موت بریک ان ہسٹری: گورنمنٹ محکموں میں ایک قانون ہے جس کو "بریک ان سروس" کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص گورنمنٹ سروس میں ہے، اس کی سروس پر 10 سال ہو چکے ہیں۔ اب اگر وہ باقاعدہ چھٹی لیے بغیر دفتر نہ جائے تو اس کو بریک ان سروس کہا جاتا ہے۔ اب اس کی سروس کا شمار 10 سال پیچھے سے کیا جائے گا، اور وہ 10 سالہ حقوقِ ملازمت سے محروم ہو جائے گا۔
اسی قسم کا ایک اور زیادہ بڑا معاملہ آدمی کے ساتھ پیش آنے والا ہے۔ اس کو بریک ان ہسٹری کہا جا سکتا ہے۔ یہ موت کا معاملہ ہے: ایک شخص پیدا ہو کر اس دنیا میں آتا ہے، وہ عمر بھر جدوجہد کی زندگی گزارتا ہے۔ اس طرح وہ اپنی ایک دنیا کی تعمیر کرتا ہے، وہ اپنی ایک تاریخ بناتا ہے جو اس کی پہچان ہوتی ہے۔
اس تاریخ کے بل پر وہ موجودہ دنیا میں اپنے لیے ایک درجہ حاصل کرتا ہے۔ یہ تاریخ ہر انسان کا سب سے بڑا سرمایہ، یعنی اثاثہ ہے۔ اسی تاریخ کے زور پر وہ موجودہ دنیا میں اپنے حقوق حاصل کرتا ہے۔ اس کے بعد 100 سال سے بھی کم مدت میں اچانک اس کی موت آتی ہے۔
موت اس کو اس کی تاریخ سے پوری طرح جدا کر دیتی ہے۔ اب وہ اپنی تاریخ کو مکمل طور پر اپنے پیچھے چھوڑ کر ایک ایسی دنیا میں چلا جاتا ہے جہاں اس کی کوئی تاریخ نہیں ہوتی، جہاں وہ اکیلا ہوتا ہے اور اسی کے ساتھ اپنی سابقہ تاریخ سے پوری طرح محروم۔ یہی وہ آنے والا سنگین تجربہ ہے جس کی فکر ہر ایک کو کرنا چاہیے۔ ہر عورت اور مرد کو چاہیے کہ وہ سب سے زیادہ اس آنے والے دن کے بارے میں سوچے، وہ موت کے بعد آنے والے حالات کو سوچ کر موت سے پہلے کے دنوں میں اس کی تیاری کرے۔
بریک ان سروس کی تلافی ہو سکتی ہے، لیکن مذکورہ قسم کے بریک ان ہسٹری کی کوئی تلافی ممکن نہیں۔ بریک ان سروس کی تلافی ہو سکتی ہے، لیکن مذکورہ قسم کے بریک ان ہسٹری کی کوئی تلافی ممکن نہیں، سوا اس شخص کے جو اپنے آپ کو اس کا مستحق بنائے کہ اس کا خالق دوبارہ اس کو اپنی رحمتوں کے سائے میں لے لے۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 596۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.