← Kitaab-e-MarifatKitaab-e-Marifat
Maut ke bad
Urdu · 8 min
موت کے بعد؟ موت ہر انسان کے لیے ایک غیر مطلوب واقعہ ہے۔ آدمی لمبی مدت تک جینا چاہتا ہے، مگر وہ اچانک ایک دن مر جاتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آدمی سفر میں تھا، وہ زیادہ دور تک جانا چاہتا تھا، مگر منزل پر پہنچنے سے پہلے موت نے ایک طرفہ فیصلے کے تحت اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔
ایسا کیوں ہوتا ہے؟ یہ ہر عورت اور ہر مرد کا سوال ہے۔ ہر ایک یہ جاننا چاہتا ہے کہ کیوں کر ایسا ہوتا ہے۔ زندگی کیا ہے اور موت کیا؟
کیوں ایسا ہے کہ آدمی زیادہ دن تک جینا چاہتا ہے، مگر اس کو درمیان ہی میں اس کی مرضی کے بغیر موت کے فیصلے کو قبول کرنا پڑتا ہے؟ جب ہم اس معاملے پر غور کرتے ہیں تو ہم کو سب سے پہلا سراغ یعنی کلو ڈی این اے کی جدید دریافت میں ملتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، ہر انسان کے اندر اس کا ڈی این اے بھی موجود ہوتا ہے۔ ہر انسان کا ڈی این اے گویا کہ اس کی شخصیت کا مکمل انسائیکلوپیڈیا ہے۔
اس ڈی این اے کو ڈی کوڈ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ ہماری بڑی سے بڑی انسائیکلوپیڈیا سے بھی سینکڑوں گنا زیادہ بڑا ہے۔ ہر انسان کے ڈی این اے میں اس کی شخصیت یعنی پرسنالٹی کے تمام چھوٹے اور بڑے پہلو موجود ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ ڈی این اے انسانی شخصیت کے صرف ایک پہلو کے اندراج سے خالی ہے۔ کسی انسان کے ڈی این اے کا مطالعہ کر کے اس کے بارے میں ہر بات کو معلوم کیا جا سکتا ہے، مگر صرف ایک بات کو معلوم کرنا ممکن نہیں، اور وہ یہ کہ کسی انسان کی موت کب واقع ہوگی۔
یہ فطرت کی طرف سے اس بات کا اعلان ہے کہ انسان اپنی حیثیت کے اعتبار سے ایک نہ مرنے والی مخلوق ہے۔ انسان کے لیے مسلسل زندگی ہے، حقیقی معنوں میں اس کی شخصیت پر موت وارد ہونے والی نہیں۔ اب یہاں انسانی شخصیت کے ایک اور پہلو کو شامل کر لیجیے، وہ یہ کہ تمام ذی حیات چیزوں میں صرف انسان ہے جو کل یعنی ٹومارو کا تصور رکھتا ہے۔ تمام حیوانات صرف آج یعنی ٹوڈے میں جیتے ہیں۔
کسی حیوان کا کوئی کل نہیں۔ اپنے محدود شعور کے اعتبار سے حیوانات میں سے ہر ایک کا معاملہ یہ ہے کہ وہ آج میں پیدا ہوئے اور آج ہی میں ان کا خاتمہ ہو گیا۔ مگر انسان استثنائی طور پر ایک ایسی مخلوق ہے جو واضح طور پر کل یعنی ٹومارو کا تصور رکھتا ہے۔ اس معاملے میں درست رائے قائم کرنے کے لیے ایک پہلو کو شامل کرنا ضروری ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے، ہر آدمی جو اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے وہ انگنت تمناؤں یعنی ایمبیشنز کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ دوسری حقیقت یہ ہے کہ ہر آدمی اس طرح مر جاتا ہے کہ اس کی تمنائیں پوری نہیں ہوتیں۔ اس اعتبار سے ہر آدمی نامکمل تمناؤں یعنی ان فلفلڈ ڈیزائرز کا کیس ہے۔ کائنات کے عام نظام کو دیکھیے تو یہ واقعہ بالکل بے جوڑ ہے۔
اس وسیع کائنات میں صرف انسان ہے جو اس مسئلے سے دوچار ہے۔ انسان کے سوا کوئی بھی دوسری مخلوق اس مسئلے سے دوچار نہیں۔ یہ صورتحال بتا رہی ہے کہ اس مسئلے کا جواب ہونا چاہیے۔ انسان کی تمناؤں کو اسی طرح فلفلمنٹ ملنا چاہیے جس طرح دوسری مخلوقات کو ملا ہوا ہے۔
یہ صورتحال بتاتی ہے کہ موجودہ دنیا کے بعد ایک اور دنیا آنے والی ہے، یعنی وہ دنیا جہاں انسان اپنی تمناؤں کی کامل تسکین پا سکے۔ اس طرح اس معاملے کا ایک اور پہلو بہت زیادہ اہم ہے، وہ یہ کہ انسان کے اندر فطری طور پر انصاف یعنی جسٹس کا ذہن پایا جاتا ہے۔ انسان فطری طور پر یہ چاہتا ہے کہ اس دنیا میں عدل کے ساتھ فیصلہ ہو، نیک لوگوں کو ان کی نیکی کا پورا بدلہ ملے، اور برے لوگوں کو ان کی برائی کی سزا دی جائے۔ یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔
یہ تقاضا بھی چاہتا ہے کہ ایک دنیا آئے جہاں عدل کا یہ تقاضا پورا ہو۔ کیونکہ موجودہ دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ مذکورہ سوالات کو سامنے رکھ کر سوچا جائے تو آخرت یعنی ہیر آفٹر کا نظریہ بالکل حقیقی نظریہ معلوم ہوتا ہے۔ آخرت کے نظریے کو ماننے کی صورت میں آدمی کو ہر سوال کا مکمل جواب مل جاتا ہے۔
ہر چیز اپنی جگہ پر درست ہو جاتی ہے۔ Everything falls into place. کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 560۔