جنت کا انعام موجودہ دنیا اور آخرت کی دنیا کا فرق یہ نہیں ہے کہ موجودہ دنیا میں نماز روزہ کرو اور اپنی خاص طرح کی شناخت یعنی آئیڈنٹیٹی بنا لو، اور اس کے بعد آخرت میں جنت کا انعام حاصل کرو۔ اصل یہ ہے کہ اہلِ ایمان کو موجودہ دنیا میں اپنے اندر مزکّہ شخصیت، یعنی پیوریفائیڈ پرسنالٹی بنانا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ملے گا کہ وہ جنت کی پرکیف سرگرمیوں، یعنی جائفل ایکٹیویٹیز میں پُر اعزاز کردار یعنی رول ادا کرنے کے لیے منتخب کیے جائیں گے۔ جنت صرف ایک عیش کدہ نہیں ہے، بلکہ جنت پر مسرت سرگرمیوں کا ایک وسیع مقام ہے۔
ان سرگرمیوں کو ایک لفظ میں ربانی سرگرمیاں، یعنی ڈیوائن ایکٹیویٹیز کہا جا سکتا ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کی سرگرمیاں محدود مادی سرگرمیاں، یعنی مٹیریل ایکٹیویٹیز تھیں۔ آخرت کی جنت میں انسان کی سرگرمیاں لامحدود ربانی سرگرمیاں ہوں گی، جو ابدی طور پر بلا انقطاع جاری رہیں گی۔ جنت کی یہ اعلیٰ سرگرمیاں منتخب ربانی افراد، فرشتوں کی مدد سے انجام دیں گے۔
ان سرگرمیوں کے دوران جنتیوں کو اعلیٰ دریافتیں ہوں گی، ان کو اعلیٰ روحانی تجربات ہوں گے، ان کو اعلیٰ مشاہدات حاصل ہوں گے۔ وہ وہاں اعلیٰ صحبتوں کا ماحول پائیں گے۔ وہ ایک کائناتی ماحول میں اعلیٰ ربانی کارنامے انجام دیں گے۔ وہ جنت میں نعمت اور اقتدار سورہ نمبر 76 آیت 20 کے ان اعلیٰ درجات کا تجربہ کریں گے جن کا اس دنیا میں تصور نہیں کیا جا سکتا۔
اسی حقیقت کو ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فِيهَا مَا لَا عِينٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ صحیح مسلم، رقم الحدیث 7310۔ یعنی جنت کے اندر وہ چیز ہوگی جس کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، اور نہ کسی کان نے سنا، اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 501۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.