Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Jannat ki qeamat

Urdu · 4 min

جنت کی قیمت؟ جنت ابدی راحتوں کی دنیا ہے۔ وہ کون لوگ ہیں جو موت کے بعد اس قابل ٹھہریں گے کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں جگہ پائیں؟ یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے موت سے پہلے کی زندگی میں، فکری اور عملی اعتبار سے، اپنے آپ کو جنت جیسی معیاری دنیا میں رہنے کا مستحق بنایا ہوگا۔

یہ جنت کا کم تر اندازہ ہے کہ کسی اور چیز کو جنت کی قیمت سمجھ لیا جائے۔ مثلاً یہ ماننا کہ کسی بزرگ کا دامن تھامنے سے جنت مل جائے گی۔ اسی طرح کسی گروہ سے وابستہ ہونا، کچھ رسمی اعمال کر لینا، کسی مقدس مقام کی زیارت کر لینا، دین کے نام سے کسی دھوم کا مظاہرہ کرنا، حمد اور نعت کے لفظی ترانے اسٹیج پر گانا، اوراد و وظائف میں مشغول رہنا، دین کے نام پر شاندار بلڈنگ بنانا، جلسے اور جلوس کے ہنگامے کھڑے کرنا—اسلام کو اپنے لیے فخر کی چیز بنا لینا وغیرہ۔ اس قسم کی کسی چیز کا کوئی تعلق جنت سے نہیں۔

اس قسم کی کوئی بھی چیز آدمی کو ہرگز جنت میں لے جانے والی نہیں۔ جنت میں صرف وہ لوگ داخل کیے جائیں گے جو جنتی شخصیت لے کر وہاں پہنچیں۔ جنتی شخصیت کو قرآن میں "تزکیہ یافتہ شخصیت" یعنی پیوریفائیڈ پرسنالٹی کہا گیا ہے، سورہ نمبر 20 آیت 76۔ جنتی شخصیت وہ ہے جو جنت کے تقاضوں کی نسبت سے ایک تیار شدہ شخصیت، یعنی پریپیئرڈ پرسنالٹی ہو۔

شخصیت کی یہ تیاری اسی موجودہ دنیا میں ہوتی ہے۔ موجودہ دنیا میں مختلف قسم کے حالات اور تجربات کے دوران آدمی اپنے آپ کو "پاکیزہ شخصیت" بناتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو منفی جذبات سے بچا کر مثبت مزاج پر قائم رکھتا ہے۔ ناموافق حالات کے باوجود وہ اصول پسند بنا رہتا ہے۔

وہ انصاف کی روش سے کبھی نہیں ہٹتا۔ وہ اپنی خواہشوں پر کنٹرول کرتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو آزادی کے غلط استعمال سے بچاتا ہے۔ وہ کسی دباؤ کے بغیر دوسروں کا حق ادا کرتا ہے۔

وہ ہمیشہ سچ بولتا ہے۔ وہ دوسروں کے ساتھ کیے ہوئے وعدوں کو پورا کرتا ہے۔ نہ کوئی ناکامی اس کو مایوس کرتی ہے، اور نہ کوئی کامیابی اس کو سرکش بناتی ہے۔ یہی جنتی شخصیت ہے، اور ایسے ہی لوگ جنت کے باغوں میں جگہ پائیں گے۔

کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 491۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.