بڑھاپے کی عمر—حدیث میں آیا ہے کہ اس انسان پر افسوس ہے جس کو 60 سال کی عمر ملی، اس کے باوجود اس نے جنت حاصل نہ کی۔ صحیح البخاری، رقم الحدیث 6419۔ یہ صرف عمر کی بات نہیں ہے، بلکہ اس میں ایک نہایت گہری حقیقت بیان کی گئی ہے۔ وہ گہری حقیقت یہ ہے کہ زیادہ عمر کا مطلب زیادہ تجربہ ہے، اور زیادہ تجربے کے باوجود جو آدمی جنت والا عمل نہ کرے، وہ بلاشبہ ایک بدنصیب انسان ہے۔
اس کا معاملہ ایسا ہی ہے جیسے کسی شخص کو جنت کے گیٹ کے پاس پہنچایا جائے، اس کے باوجود وہ گیٹ کے اندر داخل نہ ہو۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ہر آدمی کو اس دنیا میں صرف محدود عمر حاصل ہوتی ہے۔ آدمی جب پیدا ہوتا ہے، اسی وقت اس کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو جاتا ہے۔ گویا کہ زندگی کا سفر موت کی طرف سفر ہے۔
جب بڑھاپا آتا ہے تو آدمی کے لیے وہ نصف موت کا تجربہ ہوتا ہے۔ بڑھاپے کی عمر قربتِ موت، یعنی near death کے ہم معنی ہے۔ بڑھاپا ہر صبح و شام آدمی کو موت کی یاد دلاتا ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کو چاہیے کہ جب وہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچے تو وہ زیادہ سے زیادہ موت کو اور موت کے بعد آنے والے حالات کو یاد کرے۔
وہ اس حقیقت کو اپنے ذہن میں بار بار تازہ کرے کہ موت سے پہلے وہ اپنے آپ کو قدرت کی حالت میں پاتا ہے۔ موت کے بعد اچانک وہ اپنے آپ کو عجز کی حالت میں پائے گا۔ اس احساس کا تقاضا ہے کہ اس کا دل نرم ہو، وہ خدا کی پکڑ سے ڈرے، وہ آخرت کے اعتبار سے اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ تیار کرے۔ جو آدمی بڑھاپے کی عمر کو پہنچے لیکن وہ اپنے بڑھاپے سے تقویٰ کی خوراک حاصل نہ کرے، وہ بلاشبہ ایک بدنصیب انسان ہے۔
اس کا انجام ابدی بربادی اور ابدی حسرت کے سوا اور کچھ نہیں۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 536۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.