Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Jannat ka mustahiq kaun

Urdu · 7 min

جنت کا مستحق کون؟ جنت خوشیوں اور راحتوں کی ایک ناقابلِ قیاس دنیا ہے۔ جنت صرف اُن لوگوں کو ملے گی جو ناقابلِ قیاس کردار کی قیمت دے کر اس کا استحقاق ثابت کر دیں۔ جنت ابدی خدا کے پڑوس میں ابدی سیٹ حاصل کرنے کا نام ہے۔

سورہ نمبر 54 آیت 55۔ اس قسم کی غیر معمولی اقامت گاہ صرف اُنہی خوش قسمت لوگوں کو مل سکتی ہے جو اس کی اعلیٰ قیمت دینے کا حوصلہ کر سکیں۔ جنت کی ناقابلِ قیاس سیٹ کو پانے کے لیے انسان کو ناقابلِ قیاس عمل کا ثبوت دینا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی ناقابلِ مشاہدہ یعنی unobservable کو قابلِ مشاہدہ یعنی observable بنا سکے۔

وہ زمان و مکان یعنی time and space کے اندر رہتے ہوئے زمان و مکان کے باہر دیکھنے والی نگاہ پیدا کرے۔ وہ الفاظ کے تاریک جنگل میں معانی کی روشنی کو پا سکے۔ وہ خواہشوں کے سمندر میں رہتے ہوئے اپنے آپ کو اس سمندر میں ڈوبنے سے بچائے۔ وہ انانیت یعنی egoism کا پہاڑ ہوتے ہوئے اپنے آپ کو بے انا یعنی ego-less بنا سکے۔

وہ بدخواہ لوگوں کی بھیڑ میں رہتے ہوئے اپنے آپ کو لوگوں کا خیر خواہ یعنی well-wisher بنائے۔ وہ ایک کمزور انسان ہوتے ہوئے ایک طاقتور انسان کا رول ادا کرے۔ وہ کامل آزادی کا مالک ہوتے ہوئے اختیارانہ طور پر اپنے آپ کو surrender کر دے۔ وہ نہ بولے ہوئے الفاظ کو سنے اور نہ دکھائی دینے والی حقیقت کا اعتراف کرے۔

وہ جھوٹ سے بھری ہوئی دنیا میں سچ بولنے کا ثبوت دے۔ وہ بددیانتی یعنی dishonesty کے ماحول میں دیانت داری یعنی honesty کے رویے پر قائم رہے۔ خدا کے فرشتے دن رات سرگرم ہیں کہ وہ اُن لوگوں کی فہرست تیار کریں جو آخرت میں خدا کے پڑوس میں بننے والی جنت میں داخلے کے مستحق قرار پائیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی اعلیٰ معرفت نے اُن کو اس قابل بنایا کہ انہوں نے ہر دوسری چیز سے اپنی توجہ ہٹا کر صرف ایک خدا کو اپنا supreme concern بنا لیا۔

جن کا حال یہ تھا کہ اُن کے شوقِ جنت نے اُن کے لیے دنیا کی ہر پرکشش چیز کو بے کشش بنا دیا۔ خدا کی عظمت یعنی glory of God کے احساس نے جن کے اندر سے فخر یعنی pride اور بڑائی کے تمام جذبات کو مٹا دیا۔ خدا کی پکڑ کے اندیشے نے جن کا یہ حال کیا کہ لذتوں کے درمیان رہتے ہوئے لذتوں سے محظوظ ہونا اُن کے لیے ممکن نہ رہا۔ جن لوگوں کا حال یہ ہوا کہ جو آوازیں دوسروں کے لیے قابلِ سماعت آوازیں تھیں، وہ اُن کے لیے ناقابلِ سماعت آوازیں بن گئیں۔

جن کو دنیا کی ترقی اور دنیا کی محرومی دونوں یکساں طور پر بے معنی نظر آنے لگیں۔ جن کا حال یہ تھا کہ اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنے کے بجائے اُن کے لیے یہ کہنا زیادہ محبوب بن گیا کہ "میں غلطی پر تھا" "I was wrong." جنت ایک حقیقی مقام ہے۔ وہ حقیقی اوصاف کی قیمت ہی پر کسی کو حاصل ہوگا۔ جنت میں وہ انسان بسائے جائیں گے جو ربانی اوصاف کے حامل ہوں۔

جو لوگ موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو ان ربانی اوصاف کا حامل بنائیں، وہی وہ لوگ ہیں جو جنت میں بسائے جانے کے قابل ٹھہریں گے۔ جنت کسی کو پراسرار اسباب کے تحت نہیں ملے گی، بلکہ وہ کامل طور پر معلوم اسباب کے تحت ملے گی۔ اور وہ معلوم اسباب یہی ہیں کہ موجودہ دنیا میں آدمی اپنے آپ کو ان ربانی اوصاف کا حامل بنائے۔ جنت سچے انسانوں کی کالونی ہے۔

موجودہ دنیا میں انہی سچے انسانوں کا انتخاب یعنی recruitment کیا جا رہا ہے۔ موجودہ دنیا کی زندگی میں جو لوگ کامل طور پر سچے انسان ثابت ہوں، وہی جنت کی ابدی دنیا میں بسائے جانے کے قابل ٹھہریں گے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 518۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.