ اس نے اپنا تاثر ان الفاظ میں بیان کیا: "انہوں نے کیسی شاندار دنیا بنائی ہے، صرف اس لیے کہ وہ اس کو چھوڑ کر چلے جائیں۔ " "What a magnificent world they built to leave. " یہی اس دنیا میں ہر انسان کی کہانی ہے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ کوئی چھوٹا محل بناتا ہے اور کوئی بڑا محل۔

برٹش حکومت کے بنائے ہوئے شاندار سیاسی تاج محل کا انجام آخرکار یہ ہوا کہ برٹش حکمران 15 اگست 1947 کو اسے چھوڑ کر چلے گئے۔ یہی انجام ہر عورت اور ہر مرد کے لیے مقدر ہے، ہر ایک کے لیے لازماً وہ وقت آنے والا ہے جب کہ وہ اپنے بنائے ہوئے محل کو چھوڑ کر تنہا اس دنیا سے چلا جائے۔ یہ واقعہ ہر روز ہمارے سامنے گزرتا ہے، مگر کوئی شخص اس سے نصیحت نہیں لیتا۔ ہر شخص اس طرح جی رہا ہے جیسے کہ جو کچھ ہوا وہ دوسرے کے ساتھ ہوا، میرے ساتھ ایسا ہونے والا نہیں۔

کوئی شخص منہ سے بولے یا نہ بولے، یہ ایک حقیقت ہے کہ اس معاملے میں ہر عورت اور مرد اپنے آپ کو مستثنیٰ سمجھے ہوئے ہے، حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس معاملے میں کسی بھی عورت یا مرد کا کوئی استثنیٰ، یعنی exception، نہیں۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 599۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.