Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Jannat ka inaam

Urdu · 4 min

جنت کا انعام موجودہ دنیا اور آخرت کی دنیا کا فرق یہ نہیں ہے کہ موجودہ دنیا میں نماز روزہ کرو اور اپنی خاص طرح کی شناخت یعنی آئیڈنٹیٹی بنا لو، اور اس کے بعد آخرت میں جنت کا انعام حاصل کرو۔ اصل یہ ہے کہ اہلِ ایمان کو موجودہ دنیا میں اپنے اندر مزکّہ شخصیت، یعنی پیوریفائیڈ پرسنالٹی بنانا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ملے گا کہ وہ جنت کی پرکیف سرگرمیوں، یعنی جائفل ایکٹیویٹیز میں پُر اعزاز کردار یعنی رول ادا کرنے کے لیے منتخب کیے جائیں گے۔ جنت صرف ایک عیش کدہ نہیں ہے، بلکہ جنت پر مسرت سرگرمیوں کا ایک وسیع مقام ہے۔

ان سرگرمیوں کو ایک لفظ میں ربانی سرگرمیاں، یعنی ڈیوائن ایکٹیویٹیز کہا جا سکتا ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کی سرگرمیاں محدود مادی سرگرمیاں، یعنی مٹیریل ایکٹیویٹیز تھیں۔ آخرت کی جنت میں انسان کی سرگرمیاں لامحدود ربانی سرگرمیاں ہوں گی، جو ابدی طور پر بلا انقطاع جاری رہیں گی۔ جنت کی یہ اعلیٰ سرگرمیاں منتخب ربانی افراد، فرشتوں کی مدد سے انجام دیں گے۔

ان سرگرمیوں کے دوران جنتیوں کو اعلیٰ دریافتیں ہوں گی، ان کو اعلیٰ روحانی تجربات ہوں گے، ان کو اعلیٰ مشاہدات حاصل ہوں گے۔ وہ وہاں اعلیٰ صحبتوں کا ماحول پائیں گے۔ وہ ایک کائناتی ماحول میں اعلیٰ ربانی کارنامے انجام دیں گے۔ وہ جنت میں نعمت اور اقتدار سورہ نمبر 76 آیت 20 کے ان اعلیٰ درجات کا تجربہ کریں گے جن کا اس دنیا میں تصور نہیں کیا جا سکتا۔

اسی حقیقت کو ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فِيهَا مَا لَا عِينٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ صحیح مسلم، رقم الحدیث 7310۔ یعنی جنت کے اندر وہ چیز ہوگی جس کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، اور نہ کسی کان نے سنا، اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 501۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.