بڑھاپا، موت—انسان ایک بچے کی حیثیت سے پیدا ہوتا ہے، اس کے بعد وہ جوان ہوتا ہے، اس کے بعد اس کے اوپر بڑھاپا آتا ہے، اور آخر میں سو سال کے اندر وہ مر جاتا ہے۔ یہ انجام ہر عورت اور مرد کا ہوتا ہے۔ جوانی کے بعد پہلے جبری بڑھاپا، یعنی کمپلسری ایجنگ، اور پھر جبری موت، یعنی کمپلسری ڈیتھ۔ یہی ہر انسان کی کہانی ہے، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، خواہ وہ حاکم ہو یا محکوم۔
انسان بظاہر بااختیار معلوم ہوتا ہے، لیکن موت کے معاملے میں وہ مکمل طور پر بے اختیار ہے۔ جس طرح زلزلہ بالکل اچانک ایک طرفہ قانون فطرت کے تحت آتا ہے، اسی طرح موت بھی ایک طرفہ طور پر خالق کی طرف سے آتی ہے۔ اس میں کسی بھی انسان کو کوئی دخل نہیں۔ اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ آدمی ہر وقت موت کو یاد کرے، وہ ہر وقت موت کے لیے تیار رہے، وہ ہر وقت اپنا محاسبہ کر کے یہ سوچتا رہے کہ اس نے موت کے بعد کے لیے کیا تیاری کی ہے، موت کے بعد کے حالات کے لیے اس کے پاس کیا سرمایہ ہے۔
لوگ زندگی کی ڈائری لکھتے ہیں، مگر زیادہ اہم یہ ہے کہ ہر ایک موت کی ڈائری لکھے۔ ہر ایک اپنی ڈائری میں یہ ریکارڈ کرے کہ میں نے آج موت کے بارے میں کیا سوچا۔ مثلاً یہ کہ کسی کی موت کی خبر سن کر مجھے یاد آیا کہ مجھے بھی ایک دن اسی طرح مرنا ہے، میں فلاں شخص کی آخری رسوم کی ادائیگی میں وہاں پہنچا، اور جب میں نے دیکھا کہ ایک شخص کا جسم قبر کے گڑھے میں اتارا جا رہا ہے، تو میں نے یاد کیا کہ مجھے بھی اسی طرح قبر کے ایک گڑھے میں دفن ہونا ہے۔ جو آدمی دوسروں کی موت کے واقعے میں خود اپنی موت کو دیکھے، وہی زندہ انسان ہے۔
زندہ انسان اس کا انتظار نہیں کرتا کہ خود اس پر ایک مہلک تجربہ گزرے، اس کے بعد وہ اس سے سبق لے۔ زندہ انسان وہ ہے جو دوسروں پر گزرنے والے تجربات سے نصیحت حاصل کرے۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 597۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.