Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Qiyaamat ka tajriba

Urdu · 7 min

قیامت کا تجربہ: نومبر 1984 میں میرا ایک سفر کاسابلانکا یعنی موراکو کے لیے ہوا تھا۔ 25 نومبر 1984 کی شام کو جہاز نے مجھے کاسابلانکا کے ایئرپورٹ پر اتار دیا۔ اس وقت میں اکیلا تھا۔ یہاں ایک عجیب تجربہ پیش آیا: مجھے ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے بلایا گیا۔

کانفرنس کی طرف سے مجھے ہوائی جہاز کا ٹکٹ تو بھیج دیا گیا تھا، لیکن کاسابلانکا میں مقامِ اجتماع کا کوئی پتہ میرے پاس نہ تھا۔ میرے پاس منتظمینِ کانفرنس کا کوئی نمبر بھی نہ تھا جس کے ذریعے میں ان سے رابطہ قائم کر سکوں۔ میں ایئرپورٹ پر اترا تو وہاں کانفرنس کا کوئی آدمی مجھے ریسیو کرنے کے لیے موجود نہ تھا۔ ایئرپورٹ کے مختلف لوگوں سے میں نے جاننا چاہا تو معلوم ہوا کہ یہ سب لوگ فرانسیسی زبان بولتے ہیں، وہ نہ عربی زبان سمجھتے تھے اور نہ انگریزی زبان۔

کچھ دیر کے لیے مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں یہاں ایک بے جگہ شخص، یعنی displaced person، بن گیا ہوں۔ یہاں نہ میرا کوئی ساتھی ہے، نہ میرے لیے قیام کی کوئی جگہ ہے، نہ میرے لیے زندگی کے دوسرے سامان۔ محسوس ہوا کہ یہ میرے لیے ایک اجنبی جگہ ہے، اور یہاں میں بالکل تنہا ہو گیا ہوں۔ پریشانی کے عالم میں میں ادھر ادھر دوڑتا رہا، لیکن کوئی شخص وہاں میری مدد کرنے والا نہیں ملا۔

آخر کار میں اسی پریشانی کی حالت میں ایئرپورٹ کے باہر آ گیا۔ یہاں میں ایک اجنبی انسان کی طرح کھڑا ہوا تھا، اور کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں کیا کروں اور کہاں جاؤں۔ کچھ دیر کے بعد مجھے نظر آیا کہ ایک آدمی سڑک کے دوسری طرف سے چل کر میری طرف آ رہا ہے۔ وہ میرے پاس آیا اور اردو زبان میں مجھ سے بات کرنے لگا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ ایک پاکستانی مسلمان ہیں اور یہاں کسی سروس کے تحت رہتے ہیں۔ ان کو میرے حالات سن کر مجھ سے ہمدردی ہوئی۔ وہ فرانسیسی زبان جانتے تھے۔ وہ مجھ کو لے کر ایئرپورٹ میں واقع پولیس کے دفتر میں گئے۔

انہوں نے پولیس والوں سے فرانسیسی زبان میں بات کی۔ پولیس والوں نے کہا کہ اس بارے میں ہمارے پاس کچھ زیادہ معلومات نہیں ہیں، البتہ ہم یہ بتا سکتے ہیں کہ کاسابلانکا کے ہوٹل سفیر میں ایک کانفرنس ہو رہی ہے۔ اس کے بعد مذکورہ پاکستانی مسلمان نے کہا کہ میں صرف یہ کر سکتا ہوں کہ آپ کو اپنی گاڑی میں لے چلوں اور ہوٹل سفیر کے باہر اتار دوں۔ چنانچہ انہوں نے مجھ کو اپنی گاڑی پر بٹھایا اور ہوٹل سفیر کے گیٹ پر مجھ کو چھوڑ کر چلے گئے۔

میں ڈرتے ہوئے ہوٹل کے اندر داخل ہوا۔ اندر داخل ہوتے ہی مجھے کانفرنس کے بعض افراد مل گئے جو مجھ کو پہچانتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں میرے لیے ایک کمرہ ریزرو ہے۔ اس کے بعد انہوں نے مجھ کو ہوٹل کا کارڈ دے کر اس کے کمرہ نمبر 1207 میں پہنچا دیا۔

25 نومبر 1984 کو جو مذکورہ واقعہ میرے ساتھ پیش آیا، وہ میرے لیے قیامت کا ایک محدود تجربہ تھا۔ آدمی پیدا ہونے کے بعد اپنے ماں باپ اور اپنے رشتہ داروں کے درمیان رہتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہے جہاں اس کو فطرت کی طرف سے ایک مکمل قسم کا لائف سپورٹ سسٹم ملا ہوا ہے۔ آدمی اپنا ایک گھر بناتا ہے اور اپنے لیے تمام ضروری ساز و سامان کی ایک دنیا تعمیر کرتا ہے۔

ہر آدمی اپنی بنائی ہوئی دنیا میں آزادی کے ساتھ ایک مطمئن زندگی گزارتا ہے۔ اچانک ایک سنگین واقعہ پیش آتا ہے۔ یہ موت کا واقعہ ہے۔ موت آدمی کو اس کی بنائی ہوئی دنیا سے مکمل طور پر جدا کر کے ایک اور دنیا میں پہنچا دیتی ہے۔

یہاں وہ ان چیزوں سے محروم ہو جاتا ہے جن کے درمیان وہ اپنی تمام ضروریات پوری کرتے ہوئے زندگی گزار رہا تھا۔ اس کے دوست اور رشتہ دار بھی اس سے مکمل طور پر جدا ہو جاتے ہیں۔ اس دوسری دنیا میں آدمی تنہا بھی ہوتا ہے اور پوری طرح بے سروسامان بھی۔ 25 نومبر 1984 کو میرے ساتھ جو تجربہ گزرا، وہ میرے لیے اسی قسم کا ایک محدود تجربہ تھا۔

یہ موت کے بعد آنے والی دنیا کی ایک جزئی تصویر تھی۔ اگلی دنیا کی اس قسم کی جزئی تصویر کبھی نہ کبھی ہر انسان کو دکھائی جاتی ہے، تاکہ وہ موت کے بعد سامنے آنے والے حالات کا پیشگی تعارف حاصل کر لے اور اس کے لیے ضروری تیاری کر سکے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 562۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.