Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Be itminaani ka sabab

Urdu · 3 min

بے اطمینانی کا سبب: موجودہ دنیا میں ہر عورت اور ہر مرد بے اطمینانی، یعنی dissatisfaction، کی نفسیات میں جیتا ہے۔ ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ کھونے کے احساس میں جیتا ہے، نہ کہ پانے کے احساس میں۔ یہ حالت اتنی عام ہے کہ اس میں کوئی استثنا نہیں۔ اس کا سبب کیا ہے؟

اس کا سبب دراصل وہی ہے جس کو "مہجوریِ وطن کا غم" یعنی homesickness کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، انسان جب پیدا کیا گیا تو اس کو جنت میں بسایا گیا تھا، گویا کہ جنت ہی انسان کا وطن ہے۔ اس کے بعد انسان کو جنت سے نکال کر قرہِ ارض یعنی planet Earth پر بھیج دیا گیا۔ اس اعتبار سے گویا کہ تمام انسان جو موجودہ زمین پر ہیں، وہ پناہ گزین یعنی refugees کی حیثیت سے یہاں رہ رہے ہیں۔

یہی لوگوں کی بے اطمینانی کا اصل سبب ہے۔ غیر شعوری طور پر ہر آدمی homesick بنا ہوا ہے۔ کوئی بھی تدبیر اس احساس کو دور کرنے والی ثابت نہیں ہوتی۔ اس مسئلے کا حل صرف ایک ہے، وہ یہ کہ لوگوں کو خدا کے تخلیقی plan یعنی creation plan سے باخبر کیا جائے۔

ان کو بتایا جائے کہ وہ موجودہ زمین پر عارضی مدت کے لیے ہیں۔ اگر انہوں نے حسنِ عمل کا ثبوت دیا تو دوبارہ وہ جنت میں داخلے کی سعادت حاصل کر لیں گے۔ ایک آدمی اپنے وطن جانے کے لیے کسی سواری میں سفر کر رہا ہے۔ دورانِ سفر اس کو مختلف قسم کی پریشانیاں پیش آتی ہیں، لیکن وہ مطمئن رہتا ہے کہ چند گھنٹے کے بعد وہ اپنے وطن میں پہنچ جائے گا۔

اگر لوگ خدا کے تخلیقی plan سے باخبر ہو جائیں تو بھی اسی طرح اپنے آپ کو وقتی مسافر سمجھیں گے۔ مستقبل کی کامیابی کا احساس ان کے حال کی پریشانی کو ان کے لیے غیر اہم بنا دے گا۔ لوگوں کو بے اطمینانی اور ذہنی تناؤ یعنی tension سے نکالنے کی یہی واحد تدبیر ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی تدبیر اس معاملے میں کارگر نہیں ہو سکتی۔

کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 517۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.